...................... .................

جی ڈی پی اور برآمدات میں اضافہ ہمارے مسائل کا حل!

منصور مہدی ……
پاکستان نے برآمدات میں اضافے کے حوالے سے خراب کارکردگی دیکھانے والے مختلف ممالک میں ٹریڈ افسروں کو واپس طلب کر لیا ہے۔ ملائشیا، کینڈا،برازیل،چین، لندن اور ارجنٹائن کے کمرشل کونسلر واپس بلا لئے ہیں۔پاکستان نے برآمدات بڑھانے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے شروع کر دیئے ہیں۔ خراب کارکردگی پر چار ممالک سے ٹریڈ افیسر واپس بلا لئے گئے، جن میں ملائشیا، کینڈا، برازیل اور کمرشل کونسلر چین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمرشل کونسلر لندن اور کمرشل کونسلر ارجنٹائن کو بھی واپس بلانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
وزارت تحارت کی رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار سترہ اٹھارہ میں امریکہ کو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کی مچھلی اور گوشت پر برآمد کی پابندی ہٹا دی ہے جس سے سعودی عرب کو مچھلی اور گوشت کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔رواں مالی سال میں ترکی کو پاکستانی برآمدات میں پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر دو ہزار سترہ کے بعد روس کو پاکستانی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے خوردنی اشیاء پر کڑی ایس پی ایس اقدامات متعارف کی ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی وجہ سے برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے نیٹو کی واپسی اور مختلف ٹیکسوں کی نفاذ کی وجہ سے برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ آسریلیا کی جانب سے ٹیرف میں کمی کی وجہ سے پاکستانی برآمدات میں منفی رجحان سامنے آیا ہے۔ ہانگ کانگ میں کاٹن دھاگہ اور چمڑے کی مصنوعات کے حوالے سے نئے قوانین متعارف ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات میں کمی آئی ہے۔
پاکستان کی برآمدات کی شروعات کھیلوں کے سامان ، آلات اور سرجیکل اوزار سے ہوئی۔ یہ اشیاء ان علاقوں سے برآمد کی جاتی تھیں جو آج بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔ برآمدات کی فروخت کیلئے حکومت کی ترغیبات سے نہ صرف ملکی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا بلکہ برآمدات کی مالیت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں گومندرجہ بالا اشیاء کا حصہ کافی زیادہ تھا لیکن آج بھی یہ ملک کی نمایاں برآمدات نہیں کہلائی جا سکتیں۔
پاکستان کے ابتدائی ترقیاتی منصوبوں میں کاغذ کی صنعت کو بہت اہمیت دی گئی۔ اسکی برآمدات سے کافی امیدیں وابستہ تھیں۔مجموعی برآمدات میں اس صنعت کا حصہ بھی کافی بڑا تھا اور توقع تھی کہ کاغذ اور نیوزپرنٹ کی مصنوعات کی برآمدمیں اضافہ ہوگا۔ لیکن اس صنعت کے خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے۔لکھائی اور چھپائی کے کاغذ کی پیداوار میں اضافے کی بجائے کمی دیکھی گئی۔اسی طرح اخباری کا غذ اور مشینی استعمال کے کاغذ کی پیداوار بھی ہدف سے کم رہی۔کچھ عرصہ پہلے تک مشینری اور ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات بھی بہتر رہیں۔ انکی مجموعی مالیت شروع میں بہتر رہی لیکن بعد میں کم ہوگئی۔ان اشیاء کی بڑی منڈیاں بالعموم ہمسایہ ایشیائی وافریقی ممالک اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں تیل صاف کرنے کے کارخانے قائم ہوئے جس سے پٹرولیم مصنوعات کی بھی برآمدات شروع ہوئیں۔ان مصنوعات کی برآمدات سے آمدنی میں اضافہ ہوا اور یہ پاکستان کی نمایا ں برآمدات میں شمار ہونے لگیں۔
بنیادی مصنوعات:ایک وقت تھا کہ کھالیں ملک کی نمایاں برآمدات میں شمار کی جاتی تھیں۔ مگر یہ مسلسل کم ہوتی گئیں۔خام چمٹرے اور کھالوں کی برآمدات میں جو کمی ہوئی وہ چمڑ ے کی مصنوعات خصوصاًجوتوں کی برآمدات میں اضافہ سے پوری ہوگئی۔
سوتی مصنوعات:سوتی کپڑے اور مصنوعات کی برآمدات میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کی سوتی کپڑ ے کی صنعت کی برآمدات مسلسل بہتر ہوتی جا رہی ہیں۔ملک کی مجموعی پیداوار کا ایک تہائی سے زیادہ برآمد کیا جاتا ہے۔ترقیاتی منصوبوں میں سوتی مصنوعات کی برآمد ات کا حدف بہت زیادہ تھا۔جو وقت سے پہلے ہی عبور کر لیا گیا اور اب یہ مصنوعات پاکستان کی نمایاں برآمدات میں شامل ہیں۔سوتی برآمدات کی کار کردگی اس لحاظ سے اور بھی قابلِ تعریف ہے کہ انکی پیداوار اور متعلقہ درآمدی مرحلوں میں کئی مسا ئل اور پیداوار میں تاخیر بھی ہوئی۔ ابتدائی منصوبے کے تحت سوتی دھاگے کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔ سوتی مصنوعات کی برآمدات میں بھی مجموعی طور پر بہترین سالانہ شرح اضافہ دیکھنے آیا بلکہ اسکی برآمدات کی رفتار پیداواری صلاحیت سے بھی زیادہ تھی۔
سوتی دھاگے پر ملی رعائتوں کی غیر موافق تقسیم اور غلط حکمتِ عملی کے باعث سوتی مصنوعات کی برآمدات کی سالانہ شرحِ نموکم ہو رہی ہے۔لیکن پھر بھی برآمدات پیداوار سے کہیں زیادہ ہیں۔ سوتی دھاگے اور سوتی کپڑوں کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔کھڈیوں اور چرخوں کی صورت میں کپڑا سازی کی صلاحیت میں بھی وسعت آئی ہے۔آج سوتی دھاگے کی برآمدات دنیا میں چوتھے نمبر پر اور سوتی مصنوعات کی برآمدات پانچویں نمبر پر ہیں۔سوتی دھاگے کی نمایاں خریدار سوشلسٹ ممالک رہے ہیں۔مجموعی طور پر ہماری سوتی دھاگے کی برآمدات ساٹھ فیصد سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کیلئے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہانگ کانگ سوتی دھاگے کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
پاکستان عمدہ معیار کا سوتی دھاگا اور سوتی کپڑے کی مصنوعات برآمدکرتا ہے اور یہ ملکی پیداوار کا بڑا حصہ ہے۔سوتی دھاگے کی مجموعی پیداوار کا 30 فیصد برآمد کیا جاتا ہے۔ اسے بھی بجا طور پر سوتی مصنوعات کی نمایاں برآمدات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک پاکستان کے سوتی کپڑوں کی مصنوعات کا تقریباً نصف حصہ درآمد کرتے ہیں۔ محصولات کی رکاوٹوں اور کوٹے کے باوجودمصنوعات خریدتے رہے ہیں۔پاکستان کی سوتی کپڑے کی صنعت کیلئے برآمدی منڈیاں اب پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہیں کیونکہ اس صنعت نے حال ہے میں توسیع کی ہے اور اب یہ دنیا کی پانچویں بڑی صنعت ہے لیکن اس اہم صنعت کو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے کہ ترقی یا فتہ ممالک میں کاٹن ٹیکسٹائل کی درآمدات پر بندشیں ہیں اور برطانیہ میں کو ٹہ سسٹم رائج ہے۔
سوتی کپڑے کی صنعت پر جنیواگلوبل معاہدے کی حوالے سے بھی پاکستان کی برآمدات میں برطانیہ اور امریکہ کے حصے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔جنیو اگلوبل معاہدہ 1963 میں طے پایا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات کی منڈیوں میں کوئی دخل اندازی نہ ہو سکے۔تحفظ کیلئے اس سے پیشتر بھی اس قسم کے عارضی انتظامات سالانہ طور پر ہوتے ہے ہیں۔ اب بھی یورپی ممالک کو صنعتی تحفظ حاصل ہے۔
تقابلی برآمدات:انیسویں صدی میں ترقی یافتہ ممالک تیار شدہ اشیاء بناتے تھے اور غیر ترقی یافتہ نو آبادیاں ان ممالک کی صنعتوں کیلئے خام مال تیار کرتی تھیں۔ یہ رجحان اب بدل گیا ہے۔ اسکی جگہ اب تقابلی برآمدات نے لے لی ہے۔ عالمی معیشت کی بہتری کیلئے اب اس نظرئیے کو فروغ دینا ہوگا کہ ترقی یافتہ ممالک پیچیدہ اور مشکل اشیاء بنائیں اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سوتی کپڑوں جیسی سادہ مصنوعات تیار کریں۔ترقی پذیر ممالک کے اس غیرمتوازن مسئلے کا صحیح ادراک ماضی میں اس لئے نہ ہو سکا کہ انکے تجارت کے خسارے کو پورا کرنے کیلئے یا تو اپنے بیرونی اقتصادی تعلقات میں نہایت کم سطح پر غیرمتوازن سمجھوتے کرنے پڑینگے یا پھر وہ خسارے کو اپنی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے پورا کرینگے۔
حل کیا ہے؟: پاکستان کے مسائل کا حل کو ٹے ، محصولات میں تبدیلی یا دنیا کی طرف کسی مدد کیلئے دیکھنے کی بجائے خود انحصار ی میں ہے۔ ورلڈ بینک اور ایف بی آر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 79فیصد آمدنی پر ٹیکس نہیں دیا جاتا۔اگر یہی ٹیکس وصول کرلیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائیگا۔اس آمدنی کا بڑا حصہ ترقی یافتہ ممالک کے بنائے گئے فارمولے یعنی لبرلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزئشن کی وجہ سے پیداہوا ہے یہ فارمولا ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں ترقی پزیر ممالک خصوصاً پاکستان پر زیادہ لاگو کیا جاتا ہے۔انڈیا اور ملائیشیا اس فارمولے پر عمل نہیں کرتے۔اگر پاکستان بھی ملائیشیا اور انڈیا کی تقلید کرے تو سرمایہ لگائے، پیداوار بڑھائے اوربرآمدکرے۔ صحیح فارمولا گلوبلائزیشن نہیں بلکہ گلو گلائزیشن ہے یعنی ترجیحات مقامی ضروریات کے مطابق ہوں۔اس سے ہماری جی ڈی پی اور آمدات میں اضافہ اور دنیا کی منڈیوں میں ہمارے لئے رسائی کشادہ ہوگی۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: