...................... .................

منفرد لب و لہجے کے شاعر، محقق،نقاد شہزاد نیئرسے گفتگو

     انٹرویو: شاہدہ مجید ……
پاک فوج سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات نے ادبی محاذ پر بھی خوب دادشجاعت پائی اور نام کمایا۔ شفیق الرحمان، بریگیڈئیر صدیق سالک، ضمیر جعفری اور دیگر ادیب، شاعر فوج سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ ایسی ہی ایک باکمال شخصیت میجر(ر)شہزاد نیئرہیں۔ منفرد لب و لہجے کے شاعر، محقق، نقاد شہزاد نیر 4 اپریل 1973 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہو ئے ۔ میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے ایف سی کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ایف ایس سی کے بعدانہوں نے عسکری ملازمت اختیار کر لی۔ انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے اردو فرسٹ ڈویژن میں کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ساتھ ہی نمل اسلام آباد سے فارسی زبان و ادب میں ڈپلومہ بھی حاصل کر لیا۔ادبی دنیا کے درجنوں نامور رسائل و جرائد میں ان کلام شائع ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔
میجر (ر) شہزاد نیئر ملکی و غیر ملکی ادب کے ایک پر شوق قاری ہیں۔ برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے یاد گار بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کی۔ ادبی تنقید اور لسانیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ادبی تنقید پر آپ کے متعدد مقالے شائع ہو چکے ہیں اب تک انکی شاعری کی 3کتب’ برفاب ،چاک سے اترے وجود اور گرہ کھلنے تک ‘شائع ہو چکی ہیں۔شہزاد نیئر کی شاہکار لازوال اور بے مثل نظموں پر مشتمل انکا پہلا مجموعہ کلام ’برفاب‘ 2006 میں شائع ہوا جس نے ادبی منظرنامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اب تک ’برفاب‘ کے کئی ایڈیشن بھی شائع ہو چکے ہیں۔’برفاب ‘پر درجنوں مقالات لکھے جا چکے ہیں ۔اس خوبصورت مجموعہ کلام کو انگلینڈ سے ’پین انٹرنیشنل ایوارڈ‘ بھی مل چکا ہے۔شہزاد نیئر کا نظموں اور غزلوں پر مشتمل دوسرا مجموعہ کلام ’چاک سے اترے وجود‘ 2009 میں منصہ شہود پر آیا جسے دیگر کئی ادبی تنظیموں کے ایوارڈز کے علاوہ پروین شاکر ایوارڈ 2009 بھی مل چکا ہے۔ شہزاد نیئر کا تیسرا مجموعہ کلام ’گرہ کھلنے تک‘ 2013 میں شائع ہوا ۔ اس کتاب کو مختلف ادبی تنظیموں کی جانب سے ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ میجر صاحب سے ایک ملاقات یہاں پیش خدمت ہے۔

نقاد کا بہت اہم کام ہے، ادب کے حوالے سے تنقید کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ادب کے معیار کو بلند کرے اور ادب کی گہری تفہیم کی راہ ہموار کرے، ادب کی قدر کا تعین کرے، ادب کا سماج کے ساتھ رشتہ دریافت کرے اور اس ادب سے جو فکر برآمد ہورہی ہے اسے ایک بڑے کینوس میں رکھ کر دیکھے
سوال: ادب سے وابستگی کب ہوئی اور شاعری کا شوق کب چرایا ؟
جواب: میں ساتویں جماعت میں تھا جب میں نے پہلی نظم لکھی تھی۔ اس سے پہلے بھی یہ تھا کہ جب میں نئی کلاس میں جاتا تو اردو کی کتاب کو دو دنوں میں سارا پڑھ لیتا اور جتنی نظمیں اس میں ہوتیں وہ ساری ازبر ہو جاتیں۔ اردو زبان سے بچپن سے ہی بہت لگاﺅ تھا۔پھر اس کے بعد غزلیں نظمیں کہتا رہا۔
سوال: ایک فوجی کا ٹف لائف سٹائل اور ایک شاعر کی نازک خیالی دو متضاد چیزیں نہیں ہیں ؟۔
جواب: شاعر میں پہلے تھا۔ فوجی میں بعد میں بنا۔ٹف روٹین کی بات آپ کی بالکل صحیح ہے کہ ہماری روزمرہ کی فوجی زندگی کا شعروادب اور نازک کومل جذبوں سے کہیں دور دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ پھر بھی میں نے اپنی کوشش کی ہے۔ شاعری میرے نزدیک دنیا کو دیکھنے کا ایک زاویہ ہے۔ ایک ماہر سماجیات دنیا کو اور نظر سے دیکھتا ہے۔ ایک ماہر حیاتیات دنیا کو الگ زاویے سے دیکھتا ہے۔ شاعری دنیا کو دیکھنے کا جمالیاتی زاویہ فراہم کرتی ہے۔
سوال: شاعر کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟۔
جواب: شاعر کی ترجیح ہے دنیا کو مزید خوبصورت دیکھنااور اسے مزید خوبصورت بنانا۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ شاعر جب ایک نظم یا غزل دنیا کو دیتا ہے تو اس سے پہلے وہ نظم یا غزل دنیا میں نہیں ہوتی تو اس کے دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ میری اس نظم یا غزل کے بغیر دنیا میں کمی ہے جب وہ اس کو تخلیق کرکے دنیا کو دے دیتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے یا کم از کم بہ حیثیت ایک شاعر مجھے یہ لگتا ہے کہ میں نے ایک چیز کا دنیا اضافہ کردیا۔ اب وہ اضافہ کیا ہے ؟ وہ دنیا کو دیکھنے کا ڈھنگ ہے ، کسی جذبے کی نئے انداز میں تفہیم ہے، کسی سماجی یا معاشی سرگرمی پر میرا ایک کومینٹ ہے۔
سوال: ادب کا نظریہ یا نقطہ نظر کیا ہونا چاہیئے۔ موجودہ دور کے ادب کو کیسے دیکھتے ہیں، کیا دور حاضر کا ادب کوئی نقطہ دانش فراہم کررہا ہے؟
جواب: میں ادب برائے زندگی کا قائل ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں۔ ادب خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ ادب انسانوں کےلئے تخلیق ہوتا ہے اور انسانوں کےلئے تخلیق ہونا چاہےئے۔ انسان اور کائنات کا ربط دریافت کرنے کی کئی کاوشوں میں سے ایک کاوش ادب بھی ہے۔ کائنات کا انسان سے کیا تعلق ہے یا انسان کا کائنات سے کیا تعلق ہے۔موجودہ دور میں جو ادب تخلیق ہورہا ہے اس کا کچھ حصہ یہ ذمہ داری ادا کررہا ہے کہ انسان کی بات کی جائے مٹی کی زمین کی بات ہو ، انسانی جذبوں خواہشوں امنگوں کا بیانیہ تشکیل دیا جائے۔ہم سماج اور دنیا کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں، کیا خوبصورتیاں بھرنا چاہتے ہیں اور بدصورتیوں سے کیسے پاک کرنا چاہتے ہیں ادب کواس کا منظر نامہ یا بیانیہ ہونا چاہیئے۔ اس دور کا ادب کافی حد تک یہ کام کر بھی رہا ہے۔ علی محمد فرشی کی نظمیں پڑھیں۔ آپ حمید شاہد کے افسانے پڑھیں۔ اس کی کتاب ہے دہشت میں لکھی کہانیاں۔ نذیر قیصر کی شاعری پڑھیں۔ لیکن وہ شعرا جو بے تاثیر لایعنی جدیدیت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیںیا سمجھتے ہیں کہ شعر میں کوئی معنی ہونا ضروری نہیں یا شعر کو انسانی طبقات کی بات نہیں کرنی چاہیئے میں ان سے متفق نہیں ہوں۔میں شاعری کو ایک ارفع سطح کی تہذیبی سرگرمی سمجھتا ہوں۔
سوال: کیا اچھا ادب تخلیق کرنے کےلئے ایک ادیب کا اپنا کردار اس کی ذاتی خوبیاں ادب پر اثرانداز ہوتی ہیں؟
جواب: میرے خیال میں ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہیئے۔ میں ذاتی طورپر ایسے ادبا کو جانتا ہوں جو اپنے ادب اپنی شاعری میں بڑے بڑے بول بولتے ہیں عجز و عاجزی کی بات کرتے ہیں انسان دوستی کی بات کرتے ہیں لیکن جب آپ ان سے کوئی معاملہ کرتے ہیں تو الٹ ہوتا ہے۔ میں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ گوجرانوالہ میں میرے ایک دوست تھے جو کمشنر تھے انہوں نے ایک مشاعرہ رکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کتنا بجٹ رکھنا چاہیئے۔ میں نے کہا کہ مناسب سا ہی رکھ لیں شاعر تو سادہ مزاج لوگ ہوتے ہیں۔ میرے منہ سے یہ نکلنا ہی تھا کہ وہ بولے بھائی ان کی عاجزی اور سادگی صرف شاعری تک ہوتی ہے جب آپ ان کو کسی سرکاری مشاعرے میں بلا لو تو یہ کہتے ہیں مجھے وزیراعظم جتنا پروٹوکول چاہیئے۔ کہاں ٹھہرا رہے ہیں، کیا کھلا رہے ہیں، سب وی آئی پی ہونا چاہیئے۔
سوال: کیا ہمارے موجودہ دور کے شاعر حضرات اور ادیب خودپسند اور متکبر ہوتے جارہے ہیں؟
جواب: متکبر تو میں نہیں کہوں گا مگر خودپسند سے اتفاق کرتا ہوں۔ متکبر چند ایک ہوں گے۔
سوال: یہ جو ادبی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں یہ کیا کردار ادا کررہی ہیں ادب کی خدمت کے حوالے سے؟
جواب: ادبی تنظیمیں ادب کے فروغ کا بھی باعث بنتی ہوں گی لیکن زیادہ تر اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لئے بنائی گئیں ہیں چند لوگوں کی اجارہ اداریاں ہیں۔
سوال: آج کل شاعر حضرات ایک دوسرے کو شاعر تسلیم نہیں کررہے ہوتے، کئی نامور شعرا کو دوسرے شعراکہتے ہیں یہ بھی کوئی شاعر ہے تو یہ شاعر ہوتا کون ہے اس کا کیا پیمانہ ہے؟۔
جواب: اصل میں بات رویے کی ہے۔ آج کل بعض لوگ دوسروں کی نفی میں اپنا اثبات ڈھونڈتے ہیں۔ یہ رویہ غلط ہے۔ دوسری بات یہ ہے جسے سمجھانے کےلئے ایک لطیفہ سناتا ہوں۔ ایک شام ایک جگہ دو شاعر بیٹھے چائے پی رہے تھے تو پورے شہر کے شاعروں کے نام لے لے کر انہیں رد کرتے جارہے تھے۔ فلاں شاعر جو ہے وہ بھی کوئی شاعر ہے۔ فلاں کی شاعری میں سکتے آجاتے ہیں، فلاں کی شاعری کا کینوس بہت محدود ہے، سب کو نکال کر رہ گئے بس وہ دو۔ ان میں سے ایک کہتا ہے دیکھو اگر سچ پوچھو تو اس شہر میں شاعر صرف دو ہی ہیں ایک میں اور ایک آپ اور سچ پوچھیں تو آپ بھی کیا ہیں؟ ۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی شخص کا ادب میں جتنا بھی حصہ ہے ،وہ ایک خدمت ہے،اگر کوئی ایک مصرعہ لکھ رہا ہے تو اس کا اعتراف ضروری ہے وہ بھی خدمت کررہا ہے۔
سوال: غزل اور نظم میں کس کو پسند کرتے ہیں اور کونسی صنف مشکل کونسی آسان ہے؟
جواب: کسی کےلئے غزل مشکل ہوسکتی ہے۔ کسی کے لئے نظم۔ یہ اپنی پسند اور ترجیح پر منحصر ہے۔ نظم کےلئے فکر کا اور مناظر کا مربوط ہونا ضروری ہے۔ غزل ریزہ کاری ہے، ریزہ خیالی ہے۔ اس میں دو مصروں میں ایک خیال دیتے ہیں دوسرے میں دوسرا اور تیسرے میں تیسرا خیال پیش کرتے ہیں۔ نظم میں تسلسل کے ساتھ خیال دینا پڑتا ہے۔ نظم کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس کے آگے بڑھوتری ہوتی ہے اور آخر میں ایک کلائمیکس یعنی ایک اختتام ہوتا ہے تو اس طرح کی پلاننگ بعض لوگوں کے لئے کرنا مشکل لگتی ہے۔ مجھے ذاتی طورپر نظم کےلئے سہولت ہوتی ہے۔ غزل میرے دل کے قریب ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس عہد کے مسائل، معاملات اور جذبوں کو جتنا بہتر تخلیقی طورپر نظم اپنے اندر سمو لیتی ہے یا سمو رہی ہے وہ غزل نہیں کررہی۔ غزل کا ایک بہت بڑا حصہ روایتی غزل ہے اور پھر جدید غزل ہے اس میں جدید موضوعات تو آتے ہیں لیکن اللہ جانے کیا بات ہے کہ اس میں لطف کم ہے یعنی جدت لائیں گے تو اس میں لذت سخن کا فقدان ہوگا۔
سوال: شاعری میں جدت کیا ہے اس کی کیا تعریف ہے؟۔
جواب: دیکھیں جدت ایک اضافی اصطلاح ہے۔ اس کا تعلق عہد سے ہے۔1970 کا جو جدید تھا وہ آج کا جدید نہیں ہے۔1990ءمیں جسے جدید کہا گیا اسے اب ہم جدید نہیں سمجھتے۔
سوال: سوشل میڈیا نے ادب کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا ہے، اچھا ادب پھیلا دیا ہے ایک لہلہاتی فصل کی مانند یا ایک بے کار کھیپ تیار کردی ہے ادیبوں کی؟۔
جواب: دونوں کام کئے ہیں سوشل میڈیا نے۔ اچھے ادب کے پھیلاﺅ میں بھی معاونت کی ہے اور برے ادب کو بھی پھیلایا ہے۔ وہ لوگ جو کتاب اور ادبی رسائل و جرائد کے مطالعے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ اچھے قاری اور زیادہ اچھے شعرابھی ہوتے ہیں۔ مطلب ادب کی جو معیاری تربیت گاہیں ہیں یعنی ادبی رسائل ، سینئر ادبا کی محافل یا حلقہ ارباب ذوق وغیرہ کے ساتھ بھی جو منسلک ہیں وہاں سے بھی سیکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ بہترین ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کبھی اچھی کتاب نہیں پڑھی کسی اچھے معیاری استاد سے اصلاح نہیں لی یا تنقیدی کتابیں پڑھ کر اپنے تنقیدی شعور اور بصیرت کو جلا نہیں بخشی، وہ لوگ سوشل میڈیا پر آکر محض بھٹک رہے ہیں۔ انہیں معیار کلام اور معیار سخن کی پہچان نہیں۔ معیار کلام اور معیار ادب کو کسی صورت نیچے نہیں آنا چاہیئے۔ سوشل میڈیا ایک حد تک ادبی معیار کو نیچے لانے کا سبب بنا ہے۔ پہلے غزل رسائل میں لگ جانے تک کئی مراحل اور چھلنی سے گزرتی تھی۔ لوگ اپنی تخلیق کو اپنے پاس رکھتے تھے لیکن اب شاعر یا شاعرہ نے مغرب کی اذان کے وقت غزل کہی اور عشاءکی اذان تک وہ100 ’لائیکس ‘لے چکی ہوتی ہے۔ میں تب تک کوئی غزل سوشل میڈیا کے حوالے نہیں کرتا جب تک وہ تخلیق کے بعد دو ماہ تک میرے پاس نہ رہے۔ دو ماہ تک میں بار بار مختلف کیفیات میں اسے پڑھتا ہوں پھر اسے سوشل میڈیا کے حوالے کرتا ہوں۔ یعنی ہر بار نئے ذہن نئے زاویے سے پڑھنے اور تسلی کرنے کے بعد منظرعام تک لاتا ہوں۔
سوال: ادب تخلیق کرنا آسان ہے یا تنقید کرنا؟تنقید کا اصل مقصد کیا ہے یا کیا ہونا چاہیئے۔ ادب کے فروغ کے حوالے سے؟؟
جواب: تنقید کرنا مشکل ہے۔ دونوں کے لئے الگ طرح کی صلاحیتیں چاہئے۔ تنقید کےلئے بالکل الگ طرح کی صلاحیت چاہیئے اور نقاد کا بہت اہم کام ہے ادب کے حوالے سے تنقید کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ادب کے معیار کو بلند کرے اور ادب کی گہری تفہیم کی راہ ہموار کرے۔ ادب کی قدر کا تعین کرے۔ ادب کا سماج کے ساتھ رشتہ دریافت کرے اور اس ادب سے جو فکر برآمد ہورہی ہے اسے ایک بڑے کینوس میں رکھ کر دیکھے اسے دیگر علوم و فنون کے ساتھ جوڑ کے دیکھے یعنی جو ادب پارہ ہے اس میں جو کچھ نقطے بیان ہوئے ہیں کچھ افکار آئے ہیں تو ادب کے افکار کو دیگر علوم کے ساتھ جوڑ کے دیکھنا تنقید کرنے کا اصل مقصد ہے۔ تنقید کے بہت سے پہلو اور کردار ہوتے ہیں۔
سوال: کیا ہمارے دور میں نقاد اپنا کردار ادا کررہے ہیں؟۔
جواب: دیکھیں ناصر عباس نیئرہیں۔ لاہور میں رشید مصباح ہیں، ڈاکٹر ضیاءالحسن ہیں، محمد حمید شاہد ہیں۔ یہ سب لوگ بہت اچھا تنقیدی کام کررہے ہیں۔ میں تو موجودہ دور کے تنقید نگاروں کے کام سے مطمئن ہوں۔
سوال: نثری نظم کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیا یہ چور دروازہ ہے ادب میں داخل ہونے کا؟۔
جواب: نثری نظم کو میں اسی صورت میں مانتا ہوں جب وہ شاعری ہو، اسے غیرعروضی شاعری مانتا ہوں۔ شاعری محض عروض سے نہیں پہچانی جاتی۔ میں سمجھتا ہوں کوئی کلام درجہ شاعری پر اپنے شعری اسلوب اور شعری مواد کے باعث فائز ہوتا ہے۔

جواب لکھیں