...................... .................

آزاد کشمیر میں زلزلے کی تباکاریاں، 19 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی

آزاد کشمیر اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں شدید زلزلے کے نتیجے میں خاتون سمیت 19 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ8 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی گہرائی زیرِ زمین 10 کلو میٹر تھی۔زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلے کا مرکز جہلم کا شمالی علاقہ تھا۔ریسکیو ٹیمیں زلزلے سے متاثرہ شہروں میں پہنچ گئیں۔زلزلے سے میرپور آزاد کشمیر اور جہلم کا درمیانی علاقہ جاتلاں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔جاتلاں کے مقام پر 2 پل ٹوٹ گئے ہیں، جس کے باعث نہر اپر جہلم کا پانی دیہات میں داخل ہونا شروع ہوا، کئی علاقے زیر آب بھی آگئے، تاہم نقصانات کی شدت میں کمی کےلئے منگلا ڈیم سے پانی کو بند کردیا گیا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کے مطابق آزاد کشمیر میں میر پور، سماہنی اور بھمبھر میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے، میر پور آزاد کشمیر میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث کئی مکانات گر گئے۔ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر نے زلزلے کے باعث ایک خاتون کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ خواتین اور بچوں سمیت 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسجد کے مینار بھی شہید ہوگئے ہیں۔پنجاب میں خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، منڈی بہاﺅالدین، ملتان، اوکاڑہ، قصور، خانیوال، گجرات، کامونکی، مریدکے، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، ساہیوال، پتوکی، چونیاں، پاکپتن، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، نارنگ منڈی اور سیالکوٹ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں پشاور، چارسدہ، سوات، خیبر، ایبٹ آباد، باجوڑ، نوشہرہ، مانسہرہ، بٹ گرام، تورغر، شانگلہ، بونیر، دیر، اپر دیر، لوئر، چترال، مالاکنڈ اور کوہستان میں بھی زلزلے کی جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکے 15 سے 20 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض کا کہنا ہے کہ زلزلے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کچھ علاقے متاثر ہوئے جبکہ اس سے سب سے زیادہ نقصان میرپور آزاد کشمیر میں ہوا۔زلزلے کے آتے ہی گھروں، دفاتر اور عمارتوں میں موجود لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر آگئے جبکہ رپورٹس کے مطابق زلزلے کا یہ دورانیہ 8 سے 10 سیکنڈ تک تھا، جس کے باعث لوگ شدید پریشان ہوگئے۔آزاد کشمیر میں میرپور سمیت مختلف حصوں میں زلزلے سے کئی افراد کے زخمی ہونے اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق میرپور میں زلزلے سے مسجد کے مینار گرگئے جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی پسپتال میں منتقل کردیا گیا۔میرپور آزاد کشمیر میں تقریباً 10 سیکنڈ تک زلزلہ محسوس ہوا جبکہ کچھ مقامات پر آفٹرشاکس کی بھی اطلاعات ملیں۔زلزلے کے بعد آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور تمام زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

صدر اور وزیر اعظم کی زلزلے کی تباہ کاریوں پر اظہار افسوس
صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے ہونے والے نقصانات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوری امدادی کارروائیوں کی ہدایت کر دی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے تمام متعلقہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیواور متاثرین کو ہرممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت عوام کےساتھ ہے، زخمیوں کوعلاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

آرمی چیف کی زلزلہ متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن کی ہدایت
زلزلے کے بعد ریسکو اداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی مدد کی جبکہ پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے بھی سول انتظامیہ کی مدد کی ہدایات جاری کردی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ‘چیف آف آرمی اسٹاف نے آزاد جموں کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کی ہدایت کردی’۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاک فوج کے دستے آزاد کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں طبی اور فضائی سپورٹ کے ساتھ امدادی کاموں کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

آزاد کشمیر میں ایمر جنسی کا نفاذ
آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے، جس کے باعث ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ مشتاق منہاس نے کہا کہ اسپتالوں میں ہائی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم راجا فاروق حیدر زلزلے کی اطلاع ملتے ہی اپنا دورہ لاہور مختصر کرکے میرپور روانہ ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی نگرانی خود کریں گے۔وزیراطلاعات مشتاق منہاس نے مزید کہا کہ اپر جہلم نہر میں شگاف سے متعدد علاقے ڈوبنے کا خدشہ ہے، شگاف کو پر کرنے کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت شگاف بھرنے کرنے کے لیے امدادی ٹیمیں اور مشنیری بھیجیں۔

منگلا سے بجلی کی پیداوار بند، لوڈشیڈنگ بڑھنے کا خدشہ
جہلم اور میر پور آزاد کشمیر میں آنے والے شدید زلزلے میں منگلا ڈیم محفوظ رہا ہے، تاہم حفاظتی اقدامات کے پیش نظر منگلا پاور ہاﺅس کی ٹربائنیں بند کردی گئی ہیں۔ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت منگلا ڈیم سے 900 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی، زلزلے کی وجہ سے ٹربائنیں بند کرنا پڑیں یوں 900 میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی ہے جس کی وجہ سے مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ تین سے چار گھنٹے تک بڑھ سکتا ہے۔ترجمان کے مطابق متاثرہ علاقوں کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلاتعطل جاری رکھی جاسکیں۔ترجمان واپڈا کے مطابق زلزلے کی وجہ سے منگلا ڈیم کا پانی گدلا ہوگیا ہے، پانی صاف ہونے پر منگلا پاور ہاﺅس کی ٹربائنوں کو دوبارہ چلایا جائے، اس دوران بجلی متاثر رہے گی۔ذرائع کے مطابق ڈیم اور بجلی گھر زلزے میں محفوظ رہے ہیں، زلزلے کے بعد ڈیم چیکنگ کےلیے ڈرلنگ کی جاتی ہے تاہم واپڈا کی ٹیم ڈیم کی ٹیسٹنگ کررہی ہے، ٹیسٹنگ کتنی تفصیلی ہوگی، اس کا فیصلہ ٹیکنیکل ٹیم کرے گی۔ترجمان واپڈا کے مطابق منگلا ڈیم اور پاور ہاﺅس میں نصب آلات سے ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے۔منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے جبکہ ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.9 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

اگلے 24 گھنٹے میں زلزلے کے آفٹر شاکس آنے کا خدشہ
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے) نے اگلے 24 گھنٹے میں زلزلے کے آفٹر شاکس آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نےایک بیان میں کہا کہ زلزلے سے ویسے تو ملک کے بیشتر علاقے متاثر ہوئے ہیں، تاہم سب سے زیادہ جاتلاں متاثر ہوا ہے، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاتلاں کے مقام پر 2 پل ٹوٹ گئے جبکہ سڑکیں دھنس گئیں، جس کے باعث ٹریفک نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جن علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے وہ دور دراز کے علاقے نہیں ہیں۔

پنجاب میں پی ڈی ایم اے حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
پنجاب سمیت ملک میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پی ڈی ایم اے حکام سے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی۔وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے ہدایت کی ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں موجود سرکاری اور نجی عمارتوں کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ مختلف اضلاع میں زلزلے کے بعد ممکنہ نقصانات کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کی جائے، پی ڈی ایم اے زلزلے کے ممکنہ آفٹر شاکس کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات یقینی بنائے۔

پاکستان میں آنے والے بڑے زلزلوں کی تاریخ
چار ستمبر 2013 کو زلزلے نے بلوچستان کے شہر آواران کو کھنڈر میں تبدیل کردیا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار سو افراد رزقِ خاک ہوئے جبکہ سینکڑوں گھر زمین بوس ہوگئے۔
بیس جنوری 2011 کو سات عشاریہ سات کے زلزلے سے خاران لرز اٹھا، جس میں دو سو سے زائد مکانات ملیا میٹ ہوگئے۔
آٹھ اکتوبر 2005 کی صبح زلزلے نے کشمیراور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی، سات اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے سے اسی ہزار سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ کئی شہر اور دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے، قیامت خیز سلسلے کے متاثرین آج بھی غم و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
چودہ فروری، 2004 کو ریکٹر اسکیل پر 5.7 اور 5.5 کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔
تین اکتوبر، 2002 کو ریکٹر اسکیل پر 5.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
اکتیس جنوری انیس سو اکیانوے کا زلزلہ چترال میں تین سو سے زائد شہریوں کی جان لے گیا، دسمبرانیس سو چوہتر میں زلزلے نے مالاکنڈ کے دیہات تباہ کئے، سات عشارہ سات شدت کا زلزلہ پانچ ہزارسے زیادہ افراد موت کا سبب بنا۔
ستائیس نومبر انیس سو پینتالیس کو بلوچستان کے ساحل مکران میں زلزلہ سے دو ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔
تیس مئی انیس سو پینتیس کو کوئٹہ زلزلے سے مکمل تباہ ہوگیا، سات عشاریہ پانچ شدت کے جھٹکوں نے تیس ہزار افراد کو ابدی نیند سلادیا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: