...................... .................

امریکی دبائو پر ترکی کا کردوں کیخلاف آپریشن معطل

ترکی کا شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن روکنے پر امریکا سے معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے بعد امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ترکی پر مزید سخت پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔
ایچ ٹی وی پاکستان کے مطابق امریکی پابندیوں نے بالآخر اپنا اثر دکھا دیا اور ترکی نے شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن روکنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔
اس سلسلے میں امریکہ اور ترکی کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ معاہدہ طے پانے کے بعد امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ترکی پر مزید سخت پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔
تفصیلات کے مطابق ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود امریکی نائب صدر مائیک پنس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ترکی نے شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
مائیک پنس کے مطابق ترکی کی افواج آپریشن بہار امن (پیس اسپرنگ) کو 5 روز کیلئے روکنے پر راضی ہوگئی ہیں تاکہ اس دوران شامی کرد ملیشیا اس علاقے سے نکل جائے جسے ترکی سیف زون بنانا چاہتا ہے۔
نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دوران آپریشن بہار امن مکمل طور پر معطل رہے گا اور اس دوران کسی قسم کی عسکری کارروائی نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترکی کی جانب سے آپریشن روکنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اب لاکھوں افراد کی جانیں محفوظ ہوجائیں گی۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی سیاست پر نگاہ رکھنے والے بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کا کردوں کے سر سے اچانک اپنا "دست شفقت” ہٹا لینا اور ترکی کا ان پر حملہ کر دینا امریکا اور ترکی کی ملی بھگت اور ایک سوچی سمجھی سکیم ہے۔

جواب لکھیں