...................... .................

مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی رابطے بحال کرنے کا مطالبہ

امریکی خاتون کانگریس رکن الحان عمر نے مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی کم کرنے اور فوری طور پر مواصلاتی رابطے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں الحان عمر نے کہا کہ ’ ہمیں مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی رابطوں کی فوری بحالی، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا احترام، مذہبی آزادی اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کرنا چاہیے‘۔


الحان عمر نے مزید کہا کہ ’ بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کے حقائق جاننے اور اس سے متعلق آگاہ کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے‘۔
خیال رہے کہ الحان عمر کا مذکورہ بیان فرانس میں منعقد جی-7 اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گزشتہ روز ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔
نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان اور باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتے ہیں تاہم ہم ان دونوں ممالک کی مدد کے لیے موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے ان سے کہا کہ کشمیر ہمارے کنٹرول میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ رات اسی معاملے پر بات کی،، مجھے امید ہے کہ بھارتی وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات کریں گے اور دونوں بہتر نتیجے پر پہنچیں گے، کیونکہ دونوں ممالک اپنے طور پر مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔‘
یاد رہے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی۔
گزشتہ ہفتے امریکی اراکین کانگریس نے نئی دہلی پر مقبوضہ وادی سے قبضہ ختم کر کے کشمیریوں کو اپنے حق میں آواز اٹھانے کی اجازت دینے پر زور دیا تھا۔
امریکی کانگریس کی ہاؤس کمیٹی برائے آرمڈ سروسز کے چیئرمین ایڈم اسمٹھ نے امریکا میں بھارتی سفیر سے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ وہ ’کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں‘۔
واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے بھارتی سفیر کو بتایا تھا کہ ان کے کچھ ساتھی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے 5 اگست کے بعد علاقے کا دورہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی روابط منقطع ہونے، فوجی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور کرفیو کے نفاذ پر جائز تحفظات ہیں‘۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ مقبوضہ کشمیر کے رہائشی تنہا ہیں جبکہ پورے علاقے کا محاصرہ جاری ہے جہاں سے باہر رابطہ کرنا تقریباً ناممکن ہے‘۔
ایڈم اسمتھ نے بھارت کو یہ بھی یاد دہانی کروائی تھی کہ اس فیصلے کے ممکنہ نتائج خطے کی مسلم آبادی اور دیگر اقلیتوں پر حال کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بھی اثر انداز ہوں گے‘۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ
خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔
بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی کے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔
آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: