...................... .................

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دجال ہے؟

اسرائیلی یہودیوں کے بعض اخبارات کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 2 خصوصی سفیر یہودیوں کے بڑے ربی چیم کنیوسکی کے پاس اس سوال کا جواب پوچھنے کیلئے بھیجے تھے کہ ’ دجال کا ظہور کب ہو گا؟‘اسرائیل سے تعلق رکھنے والے سب سے مشہور یہودی ربی چیم کنیوسکی کی عمر 91 سال ہے ۔ آرتھوڈوکس یہودیوں کے اخبار دیوری سیاچ میں چیم کنیوسکی کی تعلیمات کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ یہ اخبار چیم کنیوسکی کا پوتا چلاتا ہے جس نے جولائی میں دی گئی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے 2 یہودیوں نے 91 سالہ ربی سے ملاقات کرکے انہیں صدر ٹرمپ کا خصوصی پیغام پہنچایا۔
ٹرمپ کے یہودی سفیروں نے ربی سے کہا ’ ٹرمپ نے آپ کے یہودیوں پر اثرو رسوخ کے بارے میں بہت سنا ہے ، صدر نے ذاتی طور پر آپ کیلئے نیک خواہشات کا پیغام بھیجا ہے۔‘اس ملاقات کے وقت موقع پر موجود رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس پیغام سے چیم کنیوسکی قطعی طور پر خوش نہیں تھے۔
امریکہ سے آنے والے ایک یہودی نے ربی چیم کنیوسکی سے کہا ’ قابل عزت صدر ٹرمپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مسیح (دجال) کب آئے گا؟‘اس سوال کے جواب میں ربی مسکرائے اور سوال پوچھنے والے سے کہا’ اور آپ کی دجال کی آمد سے پہلے تیاری کیسی ہے ، کیا آپ اسرائیل میں رہنے کیلئے آئے ہیں؟ آﺅ اسرائیل میں قیام کرو اور خود اپنی آنکھوں سے دجال کا ظہور دیکھو‘یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکیوں نے ربی چیم کنیوسکی سے ملاقات کی ہے ، اس سے پہلے گزشتہ برس دسمبر میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈ مین نے بھی ربی سے ملاقات کی تھی ۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ربی چیم کینوسکی یہودیوں کے سب سے معتبر رہنما ہیں ، انہوں نے 4 سال قبل یہ اعلان کیا تھا کہ دجال کا ظہور قریب ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخاب کے بعد سب سے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا تھا جس کے بعد وہ براہ راست اسرائیل گئے تھے۔ 2017 میں کیے گئے اس دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ یہودیوں کے مقدس مقام ’ دیوار گریہ‘ پر بھی گئے تھے اور وہ ایسا کرنے والے پہلے امریکی صدر تھے۔
واضح رہے کہ آج سے صرف بسو سال قبل جو افراد، علمائے کرام اور جدیدیت مں جکڑے ہوئے مفکرین، قاجمت کے قرب مںگ ہونے والی بڑی جنگوں کے بارے مںد ابوابِ فتن مںں موجود احادیث کی اسناد پر بحث کرتے تھے، کسی کو من گھڑت، کسی کو ضعفا اور کسی کو سارسی مقاصد کے تحت تخلقں کردہ قرار دے کر مسترد کردیتے تھے.۔
ان اصحاب اور ملحدین مں۔ صرف ایک فرق ہے کہ ملحدین سرے سے خدا کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں جبکہ انکا تصورِخدا اتنا محدود ہے کہ اس نے یہ دنیا تخلق کی، اسے ایک قانون کے تابع کیا، پغمبر وں کے ذریعہ ہدایت بھیجی اور قیامت کی آمد کے انتظار تک وہ اب اسکے معاملات سے بے دخل ہو گیا ہے۔ اب جیسے لوگ یہاں کریں گے اسکا نتیجہ بھی ویسا ہی برآمد ہوگا۔ البتہ غلط اور صحیح عمل پر جزا و سزا آخرت میں دی جائے گی۔ لیکن، اسلام کا اللہ اپنے فیصلو ں پر قادر ہے۔ وہ آج بھی لوگوں کو اپنی طرف واپس لانے کے لیے آزمائش اور عذاب میں بھی ڈالتا ہے اور آزمانے کیلئے نعمتوں میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ وہ ہر گھڑی لوگوں، قوموں اور گروہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور انکے بارے میں مسلسل فیصلے بھی صادر فرماتا رہتا ہے۔
اسکے اسی حسنِ انتظام کا ایک بڑا حصہ وقت سے پہلے لوگوں کو ڈرانے (warnings) کا بھی ہے۔ وہ فرماتا ہے “اور اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ ضرور چکھائںr گے، شاید و باز آجائیں )السجدہ21: (۔ یینا! قیامت سے پہلے وہ قوموں کے افعال دیکھ کر انہںی مختلف عذابوں سے جھنجوڑتا ہے تاکہ وہ باز آ جائیں۔ یہ اسکی لوگوں کی زندگیوں میں مسلسل براہ راست مداخلت (intervention) ہے۔ وہ پغمبر وں کے ذریعے ہدایت دینے کے بعد بھی ہمیں ہر روز یہ دعا مانگنے کی تلقین کرتا ہے۔ “چلا ہمں سیدھے راستے پر”( الفاتحہ)۔
چونکہ دنیا کے حالات اسقدر دگرگوں ہو جائیں گے کہ آدمی کا ہدایت پر قائم رہنا مشکل ہوگا۔ تو اسی مقصد کے لئے اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے قیامت سے کچھ عرصہ قبل ییغمبر آخر الزماں کے بارے میں بہت تفصیل سے پیش گوئی عوام تک پہنچائی۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: