...................... .................

گائے ذبح کرنے پر ہندو انتہا پسندوں نے عیسائی کو ذبح کر ڈالا

مشرقی بھارت کی ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے گائے ذنح کرنے پر عیسائی کو ہلاک کردیا۔
ایچ ٹی وی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق، مشرقی بھارت کی ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے گائے ذنح کرنے پر ایک شخص کا قتل کردیا جبکہ دو افراد زخمی ہیں۔
مشرقی بھارت کی ریاست جھارکنڈ کے گاؤں خنٹی میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے تین افراد پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ دو افراد شدید زخمی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز جھاڑکنڈ کے گاؤں خٹنی میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے کُچھ لوگوں کو گائے ذبح کرتے دیکھا گیا، گاؤں والوں کو جب اِس بارے میں معلوم ہوا تو اُنہوں نے دیگر لوگوں کو اطلاع دی جس کے بعد 12 سے 15 ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے اُن لوگوں پر حملہ کردیا۔
جب اُن تینوں افراد نے حملہ آوروں کو اپنے قریب آتے دیکھا تو اُنہوں نے اُس گروہ سے بچنے کے لیے دوڑ لگائی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے اور حملہ آوروں کی زد میں آگئے جس کے بعد اُن پر بےحد تشدد کیا گیا۔
پولیس کو جب اِس واقعے کی اطلاع موصول ہوئی تو وہ جائے وقوع پر پہنچی اور زخمیوں کو ضلع کے اسپتال منتقل کیا گیا، زخمی ہونے والوں میں سے ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا جبکہ دیگر دو افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ جن پر حملہ کیا گیا اُن کی شناخت کلانٹس بارلا، فلپ ہورو اور فاگو کچاپ کے نام سے ہوئی ہے اور اس معاملے کی تفتیش جاری ہے، ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے جبکہ کچھ افراد کو پُوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں رواں سال بھی اپریل میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گائے ذبح کرنے پر ایک ہجوم نے مبینہ طور پر اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: