...................... .................

عمران کا اقوام متحدہ میں کامیاب چھکا ……..

منصور مہدی …….
وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر جہاںپاکستان اور ہمسایہ ملک بھارت کے روایتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں فطری طور پر غیر معمولی توجہ کا باعث بنی ہوئی ہے وہاں ابھی تک غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لئے بھی خاصے کی چیز بنی ہوئی ہے۔ حسبِ توقع بھارت میں ردعمل مکمل طور پر منفی رہا لیکن پاکستان میں تقریر کے مندرجات، اندازِ بیان اور افادیت پر وسیع اختلافِ رائے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ لیکن غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں وزیر اعظم کا دوران خطاب پاک بھارت جنگ کی صورت میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہونے کے خدشے کو مغربی ممالک نے جگہ دی تو اسلام کی وحدانیت کے حوالے سے بیانات اسلامی ممالک کے ذرائع ابلاغ نے خوب تبصروں کے ساتھ شائع کیے۔
پاک بھارت کا موازانہ کیا جائے تو اکثر بھارت کو سیاسی اور سفارتی محاذ پر کئی بار منہ کی کھانی پڑی ہے مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے جس مو¿ثر ڈھنگ سے کشمیریوں کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے اس کے بعد سے تو خود بھارتی میڈیا کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس حق گوئی پر مبنی پاکستانی موقف کی کس طور نفی کرے۔ اسی تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ نامور عالمی جریدے ”نیو یارک ٹائمز“ نے ”انٹرنیشنل ہیومنٹیرین فاﺅنڈیشن“ کے اشتراک سے لکھا ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر میں جس مانند 80 لاکھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
یاد رہے کہ انٹرنیشنل ہیومنٹیرین فاﺅنڈیشن نامی ادارے کے کینیا، انڈونیشا اور تھائی لینڈ میں دفاتر ہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا ہے کہ جیسے ہی مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھا، وہاں بدترین خوں ریزی کا حقیقی خدشہ موجود ہے اور اس بات کے قومی امکانات ہیں کہ آنے والے دنوں میں مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات کا نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ چل نکلے، جس کے منطقی نتیجے کے طور پر نہ صرف برصغیر جنوبی ایشیاءبلکہ عالمی امن بھی کسی بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہو جائے۔
اس موقر جریدے کی حق گوئی پر بھارتی میڈیا میں آگ سی لگی ہوئی ہے، بھارتی اخبارات میں بے سر و پا الزام تراشیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے اور وزیراعظم عمران خان و پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں خصوصاً آئی ایس آئی کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا جا رہا ہے۔ ان بے بنیاد بھارتی الزامات کا جائزہ لیتے اعتدال پسند مبصرین نے کہا کہ بھارت، اسرائیل اور چند دیگر ملکوں کے خفیہ ادارے اس منصوبہ بندی میں مصروف ہیں کہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کی نئی مہم کا آغاز کیا جائے جس کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو یہ تاثر دیا جائے کہ درحقیقت پاکستان اور اس کے بعض ادارے عالمی دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔
اس پس منظر میں غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حقیقت سے تو تقریباً ہر باخبر شخص آگاہ ہے کہ دورِ حاضر میں سبھی ملکوں کی داخلی و خارجی پالیسیوں اور سیاسی و دفاعی منصوبہ سازی میں انٹیلی جنس اداروں کا کردار بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ متحارب ملکوں کے مابین باقاعدہ جنگ تو آخری چارہ کار کی حیثیت رکھتی ہے جس کی نوبت کم کم ہی آتی ہے وگرنہ عام طور پر اپنے اثر و نفوذ کو دوسروں کی سرحدوں میں داخل کرنے اور دوسروں کے اثر سے بچنے کی خاطر سرد جنگ کا ایک ہمہ گیر عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور اس ضمن میں ذرائع ابلاغ بہت موثر ہتھیار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اسی تناظر میں مبصرین کے مطابق ساری دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی حکمتِ عملی روزِ اوّل ہی سے امن و آشتی اور بقائے باہمی کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کی رہی ہے جس پر وہ آج بھی پوری طرح سے قائم ہے مگر بدقسمتی سے بھارت کی صورت میں اسے ایک ایسا ہمسایہ میسر آیا جو شروع ہی سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا لہذا اس نے وطنِ عزیز میں مختلف لسانی،گروہی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی سرپرستی کا گھناﺅنا کھیل جاری رکھا ہوا ہے۔
لہذا ہندوستانی خفیہ ادارے اپنی اس مکروہ جارحیت پر پردہ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے ہمیشہ سے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتے آئے ہیں کہ پاکستان بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔
اس بھارتی روش میں گزشتہ کچھ عرصے سے مزید شدت آ گئی ہے اور ہندوستانی رہنما اور دیگر حکومتی عناصر ان الزامات کی تکرار کر رہے ہیں کہ پاکستانی ادارہ آئی ایس آئی بھارت اور دیگر ملکوں میں نا پسندیدہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بھارت کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ آئی ایس آئی نہ صرف بھارت میں جاری علیحدگی تحاریک کی سر پرستی کر رہی ہے۔ اس روش کی شدت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ کانگرس کے نائب صدر راہول گاندھی نے اس بے بنیاد الزام کو ایک سے زائد مرتبہ دہرایا اور بھارت کی گزشتہ انتخابی مہم میں مودی نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ ”اروندکجریوال“ کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیا۔
انسان دوست دانشوروں کی رائے ہے کہ بھارت کی حالیہ روش کو محض پراپیگنڈہ سمجھ کر نظر انداز کرنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے کیونکہ بظاہر یہ رویہ ان خدشات کو تقویت فراہم کرتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے خفیہ ادارے چند دوسرے ملکوں کے اشتراک سے پاکستان کے اندر کسی بڑے اور گھناﺅنے کھیل میں مصروف ہیں اور اپنے منفی عزائم کی تکمیل کی خاطر بلوچستان،کراچی، فاٹا اور دیگر علاقوں میں بد امنی کو فروغ دے رہے ہیں اور اپنی اس روش کو چھپانے کیلئے الٹا پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں اور بھارت کے نمک خوار ملکی اور غیر ملکی عناصر اس پراپیگنڈہ مہم میں بھارت کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔
ڈوئچے ویلے نے وزیر اعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کی جانے والی تقریر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے، مشرق اور مغرب کے درمیان تعلق کو بظاہر بغیر کسی پریشانی یا مشکل کے دنیا کے سامنے واضح کیا۔ انہوں نے اسلام کی بات کی، جس کے وہ پیروکار ہیں، مگر انہوں نے اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کے لیے چارلس برونسن کی فلم ‘ڈیٹھ وِش‘، مونٹی پائتھون اور دوسری عالمی جنگ میں جاپانی کامی کازی پائلٹوں کے حوالے بھی دیے۔
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے، مشرق اور مغرب کے درمیان تعلق کو بظاہر بغیر کسی پریشانی یا مشکل کے دنیا کے سامنے واضح کیا۔ پاکستان کے روایتی لباس شلوار قمیض پر نیلے رنگ کا کوٹ پہنے خان نے دنیا کو یہ سمجھانے کی کامیاب کوشش کی کہ اسلاموفوبیا یا مذہب اسلام سے خوف کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اور یہ کہ مسلمان آخر کیوں پیغمبر اسلام کی ذات پر حملوں کے بارے میں اتنے زیادہ حساس ہیں۔
اور آخر میں عمران خان کا خطاب اپنی معراج پر پہنچا، تاہم یہاں تک پہنچنے سے قبل انہوں نے ایک ایسا مدعا بھی پیش کیا جو مسلمانوں کے لیے تو عام فہم ہے مگر ایک بین الاقوامی فورم پر یہ کسی حد تک غیر معمولی ہے، اور یہ تھا مذہب اسلام کا بھرپور دفاع، جو خاص طور پر مغربی معاشروں کی سوچ کو مدنظر رکھ کر پیش کیا گیا: ”یہ بات سمجھنا اہم ہے۔ رسول (محمد) ہمارے دلوں میں رہتے ہیں۔ جب ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، جب ان کی تضحیک کی جاتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔“ عمران خان کا مزید کہنا تھا، ”ہم انسان اس بات کو سمجھتے ہیں: دل کا درد ہماری طبعی تکلیف سے کہیں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔“
ایرانی اخبارات خصوصاً ”ارنا“ نے لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم کے یہ الفاظ انسانی جذبات کی ترجمانی تھے۔ اسی طرح انہوں نے دہشت گردی، شدت پسندی اور خودکش حملوں کو عام طور پر اسلام یا مسلمانوں سے نتھی کرنے کے خلاف بھی اپنا استدلال پیش کیا۔ عمران خان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے کامی کازی پائلٹوں کو بطور خودکش بمبار کے استعمال کیا: ”کسی نے مذہب کو الزام نہیں دیا۔“ مگر نائن الیون کے حملوں کے بعد مسلم دنیا، خاص طور پر پاکستان اور بعض دیگر ممالک نے دیکھا کہ ان کو ان ہائی جیکرز کے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم رہنما نائن الیون حملوں کے بعد دنیا کو یہ بات باور کرانے میں ناکام رہے کہ ”کوئی بھی مذہب شدت پسندی کی تبلیغ نہیں کرتا۔“ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا، ”خودکش حملوں اور اسلام کو مساوی ٹھہرایا گیا۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی مذہب شدت پسندی کی تبلیغ نہیں کرتا۔“ ان کے بقول اس کی بجائے مسلم رہنماو¿ں نے مغربی لباس زیب تن کرنا شروع کر دیا اور یہاں تک ایسے رہنما جو انگریزی نہیں بول سکتے، انہوں نے بھی انگریزی بولنا شروع کر دی، ”کیونکہ وہ اعتدال پسند لگنا چاہتے تھے۔“
اس بات سے بچنے کے لیے کہ ان پر شدت پسندی کا لیبل لگے، وہ اعتدال پسند دکھنے کی کوشش کرنے میں لگ گئے، حالانکہ انہیں اس بات پر مستحکم مو¿قف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ ”ایسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی جسے شدت پسند اسلام کہا جائے۔“ عمران خان کے مطابق وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ نیو یارک میں موجود ایک شخص یا کسی یورپی ملک کا کوئی فرد جس کے ذہن میں ”اسلام اور شدت پسندی ایک جیسی چیز ہوں، وہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی صورت میں کسی مسلمان کے ردعمل پر پریشان کیوں ہو جاتا ہے۔
عمران خان نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے ایک ایسے موضوع کی بھی مثال دی جس پر بات کرنا یورپی ممالک میں ایک حساس معاملہ ہے اور وہ ہے ہولوکاسٹ یا یہودیوں کا قتل عام۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہولوکاسٹ کے معاملے کو بالکل درست حساسیت کے ساتھ موضوع گفتگو بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ معاملہ یہودی کمیونٹی کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہمارے پیغمبر کی شان میں گستاخی کو آزادی اظہار کے زمرے میں ڈال کر ہمیں تکلیف نہ دیں۔“عمران خان نے اپنے خطاب میں بھلے یہ جانتے بوجھتے کیا ہو یا نہیں، اہم پیغام وہ تھا کہ تکلیف اور غلط فہمیاں دنیا بھر میں ایک جیسی ہی چیزیں ہیں مگر انسان اپنے اپنے لحاظ سے ان کی توجیحات رکھتے ہیں۔
بی بی سی اردو نے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے حوالے سے لکھا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر پر ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ عمران خان کی تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے کشمیر سے متعلق حالیہ اقدامات کو عالمی دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ایک اعشاریہ دو ارب کی آبادی والی مارکیٹ کو خوش کرنے کی بجائے انڈیا کو کشمیر کی پالیسی بدلنے پر مجبور کرے۔ عمران خان نے تقریباً ایک گھنٹے کی اپنی تقریر میں کہا کہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا ’یہ دھمکی نہیں بلکہ وارننگ ہے۔
عمران خان نے تقریر میں کہا کہ وہ اس دیس کے رہنے والے ہیں جس نے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم نے مزید کہا ’کشمیر (انڈیا کے زیر انتظام کشمیر) میں اسی لاکھ افراد کرفیو میں ہیں اور جب یہ کرفیو اٹھے گا تو وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا کسی نے سوچا ہے جب خون کی ندیاں بہتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ 13 ہزار نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے اور کسی نے کبھی ان نوجوانوں کے نقطہ¿ نظر سے سوچا ہے کہ وہ اس وقت کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے جب انھیں مختلف طرح کی خبریں مل رہی ہوں گی۔انھوں نے متنبہ کیا کہ ان میں سے کچھ انتہا پسندی کی طرف جائیں گے اور اس کے نتیجے میں ایک اور ’پلوامہ‘ ہو گا، اس کا الزام پاکستان پر لگے گا، ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال ہو گی جسے سن کر دنیا چپ ہو جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹوں کے مطابق کے کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں ریپ ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ کیا کسی نے سوچا ہے کہ انڈیا کے 18 کروڑ مسلمان اس وقت کیا سوچ رہے ہیں، دنیا بھر کے مسلمان کیا سوچ رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا اور اب ان وعدوں کو پورا کرنے کا وقت ہے۔عمران خان نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ پہلا اور فوری ایکشن تو یہی ہونا چاہیے کہ انڈیا کشمیر میں کرفیو ختم کرے۔ عمران خان نے تقریر میں مختلف موضوعات پر بات کرنے کے بعد آخر میں کشمیر کا ذکر کیا اور سب سے زیادہ وقت اسی پر بات کی۔
پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کرفیو میں رہنے پر مجبور کیا ہے۔ ’اگر مغرب میں 80 لاکھ جانور قید کر دیے جائیں تو جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں متحرک ہو جائیں گی۔‘انھوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے، اس کے لیے آر ایس ایس کا نظریہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا نریندر مودی اس تنظیم کے تاحیات رکن ہیں اور یہ تنظیم نسلی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور انڈیا میں نسل کشی کرنا چاہتی ہے اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہے۔’آر ایس ایس کا نظریہ نفرت کا نظریہ ہے اور اسی کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا تھا۔ اسی نظریے کی وجہ سے انڈیا کی ریاست گجرات میں دو ہزار لوگوں کا قتل عام ہوا تھا۔‘انھوں نے کہا کہ جب کوئی بالادستی کے کی سوچ اپناتا ہے تو غرور اور تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور اسی چیز نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے کشمیر والا فیصلہ کروایا۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران نے کشمیر پر بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو ان کا ایجنڈا امن تھا اور اپنے پڑوسیوں ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنا شروع کیے اور اسی جذبے سے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا۔عمران خان نے کہا انڈیا کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا اور انھوں نے ہم پر الزام لگائے اور میں نے جواب میں انھیں بلوچستان میں انڈیا کی کارروائیوں کے بارے میں بتایا۔
انھوں نے کہا انڈیا کو کہا گیا کہ یہ سب بھول کر آگے بڑھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس کی وجہ ان کے بقول، شاید انتخابات کا ماحول تھا لیکن انتخابات کے دوران اور بعد میں بھی پاکستان مخالف جذبات کا اظہار ہوتا رہا۔پاکستان کے وزیر اعظم نے ایک سے زیادہ بار اپنی تقریر میں کہا کہ خطرہ یہ ہے کہ کوئی شخص حالات سے متاثر ہو کر انتہا پسندی کی طرف جا کر کوئی کارروائی کر دے گا جس کا الزام پاکستان پر لگے گا۔انھوں نے کہا کہ جب ایٹمی طاقتوں کے آمنے سامنے آنے کا امکان ہو تو اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور 70 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ انھوں نے کہا ان کی حکومت نے تمام ایسے گروپس کو ختم کیا۔

جواب لکھیں