...................... .................

اسرائیل امریکا کے حساس مقامات کی جاسوسی میں ملوث؟

امریکا میں وائٹ ہاﺅس سمیت دیگر حساس مقامات کے قریب جاسوسی کے آلات برآمد کیے گئے ہیں جن کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکا میں وائٹ ہاﺅس سمیت دیگر حساس مقامات کے قریب سے جاسوسی کے آلات برآمد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جاسوسی کے آلات میں اسٹنگ ریز موبائل ڈیوائس شامل ہے جو کسی کی موجودگی کے مقام اور شناخت کی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اسٹنگ ریز کا مقصد ممکنہ طور پر امریکی صدر ٹرمپ کی جاسوسی کرنا ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے سابق امریکی اہلکار نے دعوی کیا ہے کہ ایف بی آئی اور دیگر ایجنسیوں نے جاسوسی آلات کا تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاسوسی آلات کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
اس معاملے میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کیے جانے کے امکان پر یقین کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل نے ہماری جاسوسی کی ہو۔
دوسری جانب اس موقف پر اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکی صدر کے دفتر کی جاسوسی نہیں کی۔ یہ خبر بےبنیاد اور جھوٹا پراپیگنڈہ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ میری واضح ہدایت ہے کہ امریکا میں کوئی خفیہ رابطہ یا جاسوسی نہیں ہوگی۔
تاہم ایف بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے جاسوسی آلات کے کئے گئے تجزیے کی رپورٹ جو نتائج پیش کر رہی ہے وہ امریکی صدر کی توقع اور اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کے متضاد ہے۔
ایف بی آئی سمیت دیگر ایجنسیوں کے تجزیے کی رپورٹ کے مطابق جاسوسی آلات کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: