...................... .................

ایران، ریاض اور عالمی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، سعودی عرب

سعودی عرب کے ولی عہد نے ایران کو ریاض، خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
ریاض کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خبردار کیا کہ ناصرف سعودی عرب بلکہ پورا خطہ اور عالمی امن ایران کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔
واضح رہے 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملy ہوئے تھے۔
سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار میں کی جانے والی کمی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 19.5 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔
اس ضمن میں سعودی عرب کی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایران کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے۔
بتایا گیا کہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں سعودی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد رونما ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی وزیر دفاع نے تیل کی دو تنصیبات پر حملوں کے بارے میں واشنگٹن کے موقف سے آگاہ کیا۔
انہوں نے سعودی ولی عہد کو آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف تمام ممکنہ ’آپشنز‘ بروئے کار لانے کا عندیہ دیا۔
ریاض حملوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ولی عہد
دوسری جانب سعودی عرب کے وزرا کونسل کے اجلاس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ ’ریاض اپنی تنصیبات پر حملوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے‘۔
الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد کی سربراہی میں منعقد اجلاس کے بعد اعلامیے میں بتایا گیا کہ ’کابینہ نے حملوں بعد نقصان کا جائزہ لیا اور عالمی برادری کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ’خطے کی تخصیص‘ کے بغیر ’ان کا‘ مقابلہ کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کونسل نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کو ’بزدلانہ فعل‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حملوں سے جہاز رانی کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا اور اس طرح عالمی معاشی ترقی بھی متاثر ہوگی۔
امریکا کا الزام
امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے الزام لگایا تھا کہ ایران، سعودی عرب میں تقریباً 100 حملوں میں ملوث ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’لیکن دوسری جانب روحانی (ایرانی صدر) اور ظریف (ایرانی وزیرخارجہ) سفارتکاری کا بہانہ کرتے ہیں‘۔
حملوں میں کوئی کردار نہیں، ایران
دوسری جانب ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں کوئی کردار نہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ہم ایران پر لگائے گئے حملوں کے الزامات کی سخت سے مذمت کرتے ہیں، یہ الزامات ناقابل قبول اور بے بنیاد ہیں۔
سعودی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنا سکتے ہیں، حوثی باغی
دوسری جانب سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں تیل کی مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے وہاں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں سے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں موجود توانائی کی تنصیبات سے دور رہیں۔
حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ سیری نے کہا تھا کہ جس طرح ہفتے کو تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح دوبارہ کسی بھی وقت تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
آرامکو آئل فیلڈ حملہ
خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔
سعودی حکام کے مطابق ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پالیا گیا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔
سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمن میں حکومت مخالف حوثی باغیوں سے جنگ لڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے کیے جا چکے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: