...................... .................

کشمیری مسلمان 22ویں روز بھی محصور، دنیا خاموش تماشائی

مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 22ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، جبکہ مسلم امہ سمیت انسانی کی نام نہاد تنظمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
ایچ ٹی وی پاکستان نے کشمیری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ رہا جس کے باعث مسلمان عید کی نماز اور سنت ابراہیمی علیہ اسلام ادا کرنے سے محروم رہے۔
یاد رہے کہ پانچ اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کردیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے اس عمل پر احتجاجا چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور پارلیمانی وفد کا متحدہ عرب امارات کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپورحمایت کرتا ہے،مودی حکومت کشمیری مسلمانوں پر ظلم و بربریت کر رہی ہے اور اس وقت تک مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو نافذ ہے، اس موقع پر یو اے ای کا دورہ کشمیریوں کی دل آزادی کا سبب بنے گا۔
خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے علاوہ باقی تمام مسلم ممالک بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: