...................... .................

پاک فوج قوم کی مدد سے بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کسی بھی طرح کا مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو قوم کی مدد سے پاک فوج منہ توڑ جواب دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیر میں جو صورتحال ہے اس کا براہ راست تعلق پاکستان کی سیکیورٹی سے بھی ہے اور اس حوالے سے بھارتی عسکری قیادت کے بیان بھی سامنے ہے، وہاں ہر گھر کے دروازے پر فوج کھڑی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکری کارروائیاں پاکستان کی مدد سے کی جارہی ہیں، تاہم خدشات ہیں کہ بھارت پلوامہ جیسی کارروائی کرسکتا ہے جس کی بنیاد بنا کر وہ پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں، ایسے میں اگر کوئی عسکری کارروائی ہوتی ہے تو وہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی ناکامی ہوگی۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارت مظالم اب دنیا کی نظر میں آچکے ہیں، ایسے میں اگر پاکستان کی سرزمین سے اگر پلوامہ جیسی کارروائی ہوتی ہے تو یہ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ غداری ہوگی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، تاہم پاکستان ایسے پروپگینڈے کو مسترد کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب سے عسکری کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ریاست کا موقف رہا ہے کہ کشمیر تنازع نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، کیونکہ اس میں شامل 2 ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں جہاں روایتی جنگ کی گنجائش نہیں ہے تاہم جس جانب بھارت جارہا ہے دنیا کو اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آج کل کسی زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کیونکہ جب تک دنیا کو معلوم ہوگا کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان کیا ہورہا ہے تو ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اس وقت اپنی مغربی سرحد پر امن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے اور وہاں ہماری توجہ مرکوز ہے، آپ کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ہمارا ہمیشہ خطرہ مشرقی سرحد سے ہوتا ہے اور یہیں دیکھا ہے اور اگر یہاں کوئی مرحلہ آیا تو ہم یہاں بھی موجود ہوں گے اور چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کتنی دیر میں بھارت کے کتنے شہر ایٹمی حملے کے جواب میں تباہ کر سکتا ہے تو اس پر پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سنجیدہ ترین نوعیت کا ہے، اس پر بھارت نے جو بات کی ہے وہ ان کا اپنا موقف ہے، لیکن ایسے موضوع پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ قومی کو اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد سے نمٹنے کے لیے مسلح افواج کے پاس صلاحیت موجود ہے جس کا نمونہ قوم نے 27 فروری کو دیکھا، تاہم اگر وہ ہمیں پھر بھی آزمانا چاہتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستانیوں نے بھارتی پروپگینڈے کو آؤٹ پلے کیا جس پر میں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: