...................... .................

واقعہ کربلا اور امام حسینّ غیر مسلموں کی نظر میں

منصور مہدی ….
61 ہجری کو عراق کے کربلا/نینوا نامی صحرا میں حبیب خدا، رسولِ معظم حضرت محمد مصطفٰیِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے خاندان اور باوفا 72 ساتھیوں کی عظیم شہادت اسلام کی تاریخ کا بے مثال واقعہ و معرکہ ہے۔ اس پر ہر انصاف پسند اہلِ قلم اور آزاد فکر دانشور نے اظہارِ افسوس کیا ہے۔ مختلف مذاہب و نظریات کے حامل اہلِ قلم و دانش نے اس واقعے سے اپنے لئے، اپنی تحریکوں اور اپنی اقوام کے لئے آزادی، حریتِ فکر، اصول پسندی، مذہبی بادشاہت اور استحصال پسندی کے خلاف انتہائی درجے کی مزاحمت اور سچائی کے لئے مال، جان اور ناموس کی لازوال قربانی دینے کا درس حاصل کیا ہے۔ اسلام کے کم و بیش تمام مسالک کے اہلِ دانش و بینش کے نزدیک تو حضرت امام حسینؓ کی مقدس ذات اور آپؓ کے بے مثال گھرانے کی خاندانی و مذہبی عظمت و رفعت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ لیکن غیر مسلم اہلِ قلم و دانش نے بھی امام حسین ؓ، آپؓ کے اہل و عیال اور باوفا ساتھیوں کی میدان کربلا میں پیش کی گئی لازوال قربانی کو اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں یہاں چند اہلِ قلم کے خیالات پیش کئے جاتے ہیں۔

جیمز فریڈرک کا کہنا ہے کہ امام حسین ؓکا بشریت کے لیے پیغام یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے والی عدالت، رحم وکرم، محبت و سخاوت جیسے ناقابل تغییر اصول موجود ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ جب بھی کوئی ان ابدی اصولوں کے لیے استقامت کا مظاہرہ کرے، تب ایسے اصول ہمیشہ دنیا میں باقی رہیں گے اور ان میں پائیداری آجائے گی۔
فارسی ادب کی تاریخ پر کتاب لٹریری ہسٹری آف پرشین کے برطانوی مصنف ایڈورڈ گرانول براﺅن نے لکھا ہے کہ کربلا کا خون آلود میدان یاد دلاتا ہے کہ وہاں اللہ کے پیغمبر ﷺکا نواسہ اس حال میں شہید کیا گیا کہ بھوک اور پیاس کا عالم تھا اور اس کے ارد گرد لواحقین کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ یہ بات گہرے جذبات اور دلدوز صدمے کا باعث ہے، جہاں درد، خطرہ اور موت تینوں چیزیں ایک ساتھ رونما ہو رہی ہیں۔ روس کے معروف ادیب اور دانشور ٹالسٹائی لکھتے ہیں کہ امام حسینؓ ان تمام انقلابیوں میں ممتاز ہیں، جو گمراہ حاکموں سے گڈ گورننس کا تقاضا کرتے تھے۔ اسی راہ میں آپؓ کو شہادت حاصل ہوئی۔
امام حسین ؓتمام مذاہب کا ضمیر ہیں: لبنانی مصنف انتونی بارا
مصنف انتونی بارا کی کتاب “حسین ان کرسچئین آئیڈیالوجی” بلاک بسٹر کتاب ہے جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے دیگر ملکوں کے ادیب بھی مصنف سے اجازت لینے کے لئے کوشاں ہیں۔ انتونی بارا کہتا ہے کہ یہ کتاب خالصتاً علمی، ادبی اور تحقیقی کام تھا جسے علمی بنیادوں پر ہی کرنا تھا لیکن اس کام کے دوران میرے دل میں یقیناً امام حسین ؓکی عظمت رچ بس گئی ہے، تین گھنٹے کے انٹرویو میں جب بھی بارا نے امام حسینؓ کا نام لیا تو ساتھ میں “ان پر سلامتی ہو” ضرور کہا، بارا کا کہنا ہے کہ میں نہیں مانتا امام حسین ؓ صرف شیعہ یا مسلمانوں کے امام ہیں، میرا ماننا ہے کہ وہ تمام عالم کے امام ہیں کیونکہ وہ سب مذاہب کا ضمیر ہیں۔
واقعہ کربلا نے استبدادی خلافت کی تقدیر کا فیصلہ کیا: ولیم میور
برطانیہ کے ولیم میور نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کربلا کے حادثے نے تاریخِ محمد میں خلافت کے خاتمے کے بعد بھی اسلام کو انسانی ذہنوں میں زندہ رکھا ہے۔ واقعہ کربلا نے نہ صرف استبدادی خلافت کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا بلکہ محمدی ریاست کے اصول و معیار بھی متعین کر دیئے، جو ابتدائی خلافتوں کے بعد کہیں کھو گئے تھے۔
امام حسین ؓکے انقلابی اصول ہر اس حریت پسند کےلئے مشعل ِ راہ ہیں: وکٹر ہیوگو
فرانس کے ادیب وکٹر مائیر ہیوگو لکھتے ہیں کہ امام حسین ؓکے انقلابی اصول ہر اس حریت پسند کے لئے مشعل ِ راہ ہیں، جو کسی غاصب سے حقوق حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ چیسٹر کے ادیب رینالڈ ایلین نکولس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جس طرح امام حسین ؓکے ساتھی ان کے ارد گرد کٹ کر گر گئے اور آخرکار امام حسین ؓ بھی شہید ہوگئے، یہ بنو امیہ کا وہ تلخ کردار ہے، جس پر مسلمانوں کی تاریخ امام حسین ؓکو شہید اور یزید کو ان کا قاتل قرار دیتی ہے۔
امریکی مورخ واشنگٹن آئرانک قیام امام حسین ؓکے حوالے سے رقمطراز ہیں: امام حسین ؓ یزید کے سامنے سرتسلیم خم ہو کر اپنے آپ کو نجات دلا سکتے تھے، لیکن اسلام کے پیشوا ہونے کے ناطے یہ ذمہ داری آپؓ کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ آپؓ یزید کو خلیفہ کے طور پر قبول کریں۔
امام حسین ؓکی قربانی بنی نوع انسان کی عظیم میراث ہے: راجندر پرساد بیدی
بھارت کے اوّلین صدر ڈاکٹر راجندر پرساد بیدی نے کہا کہ امام حسین ؓکی قربانی کسی ایک ریاست یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ بنی نوع انسان کی عظیم میراث ہے۔
امام حسینؓ انسانیت کے لیڈر ہیں: رابندر ناتھ ٹیگور
بنگال کے معروف ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کہتے ہیں کہ سچ اور انصاف کو زندہ رکھنے کے لئے فوجوں اور ہتھیاروں کی ضرورت نہیں، قربانیاں دے کر بھی فتح حاصل کی جا سکتی ہے، جیسے امام حسین ؓ نے کربلا میں قربانی دی۔ بلاشبہ امامؓ حسین انسانیت کے لیڈر ہیں۔
امام حسین ؓکو شہید کرنا بنو امیہ کی بڑی سیاسی غلطی تھی: رابرٹ بولانو
چلی کے معروف اہل قلم رابرٹ بولانو کہتے ہیں کہ امام حسین ؓکو شہید کرنا بنو امیہ کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی، جو ان کی ہر چیز کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر گئی بلکہ ان کے نام و نشان اور ہر چیز پر پانی پھیر گئی۔
ہم امام حسینؓ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں: جسویر سنگھ
سٹی سکھ پروگریسو آرگنائزیشن لندن کے بانی ممبر جسویر سنگھ کہتے ہیں کہ اس بات سے قطع نظر کہ ہم کس کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ہم امام حسینؓ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا ڈھنگ۔ امام حسینؓ عدل و انصاف کے لئے کھڑے ہو گئے تھے۔ آپ ؓ نے جس بات کو حق سمجھا اس کے لئے اپنی جان بھی دے دی۔
کربلا کا واقعہ آج بھی دلگیر ہے: برطانوی ادیب فریا اسٹارک
معروف برطانوی ادیب فریا اسٹارک کئی کتابوں کی مصنف ہیں۔ 1934ءمیں عراق کے بارے میں انہوں نے ایک سفر نامہ ”دی ویلی آف حسین“ لکھا۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ امام حسینؓ نے جہاں خیمے لگائے وہاں دشمنوں نے محاصرہ کر لیا اور پانی بند کر دیا۔ یہ کہانی آج بھی اتنی ہی دلگیر ہے جتنی 1275 برس پہلے تھی۔ کربلا ان واقعات میں سے ایک ہے جس کو پڑھ کر کوئی روئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
امام حسین ؓ کی قربانی اسلام کے لئے تھی: چارلز ڈکنز
مشہور انگریزی ناول نگار چارلز جان ہفم ڈکنزن کہتا ہے امام حسینؓ کی جنگ مال و متاع اور اقتدار کے لئے نہیں تھی اگر ایسا ہوتا تو وہ خواتین اور بچوں کو ساتھ لے کر کیوں جاتے۔ وہ ایک مقصد کے لئے کربلا گئے۔ اور ان کی قربانی اسلام کے لئے تھی۔
امام ؓکی فتح متاثر کرتی ہے: تھامس کارلائل
تھامس کارلائل نے کہا ہے کہ واقعہ کربلا نے حق و باطل کے مقابلے میں عددی برتری کی اہمیت کو ختم کر دیا معرکہ کربلا کا اہم ترین درس یہ ہے کہ امام حسینؓ اور آپؓ کے رفقاءخدا کے سچے پیروکار تھے۔ قلیل ہونے کے باوجود امام ؓکی فتح متاثر کرتی ہے۔
امام ؓ کاانقلاب سوچ کو توانائی دیتا ہے: جاپانی مصنف کوئیان
عصری جاپان کے مصنف کوئیان نے لکھا ہے کہ امام حسین ؓکا انقلاب پسے ہوئے طبقے کے لئے جدوجہد کا راستہ روشن کرتا ہے، سوچ کو توانائی دیتا ہے، گمراہی سے نکالتا ہے اور حصولِ انصاف کے سیدھے راستے پر ڈال دیتا ہے۔
امامؓ نے صبر سے جام شہادت نوش کیا: پروفیسر پیٹر جے چیلکو سکی
مغربی محقق، تاریخ دان اور نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر جے چیلکو سکی کہتے ہیں ”امام حسینؓ پر مکہ سے کربلا تک کئی بار چھپ کر حملہ کیا گیا۔ امامؓ نے صبر سے جام شہادت نوش کیا پر یزید کی بیعت نہ کی۔ تاریخی محقق اور ممبر برطانوی پارلیمنٹ ایڈورڈ گیبن نے ”دی فال آف رومن امپائر“ میں واقع کربلا کو انتہائی دل سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”امام حسینؓ کی مظلومانہ شہادت اور کربلا کے دل خراش واقعات سے ایک سرد دل انسان کی آنکھوں میں بھی آنسو آجاتے ہیں“۔
امام حسین ؓ جبر کا شکار طبقات کیلئے مثال ہیں: روسی مفکر اوگیرا
روسی مفکر اوگیرا کا کہنا ہے کہ امام حسین ؓہر اس طبقے کے لئے مثال ہیں جو طبقاتی جبر کا شکار ہے، پھر ان کے جانشین بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں۔
ہنگری کے مصنف گیورجی لیوکیکس کہتے ہیں امام حسینؓ کا تصور مرکزی طور پر انسان کی فری وِل، شخصی آزاری اور اپنی قوم کی خوشحالی کے لئے استبدادی حاکم کے سامنے کھڑے ہونے پر فوکس کرتا ہے۔
امام حسینؓ سوشل جسٹس کا رول ماڈل ہیں: ڈاکٹر ایڈورڈ کیسلر
وولف انسٹیٹیوٹ کیمبرج کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایڈورڈ کیسلر نے اپنے ایک لیکچر میں کہا کہ موجودہ دنیا کی ملٹی فیس سوسائٹیز میں سب سے بڑا مسئلہ سوشل جسٹس کا ہے جس کے لئے امام حسین ؓ بہترین رول ماڈل ہیں۔ انگلش رائیٹر تھامس لیل نے اپنی کتاب انسلٹڈ ایران میں لکھا ہے کہ امام حسینؓ کے عقیدت مند ان کے دیوانے ہیں اگر انہیں صحیح رخ میں گائیڈ کیا جائے تو یہ دنیا ہلا کر رکھ سکتے ہیں، تھامس 1921-1918 میں سرکاری طور پر عراق میں تعینات تھا۔
نیڑفیتھ گروپ کی ریسرچر ڈائنہ ملز کا کہنا ہے کہ امام حسین ؓ نوع انسان کے لئے رول ماڈل ہیں۔ امام حسینؓ کئی جہتوں سے حضرت مسیحؑ کے متوازی نظر آتے ہیں۔ خدا کے حکم کی خاطر انہوں نے بھی ہر چیز کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔کرسچیئن استاد ڈاکٹر کرس ہیور نے اپنے ایک لیکچر میں کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ یزید خدا کے احکامات کا سر عام مذاق اڑاتا تھا۔ پیغمبر اسلام کی حدیث ہے کہ ”جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے یہی بات امام حسین ؓکے پیس نظر تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امام حسین ؓ وہ ہیں جن کے اندر خدا بولتا ہے۔
ہندو سیاستدانوں اور مفکرین کا خراج عقیدت
مہاتما گاندھی نے کہا تھا اسلام کا پھلنا پھولنا تلوار سے نہیں بلکہ ولی خدا امام حسین ابن علیؓ کی قربانی کا نتیجہ ہے۔ اگر میرے پاس امام حسینؓ کے ساتھیوں جیسے بہتر لوگ موجود ہوں تو میں 24 گھنٹے میں ہندوستان آزاد کرا لوں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا امام حسینؓ کی قربانی کسی ایک قوم نہیں بلکہ سب کے لئے ہے یہ صراط مستقیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ مسز سروجنی نائیدو نے کہا ہے امام حسین ؓدنیا کے تمام مذاہب کے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ہر کمیونٹی کے لئے باعث فخر ہیں۔ سوامی شنکر اچاری نے کہا امام حسینؓ کی قربانیوں سے آج اسلام زندہ ہے ورنہ اسلام کا نام لینے والا کوئی نہ ہوتا۔ ڈاکٹر رادھا کرشن بھارتی صدر نے کہا تھا گو امام حسینؓ نے 1300 سال پہلے قربانی دی لیکن ان کی لافانی روح آج بھی سب کے دلوں میں زندہ ہے۔
مجھے واقعہ کربلا اور امام حسینؓ سے تقویت ملی: نیلسن منڈیلا
نیلسن مینڈیلا نے کہا تھا کہ میں نے بیس سال جیل میں گزارے ہیں، ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ تمام شرائط پر دستخط کر کے رہائی پا لینا چاہئے لیکن مجھے امام حسینؓ اور واقعہ کربلا یاد ا گیا۔اور مجھے اپنے اسٹینڈ پر کھڑا رہنے کیلئے پھر سے تقویت مل گئی۔
آپؓکی عظیم قربانی نے دین محمدی میں نئی روح پھونکی: فرانسیسی مفکر
ایک فرانسیسی مفکر کا کہنا ہے کہ امام حسینؓ کی مظلومیت پر مسلمانوں کی سب سے بڑی دلیل آپ کا اپنے دودھ پیتے بچوں کو قربان کرنا ہے، تاریخ میں ایسی مثال کہیں نہیں ملتی کہ کوئی شخص دودھ پیتے بچے کو پانی پلانے لایا ہو اور سرکش قوم نے اسے پانی کی جگہ تیر سے سیراب کیا ہو، دشمن کے اس کام نے حسینؓ کی مظلومیت کو ثابت کیا، آپ ؓنے اسی مظلومیت کی طاقت سے، طاقت سے لیس بنی امیہ کی عزت کو خاک میں ملاکر انھیں بدنام زمانہ بنا دیا۔ آپ ؓ اور آپؓ کے اہل بیتؓ کی عظیم قربانی نے دین محمدی میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اگرچہ ہمارے پادری بھی حضرت مسیح کے مصائب کا تذکرہ کر کے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، لیکن جو جوش و خروش حسین کے پیروکاروں میں پایا جاتا ہے مسیح کے پیروکاروں میں نہیں پایا جائے گا، کیونکہ مسیح کے مصائب حسین ؓکے مصائب کے مقابلے میں بہت بڑے پہاڑ کے مقابلے میں ایک تنکے کے برابر ہیں۔
حسین ؓ نے دنیا کو فداکاری اور شجاعت سکھا دی: جرمن مفکر
جرمن سے تعلق رکھنے والے ماربن کا کہنا ہے کہ حسین ؓ نے اپنے عزیز ترین افراد کو قربان کر کے اور اپنی مظلومیت اور حقانیت کو ثابت کر کے دنیا والوں کو فداکاری اور شجاعت سکھا دی ہے۔ ساتھ ہی آپ ؓنے اسلام اور مسلمانوں کے نام ایک نئی تاریخ رقم کر کے انھیں ایک عالمی شہرت عطا کر دی ہے۔
واقعہ کربلا نے روح کو تازگی عطا کی ہے: برطانوی مستشرق براون
مشہور برطانوی مستشرق (Browne) کا کہنا ہے کہ کیا کسی ایسے دل کا پانا ممکن ہے کہ جس کے سامنے واقعہ کربلا کا تذکرہ ہو لیکن اس کے باوجود وہ دل غم سے نڈھال نہ ہو، اس اسلامی جنگ نے جو روح کو پاکیزگی عطا کی ہے اس سے غیر مسلم بھی انکار نہیں کر سکتے۔ ایک اور مفکر کا کہنا ہے کہ حسین ؓکی شہادت بھی دوسرے حوادث میں مرنے والوں کی مانند تھا لیکن یہ حادثہ ایک استثنائی حادثہ تھا، چودہ قرن گزرنے کے باوجود بھی ایک غیرجانبدار مورخ اس حادثے کو ایک طویل و عریض پہاڑ کی مانند دیکھتا ہے، اس کے مقابلے میں دوسرے حوادث اور جنگیں ایسی دبی ہیں کہ آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
امریکی مورخ واشنگٹن آئرانک قیام امام حسین ؓکے حوالے سے رقمطراز ہیں: امام حسین ؓ یزید کے سامنے سرتسلیم خم ہو کر اپنے آپ کو نجات دلا سکتے تھے، لیکن اسلام کے پیشوا ہونے کے ناطے یہ ذمہ داری آپؓ کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ آپؓ یزید کو خلیفہ کے طور پر قبول کریں۔
امام حسین جیسی فداکاری کا مظاہرہ کوئی نہیں کر سکتا: جرمن دانشور
جرمن دانشور(Monsieur Marbin) کا کہنا ہے: حسین ؓ وہ منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے 14 قرن پہلے ظالم و جابر حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وہ مورد جسے ہم نادیدہ قرار نہیں دے سکتے یہ ہے کہ حسین ؓ وہ سب سے پہلی شخصیت ہیں کہ جن کی مانند آج تک کوئی ایسی مو¿ثر ترین سیاست انجام نہ دے سکے۔ ہم دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ بشریت میں کوئی بھی آپ ؓ جیسی فداکاری کا نہ آج تک مظاہرہ کر سکا ہے اور نہ کبھی کر سکے گا۔
امام حسین ؓکی فداکاری اور شہادت نے انسانی افکار کو ارتقاءبخشا ہے: گبن
مشہور انگریز تاریخ نویس (Gibbon) کا کہنا ہے: واقعہ کربلا کو رونما ہوئے کافی وقت گزر چکا، ساتھ ہی ہم نہ ان کے ہم وطن ہیں، اس کے باوجود وہ مشکلات اور مشقتیں کہ جن کو حضرت حسینؓ نے تحمل سے برداشت کیا، یہ سنگ دل قاری کے احساسات کو بھی ابھارتا ہے اور آپ ؓسے ایک خاص قسم کی محبت اور ہمدردی ان کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔ میں اس عظیم تاریخی واقعے کے واقع ہونے کی اہمیت سے واقف ہوں، امام حسین ؓکی فداکاری اور شہادت نے انسانی افکار کو ارتقاءبخشا ہے، اس واقعے کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہیئے اور اس کی یاد آوری بھی ہوتی رہنی چاہئے۔ آنے والی صدیوں میں مختلف ممالک میں واقعہ کربلا کی منظر کشی اور حسین ؓکی شہادت کی وضاحت سنگ دل ترین قارئین کے دلوں کو موم بنانے کا سبب بنے گی۔
جیمز فریڈرک کا کہنا ہے کہ امام حسین ؓکا بشریت کے لیے پیغام یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے والی عدالت، رحم وکرم، محبت و سخاوت جیسے ناقابل تغییر اصول موجود ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ جب بھی کوئی ان ابدی اصولوں کے لیے استقامت کا مظاہرہ کرے تب ایسے اصول ہمیشہ دنیا میں باقی رہیں گے اور ان میں پائیداری آجائے گی۔
آج بھی دنیا کی موجودہ یزیدیت کو سرنگون کرنے کے لیے کردار حسینی کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی تمام مشکلات کا بنیادی سبب پیغام حسینی سے دوری اختیار کر کے یزید صفت استعماری طاقتوں کے سائے میں پناہ لینا ہے۔ حسینی کردار کے حامل افراد اگر پیدا ہو جائیں تو معاشرے میں موجود تمام یزیدی افکار کو سرنگون کر کے حسینی افکار کو زندہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ امام حسین ؓکا بنیادی ہدف معاشرے میں امربہ معروف اور نہی عن منکر کو عام کرنا، اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کرنااور ظالموں سے مقابلہ کرکے مظلوموں کو ان کا حق دلانا ہے۔آپ ؓ نے ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو اپنے لیے ننگ و عار اور ان کو سرکوب کرنے کی راہ میں شہادت پانے کو اپنے لیے سعادت قرار دیا۔ یوں آپؓ نے ہر قسم کی طاقتوں سے آراستہ یزیدیت کو کربلا کی سرزمین میں دفن کر کے حسینیت کو تاقیام قیامت دوام بخشا۔ ساتھ ہی حق و باطل کے درمیان آپ ؓنے ایسی دیوار کھڑی کر دی جسے ہزاروں یزیدی صفت افراد بھی آج تک نہ گرا سکے ہیں اور نہ ہی قیامت تک گرا سکیں گے۔ یہ سب کچھ کربلا کے لق دق صحرا میں آپ کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: