...................... .................

عمران خان کا خطاب، سری نگر میں عوام سڑکوں پر نکل آئی

وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد مقبوضہ کمشیر میں لوگ خوشی سے باہر نکل آئے اور پاکستان کے حق جبکہ بھارت کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز نے وادی میں پابندیاں مزید سخت کردیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے اور مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کو موثر طریقے سے سامنے لانے کے بعد مقبوضہ وادی کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق سری نگر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں لوگ گھروں سے باہر آئے پٹاخوں اور رقص کرکے اسے منایا۔
اس موقع پر لوگوں نے پاکستان اور آزادی کی حمایت میں جبکہ بھارت کی مخالفت میں سخت نعرے بازی بھی کی۔
دوسری جانب ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کی تقریر کے بعد لوگوں کو مظاہروں سے روکنے کے لیے انتظامیہ نے سری نگر میں پابندیاں مزید سخت کردیں۔
وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے بعد سیکڑوں لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے اور ان کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارت کے قبضے سے کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
اس حوالے سے حکام اور 2 عینی شاہدین کے مطابق سری نگر میں لاؤڈ اسپیکر لگی ہوئی پولیس وین سے نقل و حرکت پر پابندیوں کا اعلان کیا جاتا رہا جبکہ مظاہروں سے روکنے کے لیے اضافی دستے بھی تعینات کردیے گئے۔
اس بارے میں ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘عمران خان کی تقریر کے بعد گزشتہ شب سری نگر شہر میں مظاہروں کے بعد یہ اقدام ضروری تھا’۔
عمران خان نے کیا خطاب کیا؟
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کردیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم بھرپور انداز میں اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ‘جناب صدر! میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے، دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں ہم آئے تھے’۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں’۔
‘اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں اور ہم لڑیں گے، اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں’۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال
واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، ساتھ ہی اس اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل وہاں پہلے سے موجود لاکھوں کی تعداد میں فوج میں بھی اضافہ کردیا تھا۔
یہی نہیں بلکہ بھارت نے وادی میں کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو تاحال جاری ہے جبکہ موبائل، انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کردیا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ہزاروں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو گرفتار کیا تھا جبکہ حریت قیادت سمیت مقبوضہ وادی کے سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی نظر بند و گرفتار کرلیا تھا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: