...................... .................

جموں اور کشمیر کا ادب، خصوصی نشست اور مشاعرے کا اہتمام


خصوصی رپورٹ طارق کامران رانا….
بزمِ وارث شاہ اور انگلش لٹریری سوسائٹی نے جموں اور کشمیر کے ادب کے حوالے سے ایک خصوصی نشست اورر مشاعرے کا اہتمام بھی کیا۔ صدارت رُستم خان نے کی،جبکہ مہمانانِ خصوصی ڈاکٹرکنول فیروز، پروفیسر انوار الحق، روبیہ جیلانی، محمد طفیل اور شفقت علی شاہ تھے۔
اس موقعہ پراظہار خیال کرنیوالوں کا کہنا تھاکہ تخلیقی کتابیں لکھی جا رہی ہیں، پڑھی بھی جاتی ہیں مگر کئی لکھاری لِکھ تو دیتے ہیں مگر فروغ نہیں دیتے یہ رائٹر کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کتاب کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں اور کشمیر کے کئی شعرا نے رومانی نغمے ، روایتی غزلیں ، صوفیانہ کلام اور نظم کو نئے انداز میں لکھااور مزاحمتی شاعری بھی کی۔ 19 صدی کی سب سے مقبول ادبی تحریک رومانویت کی ادبی تحریک تھی، وادی کشمیر کا نامور شاعر رسول میر نے اِس سے متاثر ہوکر رومانی شاعری کی۔ اِسی دور کا ایک اور شاعر مقبول شاہ نے بھی کشمیر کی وادی، پہاڑ، چشمے، درخت ، پھول، کشتیاں اور دریاﺅں کو سراہا قدرتی مناظر کی خوبصورتی کو تعریفی انداز میں لکھا اور مادہ پرستی کو رد کیا۔
وادی کشمیر کے ایک اور شاعر آغا شاہد جو امریکہ میں رہتا تھا، غزل کو دیارِ غیر میں متعارف کرایا۔ اُسے نیشنل بُل ایوارڈ امریکہ نے دیا۔ شہناز بشیر ناول نگار نے اپنے ناول ©”آدھی ماں” میں کشمیری خواتین پر تشدد کو بھر پورانداز میںبیان کیا ہے۔
ایک اور کشمیر ی ادیبہ صبا شافی نے اپنے ناول "کشمیر کے پتے” میں کشمیری خاتون اپنا وطن چھوڑکر ہجرت اواپنی دھرتی سے اس کی محبت کو بہت خوبصورت اور موثر پیرائے میں بیان کیا ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: