...................... .................

موٹی لڑکیوں کا موٹا کہنے سے وہ اور موٹی ہو جاتی ہیں!

دنیا بھر میں عام لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بھاری بھر کم افراد یا جن افراد کو وزن زیادہ ہوتا ہے جو سست اور بیمار ہوتے ہیں۔
اضافی وزن والے افراد کو کچھ لوگ طنز کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اپنے اور خاندان کے لیے وزن بھی قرار دیتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں۔
صحت مند افراد کی جانب سے دنیا بھر میں اضافی وزن رکھنے والے افراد کے ساتھ اپنائے جانے والے ایسے رویے کو سائسندانوں نے خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے بھی موٹاپے کا ایک سبب قرار دیا ہے۔
برطانیہ کے نفسیاتی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تازہ تحقیق کے مطابق اضافی وزن یا موٹاپا کسی بھی انسان میں اعتماد میں کمی یا قوت ارادی کی کمی کا باعث نہیں بنتا، تاہم تنقید کی وجہ سے موٹے افراد میں اعتماد اور قوت کا فقدان پایا جاتا ہے۔

برٹش سائیکولاجی سوسائٹی (بی پی ایس) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ بعض افراد جینیاتی مسائل کی وجہ سے موٹے ہوجاتے ہیں اور کچھ افراد اپنے طرز زندگی کی وجہ سے بھی بڑھتے وزن کا سامنا کرتے ہیں، تاہم ایسے افراد پر کی جانے والی طنز بھی ان کے وزن میں اضافے کا ایک سبب ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ عام طور پر اضافی وزن والے افراد کو سست، بیمار، بیکار یا کسی کام کا نہیں سمجھا جاتا اور انہیں ایسا کہا بھی جاتا ہے، جس وجہ سے ایسے افراد میں ڈپریشن اور مایوسی بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنا طرز زندگی نہیں بدلتے۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ وزن کی وجہ سے ہونے والی طنز کی وجہ سے کئی لوگ جہاں مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں، وہیں وہ خود کو بیکار سمجھ کر اپنا طرز زندگی نہیں بدلتے اور نہ ہی اپنے وزن کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یوں ان کا وزن جوں کا توں بڑھنے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اضافی وزن والے افراد کے لیے عام لوگ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں اور انہیں ان کے بڑھے ہوئے وزن کی وجہ سے شرمسار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ احترام سے بات کریں تو نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز، نفسیاتی ماہرین اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے افراد کو خاص طور پر موٹے افراد کے ساتھ بات کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
ماہرین نے مثال دی کہ اگر ایسے افراد کو کو ’موٹے یا موٹا‘ کہنے کے بجائے ’ا ضافی وزن والے افراد‘ کے طور پر مخاطب کیا جائے تو ان میں مایوسی نہیں ہوگی اور ان کا طرز زندگی بھی بدلے گا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: