...................... .................

تاجروں و صنعتکاروں کی آرمی چیف سے ملاقات

ملک کی سرکردہ کاروباری شخصیات نے بدھ کی رات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں عشائیے میں ملاقات کی اور انہیں معاشی محاذ پر پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔
رات کے کھانے پر ہونے والی یہ ملاقات رات دیر تک جاری رہی۔
بزنس کمیونٹی نے معاشی جمود سے آگاہ کیا جس میں جی ڈی پی کی افزائش انتہائی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے نتائج کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رُک گئی ہیں۔
ایسی صورتحال میں ایف بی آر آمدنی بڑھانے کیلئے مسلسل بزنس کمیونٹی کو نچوڑ رہا ہے۔
کاروباری طبقے نے آرمی چیف کو شکایت کی کہ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے انہیں اپنا بزنس معاشی لحاظ سے سازگار سطح پر رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف زبانی یقین دہانیاں کروا رہی ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں تاجر رہنما حکومتی رویے پر ناراضی چھپانے کی بجائے پھٹ پڑے اور شکایتوں کے انبار لگا دیے۔
تاجروں نے اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کے مختلف یونٹس بند ہوتے جا رہے ہیں، اگر مسائل فوری طور پر حل نہ ہوئے تو پورے کے پورے کاروبار بند ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں ملازمین کی بھی چھانٹی کرنے پڑے گی۔
لیبر کا بھی روزگار ہمارے کاروبار سے ہی وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے جو مال تیار کر رکھا ہے اس کا کوئی خریدار نہیں مل رہا، حالات کی بہتری کے حوالے سے دور دور تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سے کاروباری طبقے نے ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے جو محنت کی ہے اور مختلف ادوار میں آنے والے نشیب و فراز کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ ساری محنت رائیگاں جائے گی۔
انہوں نے آرمی چیف کو اللہ کا واسطہ دیا کہ خدارا ملکی معیشت کیلئے کچھ کریں۔
تاجروں نے کہا کہ کاروباری دفاتر پر جو چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ہراساں کیے جانے کے بعد بھی ہمارے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔
کرپشن کا ریٹ بڑھ گیا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کی جی ڈی پی کم ہو رہی ہے اور دوسری طرف ریونیو اور ٹیکسز میں اضافہ دکھایا جا رہا ہے۔
یہ ٹیکسز انہی لوگوں سے وصول کیے جا رہے ہیں جو پہلے بھی دے رہے تھے، یعنی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
آرمی چیف نے کہا پاکستان سے ہمیں محبت ہے، آپ کاروباری لوگوں کی پاکستان کیلئے جو خدمات اور قربانیاں ہیں اس سے سب آگاہ ہیں، آپ کی کوششوں سے ہی ملک آگے چلے گا۔
آرمی چیف نے کہا کہ آپ کی پریشانیاں سن کر مجھے بے انتہا ہمدردی ہے اور میں ان کے حل کیلئے ضرور ہر ممکن کوشش کروں گا۔
انہوں نے تاجروں کے وفد سے کہا کہ آپ حکومت سے مکمل تعاون کریں اور حکومت مخالف کسی بھی قوت کی حمایت نہ کریں، آپ کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
اس ملاقات میں ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل، عارف حبیب، حسین دائود، علی محمد، زبیر موتی والا، اعجاز گوہر، عقیل کریم ڈھیڈی، ثاقب شیرازی، میاں منشاء، جاوید چنائے، سراج قاسم تیلی سمیت پاکستان بزنس کونسل کے اراکین، کچھ ٹیکسٹائل ٹائیکونز سمیت 16؍ سے 20؍ شخصیات شامل تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقہ وزیراعظم سے بھی آج ملاقات کرے گا جس میں غیر واضح حکومتی پالیسی، غیر یقینی اور منفی نمو جیسے مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔
کاروباری افراد نے نیب کی ان کیخلاف جاری سرگرمیوں پر تنقید کی اور کہا کہ سرکاری شعبے میں یہ خوف اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم ان کی جائز شکایت کا ازالہ بھی نہیں کر رہا۔
اس ملاقات کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن آرمی چیف سے ملاقات سے قبل کاروباری افراد کے ساتھ بات چیت کرنے والے ذرائع کے مطابق، تاجر رہنمائوں نے بتایا کہ کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں جس کے باعث کاروباری طبقے میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
بزنس ٹائیکونز سب سے زیادہ اس بات پر پریشان تھے کہ پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے نتیجتاً وہ سرمایہ کاری سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بھی منجمد ہے۔
بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کرنے والے اداروں میں پیداواری صلاحیت گزشتہ کئی مہینوں سے زوال کا شکار ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر مطلوبہ معیار کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا کیونکہ زیرو ریٹنگ کے خاتمے کے بعد ٹیکس کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے شکایات سنیں اور انہیں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر حماد اظہر نے ملک کے اقتصادی اور مالیاتی امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ آنے والے دنوں میں ملک کے حالات بہتر ہو جائینگے جس سے تما م طبقوں کا فائدہ ہوگا ۔
ذرائع کے مطابق، آرمی چیف نے کہا کہ ایک انٹرنل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں فوجی افسران بھی شامل ہوں گے تاکہ آنے والے وفد کی شکایات کا ازالہ جلد از جلد کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تاجر رہنما نیب کی جانب سے حالیہ گرفتاریوں سے بھی پریشان ہیں۔
ان گرفتاریوں میں سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق بھی شامل ہیں، نیب نے اینگرو کارپوریشن کے چیئرمین حسین دائود کو بھی طلب کر رکھا ہے۔
یاد رہے چند ماہ قبل آرمی چیف نے کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کی تھی اور اس وقت ان سے کہا تھا کہ اگر آپ کے مسائل حل نہ ہوں تو آپ براہِ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب لکھیں