...................... .................

سفید لباس اور دھیمی خوشبو کی رسیا ارم صبا سے گفتگو

انٹرویو: منصور مہدی …..
سفید لباس اور دھیمی خوشبو کی رسیا ارم صبا کو بچپن سے ڈائری لکھنا کا شوق تھا۔ کتابوں کے درمیان ہی پلی بڑھی۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کتابیں مجھ سے براہ راست باتیں کر رہی ہیں، آجکل واصف علی واصف کی کتابیں شوق سے پڑھتی ہوں،ان کی کتابیں مجھے میرے سوالوں کا جواب دیتی ہیں۔
ارم نے تعلیمی میدان میں شروع سے ہی گولڈ میڈل حاصل کرنے شروع کر دیئے تھے،انٹر میں بائیولوجی میں گولڈ میڈل حاصل کیا، بی اے میں فلاسفی میں گولڈ میڈل حاصل کیا، ایم اے میں پنجاب یونیورسٹی سے فلاسفی میں سلور میڈل حاصل کیا۔ فلاسفی میں ماسٹر کرنے والی ارم اب بزنس ایڈمنسٹریشن میں ایم فل کر رہی ہیں۔

طالب علموں کو یہ نہیں پتا چلتا کہ ان کو جانا کہاں ہے؟ کس فیلڈ کا انتخاب کرنا ہے؟ بزنس یا کمپیوٹر سائنس یاآرٹ، ڈیزائن، اگر وہ کسی دیگر فیلڈ میں چلے جاتے ہیں تو پھر وہ خود کی گرومنگ نہیں کرتے، ان کو ڈگری حاصل کرنے کے دوران پرسنالیٹی گرومنگ کی ورکشاپس اور دیگر پروفیشنل کورسز کرنے چاہیے، جن سے ان کو جاب حاصل کرنے میں مدد ملے۔
پنجاب یونیورسٹی سے تدریسی عمل سے منسلک ہونے والی نے پہلے نیو کیمپس میں ماس کمیونیکیشن ، پھر ہیلے کالج پنجاب ہونیورسٹی اور پھر ہجویری یونیورسٹی میں پڑھایا۔ اب نو سال سے  این سی بی اے میں  پڑھا رہی ہیںاور ڈائریکٹر کیریئر ڈویلپمنٹ المنائی ریسورس سینٹر ہیں۔ سٹوڈنٹس کی کیریئر کونسلنگ کرتی ہیں، ان کی جاب انٹرنشپ میں مدد کرتی ہیں۔سیمینارز منعقد کرواتی ہیں جن میں مختلف انڈسٹریز سے لوگ آ کر طالب علموں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
ان سے ملاقات کی روداد قارئین کے پیش نظر ہے۔

اپنی تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انٹر میں گولڈ میڈل بائیولوجی میں حاصل کیا۔بی اے میں  فلاسفی میں گولڈ میڈل اورا یم اے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایم ا ے  کے بعد سی ایس ایس کیا۔لیکن کامیابی حاصل نہیں کی۔ سی ایس ایس کے امتحان سی پہلے ہی پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں تدریسی شعبے سے  منسلک ہو گئی۔پنجاب یونیورسٹی سے فلاسفی میں ماسٹر کیا۔گذشتہسال پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ان بزنسکیا ہے۔ اور اب بزنس ایڑمنسٹریشن میں ایم فل کر رہی ہوں۔
کیریئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟ اس کے حوالہ سے ان کا کہنا ہے کہ کیریر کونسلنگ موجودہ دور کی اشد ضرورت ہے، انھوں نے بتایا کہ طلبا کو اپنا ذہنی رجحان دیکھ کر اپنے کیریر کا انتخاب کرنا چاہیئے۔  اگر وہ اپنی مرضی کے پیشے کا انتخاب کریں گے تو اس میں ان کی کامیابی یقینی ہوگی۔لیکن پہلی بات تو یہ کہ طالب علموں کو یہ نہیں پتا چلتا کہ ان کو جانا کہاں ہے؟ کس فیلڈ کا انتخاب کرنا ہے؟ بزنس یا کمپیوٹر سائنس  یاآرٹ ڈیزائن اگر وہ کسی فیلڈ میں چلے جاتے ہیں تو پھر وہ خود کی گرومنگ نہیں کرتے، وہ صرف ڈگری حاصل کرنے کیلئے  تعلیم حاصل کرتے ہیں، تو ایسی تعلیم ان کو ڈگری کے بعد کوئی فائدہ نہیں دیتی، ان کو ڈگری حاصل کرنے کے دوران پرسنالیٹی گرومنگ کی ورکشاپس اور دیگر پروفیشنل کورسز کرنے چاہیے، جن سے ان کو جاب حاصل کرنے میں مدد ملے ، اگرکوئی بینک یا ٹیلی کام سیکٹر میں طالب علم جانا چاہتا ہے تو اس کو دیکھنا چاہئے کہ اس فیلڈ کی ڈیمانڈ کیا ہے؟ کونسی مہارت اور ہنر اس کو اپنی متعین کردہ فیلڈ میں بڑھنے میں مدد گار ہو گی؟
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ڈگری ہیومن ریسوس کی ہے اور ملازمت مارکیٹینگ کے شعبے میں کرتے ہیں۔ ان کی ڈگری اور جاب میں فرق ان کو آنے والے وقت میں کسی بڑے مسئلے میں ڈال دیتی ہے، ہر سال لاکھوں طالب علم  ڈگری لے کر نکلتے ہیں، لیکن جاب نہیں ملتی،  ان کو  فنی تعلیم حاصل کرنے کی طرف بھی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنا کاروبار کر سکیں اور انہیں  ایسے کورسز کرنے چاہیں کہ وہ تعلیم مکمل کرنے یا دوران تعلیم کچھ نہ کچھکاروبارکریں، گورنمنٹ نوجوان نسل کیلئے کچھ منصوبے دے رہی ہوتی ہے، ان منصوبوں کو بغور جائزہ لینا چاہئے اور کسی نہ کسی منصوبے سے فائدہ اٹھانے چاہیے، ترقی یافتہ ممالک میں کیریئر گائیڈنس کو ایک مستقل شعبے کی حیثیت حاصل ہے ،جس میں سائیکولوجسٹ، سائیکاٹرسٹ، کونسلر اور تھراپسٹ  طلبہ و طالبات کی ذہانت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کیریئر گائیڈنس مہیا کرتے ہیں جس سے ایک طالب علم اپنے لیے صحیح کیریئر کا انتخاب کرتا ہے۔
طلبہ مایوسی اور بے چینی کا شکار کیوں ہے ؟ تو ان کا کہنا تھا تھا غیرمستقل مزاجی نے نہ صرف طلبہ بلکہ تمام انسانوں کو مایوس اور بے چین بنا دیا ہے۔جب انسان مادی ترقی کے حصول  کو اپنا مقصد زندگی بناتا ہے تو روحانیت سے دوری اختیار کرلیتا ہے، تو بے چین رہتا ہے۔ گناہوں کی زیادتی نے انسان سے دعا مانگنے کا سلیقہ چھین لیا ہے، آہ سحر گاہی کی عظیم دولت سے وہ ناآشنا ہے، وہ غم تکلیف کو مصیبت سمجھتا ہے، جبکہ غم تو بہت بڑا سرمایا ہے، یہ کیسی خرد کی روشنی ہے جس نے انسان سے بینائی چھین لی ہے، انسان پہلے اپنا مقصد زندگی تلاش کرے پھر اس مقصد کے  لئے خود کو وقف کر دے۔ دلوں میں جب اضطراب ہو، اندیشے ہوں تو سکون کیسے آے گا۔
اپنے سکون قلب کا کچھ تو اہتمام کر
آس خانہ خدا سے کدورت نکال دے
ارم کا کہنا تھا کہ آج علم بڑھتا جا رہا ہے مگر کردار گرتا جا رہا ہے، انسان کی نظر وسعت زمین وافلاک پر ہے، پر دل کی وسعتوں سے وہ بے خبر ہے۔انسان کے دل کے اندر جو امید کا چراغ جلتا تھا، اسے مایوسیوں کی آندھیوں اور اندیشوں نے بجھا دیا ہے۔
کتابوں سے کتنی محبت ہے؟ تو کہنے لگی کہ علامہ اقبال کے بعد واصف علی واصف سے متاثر ہوں۔ ایم اے کے دوران ایک دوست نے ان کی کتاب تحفہ کی بس وہیں سے ان کی کتابیں پڑھنے کا شوق بیدار ہو، ویسے تو بچپن سے ہی کتابوں سے محبت کرتی رہی ہوں، بچپن میں ہی ڈائری لکھنی شروع کر دی تھی۔
موسیقی کے حوالہ سے جب سوال کیا تو کہنے لگیں کہ موسیقی ،فلم، ڈرامہ سب سے گذشتہ پانچ سال سے بہت دور ہوں۔روحانیت کی طرف رجحان ہے، نعتیں بہت شوق سے سنتی ہوں۔روز صبح کالج جاتے ہوے منظور الکونین کی نعت سنتی ہوں۔
اپنے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سفید لباس اور دھیمی خو شبو پسند ہے۔ میرے بارے میں لوگ کہتے ہیں کے ارم بہت جذباتی اور حساس ہے ۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: