...................... .................

کیا دنیا بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھنا چاہتی ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال کو سربرانیکا (بوسنیا) اور گجرات (بھارت) سے تشبیہ دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی نسل کشی کے خدشے کا اظہار کردیا۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری آج 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) کو بطور یوم سیاہ منا رہے ہیں اور ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی پروفائل تصویر کو سیاہ کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 12 روز سے کرفیو نافذ ہے، وہاں فوج کی اضافی نفری تعینات ہے، رابطوں کے تمام ذرائع پر پابندی ہے۔
انہوں نے کشمیر کی صورتحال کو بھارت کی ریاست گجرات اور بوسنیا کے شہر سربرانیکا میں ہونے والے مسلم کش فسادات سے تشبیہ دے دی۔


وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کیا دنیا خاموشی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی سربرانیکا (بوسنیا) جیسے مسلم کش فسادات دیکھے گی؟


انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر مقبوضہ وادی میں ایسا کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کے اثرات پوری مسلم دنیا پر پڑیں گے جس کا شدید رد عمل سامنے آئے گا جبکہ انتہا پسندانہ اور تشدد کی سوچ پروان چڑھے گی۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: