...................... .................

سیرت و کردارِمولا علی کرم اللہ وجہہ

علّامہ سیّد شہنشاہ حسین نقوی …..
ابتدا عظیم اور دائمی رحمتوں والے اللہ کے نام سے۔
اَن گنت درود و سلام حضرات محمد وآلِ محمد پر۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کشتیِ معرفت کا کنارا علیؓ
سب سہاروں سے بہتر سہارا علیؓ
آﺅ اہلِ جہاں، یوں کریں فیصلہ
ساری دُنیا تمہاری ہمارا علیؓ

عزیزانِ گرامی قدر!21رمضان المبارک یومِ شہادت ہے نفسِ پیغمبر،مظہرِ کبریا، زوجِ بتول ؓ، اَخِ رسول،اسداللہ، یداللہ،عین اللہ، لسان اللہ جَنب اللہ،رِجل اللہ ، عیبة اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا۔ہم اِس انتہائی غم و الم کے موقع پر ہم حضرت امامِ عصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور تمام عالمِ اسلام کودِلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور بارگاہِ ایزدی میں دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خلوصِ دل سے اہلِ بیتِ عظام ؓ کے راستے پرچلنے کی توفیق کرامت فرمائے۔(آمین)
علی ؓ کو سمجھنے کے لیے دماغ بھی علی کرنا پڑے گا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگرعلی ؓ کو سمجھ لیا جائے تو اللہ سمجھ میں آجائے گا۔اللہ نے علی ؓ کو اپنی مددکا مظہر قرار دیا ہے۔آپ کے تمام تر فضائل اور کمالات کو اگر مرکزی نقطے میں تلاش کریں، تو وہ ہے مرضیِ پروردگار۔اگر مولا علی کرم اللہ وجہہ کا تذکرہ شجاعت ،تذکرہ لیاقت، تذکرہ علم،تذکرہ حلم، تذکرہ خدمتِ سماج ،تذکرہ عدالت ،تذکرہ قضاوت، تذکرہ سخاوت،تذکرہ حُسنِ اَخلاق، تذکرہ تدبّر،تذکرہ سیاست، تذکرہ بصیرت ،تذکرہ انسانیت ، تذکرہ شہادت نہ ہو توتاریخِ اسلام نامکمل رہ جاتی ہے۔
امیر المومنین ، امام المتقین ، یعسوب الدّین حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ دُنیا میں ہر لمحہ اپنے ربّ سے وابستہ رہے۔ ابتدا اللہ کے گھر سے ہوئی اور آخروقت اللہ کے گھر ہی میں آیا، آپ کی درمیانی زندگی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ سے کتنی وابستہ تھی ۔
ایک دن حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کو بہت غور سے تکتے ہوئے حضرت ابو بکرؓ کو بہت دیر ہوگئی، تو کسی نے پوچھ لیا کہ” آج آپ علی کرم اللہ وجہہ کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔“تو انھوں نے کہا:”آج صبح میں نے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سُنی ہے۔“
”جو علی ؓکے چہرے کو دیکھے گا،اُسے اللہ کی عبادت کا ثواب ملے گا۔“(الریاض النظرہ فی مناقب العترة۔حافظ محب الدین الطبّری۔ص37،39 )
بزرگ عالمِ باعمل ،حجة الاسلام والمسلمین علاّمہ سیّد ذیشان حیدر جوادی ؒ ایک جگہ تحریر کرتے ہیں:
”مولائے کائنات حضرت علیؓ ابنِ ابی طالب ؓ کی زندگی کا مطالعہ کرنے والاسب سے پہلے جس حقیقت کا ادراک کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ زندگی ایک عظیم ترین مثالیہ اور روشن ترین منزل ہے۔انسانیت جس جنت ِ گمشدہ کی تلاش میں ہے،اُس کے حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ حیاتِ علیؓ ابنِ ابی طالبؓ ہے، جس میں زندگی کے ہر رُخ کا بہترین نمونہ ہے اورہر پہلو کا عظیم ترین شاہکار پایا جاتا ہے۔“(ذکرو فکر۔علاّمہ سیّد ذیشان حیدر جوادیؒ۔ص394)مرزا دبیرؒ نے کیا خوب کہا ہے:
جب نامِ علی ؓ منہ سے نکل جاتا ہے
گر کوہِ مصیبت ہو تو ٹل جاتا ہے
کیا نام ہے اِس نام کے صدقے ہو دبیر
گرتا ہوا اِنسان سنبھل جاتا ہے
خصائصِ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سلسلے میں چند خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علاّمہ جوادی ؒ اپنے مخصوص انداز میںیوں رقم طراز ہیں:
”1۔آپ کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے، جس میں اوّلین و آخرین میں کوئی آپ کا شریک نہیں ہے۔
2۔آپ کو پہلی غذا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعابِ دہن سے ملی ہے۔
3۔آپ کی تربیت کا مکمل کام سرکارِ دو عالم نے انجام دیا ہے۔
4۔اسلام کی دعوتِ اوّل کے موقع پر انتظامات کا سارا کام آپ نے انجام دیا ہے۔
5۔شبِ ہجرت بسترِ رسول پرآپ نے فدا کاری کا مظاہرہ کرکے سرکار کی جان بچائی ہے۔
6۔ہجرت کے موقع پر اہلِ مکّہ کی امانتوں کے واپس کرنے کا کام سرکار نے آپ کے سپرد کیاتھا۔
7۔مدینے میں قدم رکھتے وقت جب مسجد قباءکی تعمیر ہوئی ہے ،جو اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے، تو اُس کی تعمیر کا بنیادی کام آپ ہی نے انجام دیا تھا۔
8۔اسلام کے پہلے جہاد بدر میںستّر کفار میں سے نصف سے زیادہ آپ ہی کی تلوار سے مارے گئے تھے۔
9۔ میدانِ اُحد میں ”لا فتیٰ اِلّا علی ؓ “ کا خطاب آپ ہی کو ملا تھا۔
10۔جنگِ خندق میں ”کُلِ ایمان“ آپ ہی کو قرار دیا گیاتھا۔
11۔عمرو بن عبدود عامری کے قتل کے موقع پر سرکارِ دو عالم نے آپ ہی کی ضربت کو ثقلین کی عبادت سے گراں تر قرار دیا تھا۔
12۔”اعلم صحابہ“ کا خطاب آپ ہی کو دیا گیا ہے اور ”بابِ مدینة العلم“بھی آپ ہی کو قرار دیا گیا ہے۔
13۔منبر پر ”سلونی سلونی قبل ان تفقدونی“(پوچھو پوچھو اِس سے پہلے کہ تم نہ رہو) کا اعلان آپ ہی نے کیا ہے۔
14۔معصومہ عالم جنابِ فاطمہ ؓ سے عقد کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔
15 ۔مباہلے میں” نفسِ رسول “ آپ ہی کو قرار دیا گیا ہے۔
16۔اسلامی مجاہدات میں ہزاروں افراد کے قتل کا سہرا آپ ہی کے سرہے۔
17۔عالمِ انوار سے رسالتِ پیغمبر کے گواہ بننے کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔
18۔اسلام میں مختلف علوم بالخصوص ادبیات کی ایجاد کا کام آپ ہی نے انجام دیا ہے۔
19۔جنگِ خیبر کے موقع پر” کرّار غیرِ فرّار“ کا لقب آپ ہی کو دیا گیا ہے۔
20۔اسلام کے جملہ مجاہدات میں ایسا امیرِ لشکرجس کا کوئی دُوسرا امیر نہ ہو،آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔
21۔معراج میں پیغمبر اسلام سے آپ ہی کے لہجے میں باتیں ہوئی ہیں۔
22۔ایسی سخاوت جس پر سورہ دہر کا نزول ہوجائے، آپ ہی کا کارنامہ ہے۔
23۔ایسی زکوٰة جس پر آیتِ ولایت نازل ہوجائے، آپ ہی کی زکوٰة ہے۔
24۔سب سے پہلے اظہارِ اسلام اور تصدیقِ پیغمبر کا کام آپ ہی نے انجام دیا ہے۔
25۔سب سے پہلے سرکار کے ساتھ نماز آپ ہی نے ادا کی ہے۔
26۔اسلام کے سب سے بہتر قاضی اور فیصلہ کرنے والے آپ ہی تھے۔
27۔معرفتِ الٰہی میں سرکارِ دو عالم کے بعد سب سے بالا تر آپ ہی کی ذات تھی۔
28۔آپ نے تمام زندگی میں ایک لمحہ بھی بُتوں کی پرستش نہیں کی ہے۔ اور اِسی لیے کرّم اللہ وجہہ کی تعبیر بھی آپ ہی کے لیے ہے۔
29۔اُحد کے میدان میں ثباتِ قدمی کا مظاہرہ کرنے والوں میں سب سے نمایاں ہستی آپ ہی کی ہے۔
30۔حدیبیہ کے موقع پر صلح نامہ کی کتابت کا کام آپ ہی نے انجام دیا ہے۔
31۔آیتِ تطہیر میں آپ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس میں دوسرے مسلمانوں میں کوئی آپ کا شریک نہیں ہے۔
32۔آپ کو ”سردارانِ جوانانِ اہلِ جنت “سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے۔
33۔آپ کو” ساقیِ کوثر“ کا لقب ملا ہے۔
34۔دوشِ پیغمبر پر بلند ہوکربُت شکنی کا کام آپ ہی نے انجام دیا ہے۔
35۔غدیرِ خم میں آپ ہی کو” مولا“ بنایا گیا ہے۔
36۔قرآنِ مجید کو ترتیب و تفسیر کے ساتھ آپ ہی نے جمع کیا تھا۔
37۔سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔“(ذکرو فکر۔ علاّمہ سیّد ذیشان حیدرجوادیؒ۔ ص404تا407)
علاّمہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ نے اِسی لیے تو کہا ہے:
ہمیشہ وردِ زباں ہے علی ؓ کا نام اقبال
کہ پیاس رُوح کی بجھتی ہے اِس نگینے سے
آئیے قارئینِ محترم! اب ہم چند منتخب اقوالِ حضرتِ مولا علی کرم اللہ وجہہ کی سدا بہار” بزمِ بصیرت“ میں حاضر ہوتے ہیں، تاکہ اُس سے بہتراستفادے کے نتیجے میںخدا پسندزندگی سے قریب ہوجائیںاورپھر ہمارا نامہ اعمال ہمیں اِن شاءاللہ( اصحابِ یمین کی مانند) سیدھے ہاتھ میں ملے۔(آمین)
1۔”بدن کی صحت کا ایک ذریعہ حسد کی قلّت بھی ہے۔“(نہج البلاغہ۔ کلماتِ قصار۔ حکمت256 )
2۔”جب غربت کا شکار ہوجاﺅ تو اللہ سے صدقے کے ذریعے تجارت کرلو۔“(صدقہ صرف دولت مندوں کے لیے نہیں ہے)۔(حکمت258)
3۔”حکماءکا کلام دُرست ہوتا ہے تو دوا بن جاتا ہے اور غلط ہوتا ہے تو بیماری بن جاتا ہے۔“(حکمت265)
4۔”خبردار!اپنے علم کو جہل نہ بناﺅ اور اپنے یقین کو شک قرار نہ دو۔“(حکمت274)
5۔”جو دُوریِ سفر کو یاد رکھتا ہے، وہ تیاری بھی کرتا ہے۔“(حکمت280)
6۔”علم ہمیشہ بہانے بازوں کے عذر کو ختم کردیتا ہے۔“(حکمت284)
7۔”تمہارے اور نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک پردہ حائل رہتا ہے۔“(حکمت282)
8۔”جب پروردگار کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے، تو اُسے علم و دانش سے محروم کردیتا ہے۔“(حکمت 288)
9۔”عبرتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان کے حاصل کرنے والے کتنے کم ہیں۔“(حکمت297)
10۔”موت سے بہتر کوئی محافظ نہیں ہے۔“(حکمت306)
11۔”غیرت دار انسان کبھی زنا نہیں کرسکتا۔“(کہ یہی مصیبت اُس کے گھر بھی آسکتی ہے)(حکمت305)
12۔”مومنین کے گمان سے ڈرتے رہو کہ پروردگار حق کو صاحبانِ ایمان ہی کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے۔“(حکمت309)
13۔”تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے اور تمہارا خط تمہارا بہترین ترجمان ہوتا ہے۔“(حکمت301)
14۔”فقیر و مسکین درحقیقت خدائی فرستادہ ہے، لہٰذا جس نے اُس کو منع کردیا ،گویا خدا کو منع کردیا اور جس نے اُسے عطا کردیا، گویا قدرت کے ہاتھ میں دے دیا۔“
عزیزو!ماہِ شعبان کا آخری ہفتہ۔۔۔نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے ہیں۔۔۔
” اے لوگو!اللہ کا مہینہ تمھارے نزدیک آرہا ہے ، جس مہینے میں اللہ نے تمھیں مہمانی پہ بلایا ہے۔“
”اِس مہینے میں سانس لینا بھی اللہ کی عبادت، روزہ رکھ کر سو جانا بھی اللہ کی عبادت، اِس مہینے میں ایک کھجور کے برابرصدقہ دینا بھی گناہوں کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔“
اور پھر نبی مکرّ م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس مہینے کے متعلق جس مہینے میںبحمداللہ آپ اور ہم سانس لے رہے ہیں، دیگربہت سے فضائل سے عوام الناس کو آگاہ کیا۔۔۔
اور پھر جب نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ مبارک رمضان کی فضیلت و عظمت کو بیان کردیا، تو ایک کونے سے مولا علی ؓ کی آواز آئی، جو مجمعے میں بیٹھے تھے۔۔۔ آواز دے کر کہتے ہیں:
”اے رسول اللہ! اِس مہینے میں سب سے افضل عمل کون سا ہے؟“
نبی مکرّم نے علی ؓ کو غور سے دیکھ کر مسلسل رونا شروع کیا۔۔۔ میرے مولا کی آنکھوں سے، نبی مکرّم کی آنکھو ں سے آنسو گرنے لگے۔۔۔
میرے مولا علی ؓ نے سوال کیا:
”یا رسول اللہ!میں نے کوئی ایسی بات کی کہ جس سے آپ نے گریہ کیا۔۔۔؟“
آنحضرت نے فرمایا:
” نہیں علیؓ! تمھاری بات کا جواب تو یہ ہے کہ اِس مہینے میں سب سے افضل عمل حرام چیزوں سے پرہیز ہے۔۔۔لیکن علیؓ میرے رونے کا سبب تمھاراسوال نہیں تھا، بلکہ میرے رونے کا سبب ایک واقعہ ہے، جو تمھیں دیکھ کریاد آگیا۔۔۔“
حضرت ؓ نے فرمایا:”یا رسول اللہ!وہ واقعہ کیا ہے۔۔۔؟“
نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”علیؓ! تم نے ماہِ رمضان میں بہترین عمل کا سوال کیا، مجھے یاد آگیا۔۔۔ماہِ رمضان ہوگا، اور اُنیس رمضان کا روزہ ہوگا،پہلی ساعت ہوگی،پہلا لمحہ ہوگا۔۔۔ اور علیؓ!تم مسجد کوفہ میں نماز پڑھ رہے ہوگے اور شقی ترین فرد تمھارے اُوپر تلوار مارے گا۔“
جو سب سے پہلا سوال مولا علیؓ نے یہ سن کر کیا۔۔۔
”اے اللہ کے نبی !مجھے بس ایک بات کا جواب دیجیے، کیا میں اُس وقت آپ کے دِین پر ہوں گا؟“
”ہاں علیؓ! میں بشارت دیتا ہوں، تم اُس وقت میرے دِین پر ہوگے ۔“(ماخوذ از خطبہ شعبانیہ)
علی ؓ کو اس کی فکر نہیں ہے کہ میں اس میں بچوں گا یا شہید ہوجاﺅں گا۔مولا علی کرم اللہ وجہہ کو اِس کی فکر ہے کہ میں دِین سالم رکھنے والا ہوں گا۔۔۔
اورپھر وہ وقت بھی آگیا، جب ابنِ ملجم کی تلوار کی ضربت کے بعد میرے مولا ؓ نے فرمایا:
”ربِّ کعبہ کی قسم!علی آج کامیاب ہوگیا۔“
یہ ذکرِ شکر، لسانِ صدق سے دائمی کامیابی کا اعلان تھا۔
فرمایا:”بیٹا حسنؓ ! نماز مکمل کرو۔“
امام حسنؓ نے نماز مکمل کی۔۔۔میرے مولا ؓ بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔میرے مولا ؓ کے سر سے خون بہہ رہا ہے۔۔۔ جب نماز مکمل ہوگئی ، تو مولا ؓ کو نعلین جنابِ عباسؓ پہنا رہے تھے۔۔۔
مولا حسن ؓ نے با با کو سہارا دے کر کھڑا کیا، ایک بازو امام حسین ؓ نے تھاما۔ ایک بازو محمد حنفیہؓ نے تھاما، سب بچوں نے اپنے با با کو بلند کیا۔۔۔
ابھی چار قدم چلے تھے ۔۔۔کہ دیکھا۔۔۔چلا نہیں جارہا۔ گلیم میں لٹا کرچلے۔
جب مولا کو چادر، گلیم، قالین پر لٹا کرچلنے لگے ، تو مولا علی کرم اللہ وجہہ¾ نے دیکھا کہ حسین ؓ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں، تو مولا ؓنے فرمایا:
”بیٹا حسین ؓ! روﺅ نہیں۔۔۔بیٹا! کتنے چاہنے والے آئے ہوئے ہیں۔۔۔“
ایک مرتبہ جناب عباس ؓ کو دیکھا کہ رو رہے ہیں۔ بلا کر کہا کہ” عباس ؓ! گریہ نہیں کرو، کتنے چاہنے والے آئے ہوئے ہیں۔۔۔“امام حسنؓ سے فرمایا:
”بیٹا حسنؓ! گریہ نہیں کرو۔ دیکھو جو حق کی خاطر جیتا ہے، اُسے یہ دن دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔“
اللّٰہُ اکبر۔ میرے مولا ؓنے اپنے بچوں سے کہا ،” گریہ نہیں کرو۔۔۔“سارے راستے جو علیؓ۔۔۔ سارے راستے مولا علی کرم اللہ وجہہ بیٹوں کو روکتے رہے۔۔۔”گریہ نہیں کرو۔۔۔گریہ نہیں کرو۔۔۔ اور اپنی بیٹی زینب ؓ کو آتے دیکھا تو بے اختیار رونے لگے ۔۔۔
مصائب کے یہ جملے خطبہ جمعہ میںرہبرِ معظّم آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ای مدظلہ العالی کے بیان سے استفادہ ہیں۔
سیّد آلِ رضا مرحوم و مغفورنے ہم سب کاکیا خوب حالِ دل بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں:
خطا سرشت ہیں بے شک گناہگار بھی ہیں
لحاظ آتا ہے مولا ؓکے سوگوار بھی ہیں
یہ حق ادا نہ ہوا، سخت شرمسار بھی ہیں
شعورِ غم میں مگر اِتنے با شِعار بھی ہیں
خود اپنے دل کو اسی واسطے سے ٹوک لیا
نہ جانے کتنے گناہوں سے ہاتھ روک لیا
آخر میںصمیمِ قلب سے دُعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہم سب کو تعلیماتِ محمد وآلِ محمد اور سیرت و کردارِاہلِ بیت ِ کرام ؓپہ خلوصِ دل سے حتی الامکان عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) کہ موجودہ دَور میں معاشرے کے تمام تر افراد کی یہ اوّلین ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: