...................... .................

ایران کا یمنی عوام کی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے ایران ہرقمیت پریمنی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔
ایچ ٹی وی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باقری کا کہناہے کہ ایران ایران یمن فوج اور عوامی رضاکار فورسز کی مشاورتی حد تک مدد فراہم کررہا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران یمن کی عوامی رضاکار فورس کی فوجی مشاورت کی شکل میں مدد کر رہا ہے اور ہم آخری وقت تک ہیمنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں جنگ کا حامی نہیں ہے اور خلیج میں جاری مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے کبھی کسی ملک کے خلاف کوجارحانہ اقدام نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس اور بین الاقوامی پانیوں میں امن او امان قائم رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے اور ہم خطے میں سیکیورٹی مہیا کرنا اپنا شرعی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے خلاف ہے اور اگر کسی نے ہمارے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
جنرل باقری نے کہا ہمارے دشمنوں میں جنگ شروع کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا نقصان اس کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے اور دشمنوں کو ہی سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کا آج ہر طرف سے محاصرہ ہے اور یمن جانے والے سبھی راستے بند ہیں اور ایک عرصے سے یمن میں دوائی اور بنیادی ضرورت کی اشیا تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں-
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے یمن کی فوج کو ایران کے میزائل فراہم کئے جانے کے بارے میں دعوؤں کو جھوٹ اور بے بنیاد قراردیا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس ملک میں دوائیں اور بنیادی ضرورت کی اشیا تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں وہاں کئی کئی میٹر کے میزائل پہنچا دئے جائیں-

جواب لکھیں