...................... .................

ترکی کو مزید اسلحہ نہیں دیں گے، یورپ

ترکی کی کردوں کے خلاف عسکری کارروائی کے نتیجے میں فرانس اور جرمنی نے انقرہ کو اسلحے کی برآمد روکنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ دھمکیاں اور پابندیاں ہمیں کارروائی سے نہیں روک سکتیں۔
ایچ ٹی وی پاکستان کے مطابق ترکی کی شامی کردوں کے خلاف عسکری کارروائی جاری ہے۔ اس حوالے سے ترکی کے شام پر حملہ کرنے کے معاملے پر فرانس اور جرمنی نے ترکی کو اسلحے کی برآمد فوری طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس حوالے سے جرمنی کے وزیرخارجہ ہیکو ماس کا کہنا تھا کہ ”شام پر ترکی کے حملے کے پیش نظر حکومت ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی نیا اجازت نامہ جاری نہیں کرے گی، کیونکہ یہ اسلحہ شام کے خلاف استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔“
اسی طرح فرانس کی طرف سے بھی ترکی کو اسلحے کی برآمد روکنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا بھی کہنا ہے کہ یہ اسلحہ شام کی کرد کمیونٹی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ فرانس ایک مہم چلائے گا جس میں پورے یورپ کو قائل کیا جائے گا کہ وہ ترکی کو اسلحے کی فروخت روک دیں۔
فرانس اور جرمنی کے اس فیصلے پر ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے اسلحے کی فروخت روکنے اور معاشی پابندیوں کی دھمکیاں ہمیں شام میں کارروائی سے نہیں روک سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے شمال مشرقی شام میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے، ہمیں معاشی پابندیوں اور اسلحے کی فروخت روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی دھمکیوں سے وہ ترکی کو روک سکتے ہیں تو وہ بہت بڑی غلطی کررہے ہیں۔
ایک تقریب سے خطاب میں ترک صدر نے مصر اور دیگر عرب ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ مخلص نہیں، صرف باتیں بناتے ہیں جبکہ ہم ایکشن لیتے ہیں، ہم میں اور ان میں یہی فرق ہے۔
واضح رہے کہ شامی کردوں پر ترک حملوں کے جواب میں شام نے بھی جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے فوجی دستے روانہ کر دیئے ہیں۔

جواب لکھیں