...................... .................

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کچلنے کیلئے مودی سرکاری کی سازشیں

منصور مہدی …..
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی وغیر آئینی ہے، آج بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور اس فیصلے سے 1947 میں مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا۔
واضع رہے کہ بھارتی صدر رام ناتھ کووِند نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر راجیا سبھا (ایوان بالا) کے اجلاس میں بحث ہوئی۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیا سبھا میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیئے ہیں۔
خیال رہے کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔
اپوزیشن کا شدید احتجاج
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق راجیا سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ ‘بی جے پی نے آج آئین کا قتل کردیا، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔’ علاوہ ازیں کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے اراکین اسمبلی نذیر احمد لاوے اور میر فیاض نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل پیش کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا، دونوں کو آئین کی کاپی پھاڑنے کی کوشش پر ایوان سے باہر نکال دیا گیا جبکہ میر فیاض نے احتجاجاً اپنا قمیض پھاڑ لیا۔بھارتی پارلیمنٹ میں ایک جانب حکومت کے اس اعلان کے حوالے سے بحث ہورہی تھی تو دوسری طرف بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت، مقبوضہ کشمیر میں مزید 8 ہزار فوجی بھیج رہی ہے۔رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں کو فضائی راستے سے مقبوضہ کشمیر بھیجا جا رہا ہے۔بھارتی حکومت گزشتہ ہفتے 35 ہزار اضافی فوجی مقبوضہ وادی بھیج چکی ہے۔
آج بھارت کی جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے
بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے اعلان کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج کا دن بھارت کی جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے 1947 میں دو قومی نظریے کو رد کرنا اور بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آج غلط ثابت ہوا، بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے بھارت، جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا’۔ ایک اور ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، بھارتی حکومت کے ارادے واضح ہیں، وہ جموں و کشمیر کے علاقے کو یہاں کی عوام کو خوفزدہ کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بھارت، کشمیر کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو چکا ہے’۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کشمیر عمر عبداللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ یک طرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے دور رس سنگین نتائج مرتب ہوں گے جو ریاست کے عوام کے خلاف جارحیت ہے جس کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں نے خبردار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خاموشی سے اس تباہ کن فیصلے کے لیے فضا ہموار کی، بدقسمتی سے ہمارا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوگیا جبکہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے نمائندے ہم سے جھوٹ بولتے رہے کہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں لیا جارہا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب کشمیر کو ایک گیریڑن میں تبدیل کردیا گیا اور کشمیری عوام کو جمہوری آواز دینے والے ہم جیسے لوگ قید میں ہیں اور ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ یک طرفہ، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، جسے ان کی جماعت چیلنج کرے گی، ایک طویل اور مشکل لڑائی لڑنی ہے، جس کے لیے ہم تیار ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کیا ہے؟
واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے، تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 35 ‘اے’ اسی آرٹیکل کا حصہ ہے جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق اور استحقاق کی تعریف کے اختیارات دیتا ہے۔
1954 کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 ‘اے’ آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا ہے۔آرٹیکل 35 ‘اے’ کے تحت مقبوضہ وادی کے باہر کے کسی شہری سے شادی کرنے والی خواتین جائیداد کے حقوق سے محروم رہتی ہیں، جبکہ آئین کے تحت بھارت کی کسی اور ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔آئین کے آرٹیکل 35 ‘اے’ کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔ مبصرین کا کہنا ہے مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کی پیروی کرتے ہوئے ایسا اقدام اٹھایا ہے۔
کرفیو کی طرز پر سخت پابندیاں
قبل ازیں بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں کرفیو کے طرز پر نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند کردیا گیا تھا۔ عمر عبداللہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں نظر بند کردیا گیا ہے اور اسی طرح کا طرز عمل دیگر رہنماو¿ں کے ساتھ بھی جاری ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ مجھے رات کے دوسرے پہر سے گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے‘۔ عمر عبداللہ کے ٹوئٹ کے چند لمحات کے بعد ہی جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اطلاعات ہیں کہ انٹرنیٹ سروس سمیت موبائل سروس کو معطل کیا جارہا ہے کرفیو کے احکامات بھی جاری ہورہے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ’خدا جانتا ہے کہ اگلا دن کیسا ہوگا، یہ ایک طویل رات ثابت ہورہی ہے‘۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ ‘کتنی عجیب بات ہے کہ ہم جیسے منتخب نمائندے، جو امن کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں، گھر پر نظر بند کردیے گے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں لوگوں کی آواز بند کی جارہی ہے’۔دوسری جانب ایک بھارتی صحافی نے ٹوئٹ کیا کہ یہ مسئلہ نہیں کہ جموں و کشمیر سے متعلق کیا فیصلہ ہوگا لیکن منتخب نمائندوں کو ان کے گھر پر نظر بند کرنے کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔قابض بھارتی انتظامیہ نے پوری وادی میں فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی جبکہ سری نگر میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
پاکستان کا شدید احتجاج
پاکستان نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق اعلانات کی پ±رزور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارتی حکومت کا کوئی یک طرفہ اقدام متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے عوام کے لیے کبھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی تنازع میں ایک فریق کی حیثیت سے پاکستان، بھارت کے غیرقانونی اقدامات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن راستے اختیار کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ خیال رہے کہ بھارتی صدر رام ناتھ کووِند نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے۔
خصوصی آرٹیکل کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔
بھارت نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا
بھارت کی جانب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج کا اقدام بھارت کی ناکامی کاعتراف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی حکومت کو اندازہ ہوتا کہ ان کی پالیسیز کارآمد ہیں اور کشمیری عوام ان کے فیصلوں کی تائید کرتے تو نہ تو وہ گورنر راج لگاتے نہ صدارتی حکم کے ذریعے حکومت کرنے کے لیے کشمیر کی اسمبلی کے انتخابات سے فرار اختیار کرتے۔بھارتی حکومت کے فیصلے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو لداخ اور یونین ٹیریٹری میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نا امید ہوچکے ہیں کیوں کہ آج افراد جو ماضی میں بھارتی حکومت کی پالیسی اتفاق کرتے تھے آج وہ بھی قید ہیں۔چنانچہ انہوں نے عوام سے راہِ فرار اختیار کرکے بزور ِ بازو حقِ خودارادیت کو کچلنا چاہتے ہیں لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے کہ اس اقدام سے وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرلیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات لکھ لیں کہ اس اقدام سے مسئلہ کشمیر مزید نمایاں ہوا ہے اور وقت بتائے گا کہ انتخابات جیتنے کے زعم میں بی جے پی سرکار نے خطرناک کھیل کھیلا ہے جس کے دور رس نتائج مرتب ہوںگے۔انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے قبل ہی پاکستان کی جانب سے خطوط ارسال کیے جاچکے تھے اور قومی سلامتی کا اجلاس بھی منعقد کیا گیا کیوں کہ ہمیں پہلے ہی بھارتی حکومت کے اقدامات سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کچھ ایسا کرنا جارہا ہے۔
بھارت کا اقدام اقوامِ متحدہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی ٹوئٹس کے ذریعے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی سخت مذمت کرتا ہوں، بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کردیا جو اقوام متحدہ کے خلاف جنگ کا اعلان ہے اور عالمی برادری کا امتحان۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان فی الفور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے، چین، روس، ترکی، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک سے فوری طورپر رابطہ اور مشاورت کی جائے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کشمیری تنہا نہیں، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، قائد اعظم کے اس فرمان پر ہر پاکستانی کٹ مرنے کو تیار ہے، جو ہماری شہہ رگ اور قومی عزت وغیرت پر ہاتھ ڈالنے کی حماقت کرے گا، وہ بھیانک انجام سے دوچار ہوگا، کشمیریوں کو پیغام دیتے ہیں کہ ان کے جائز قانونی اور انسانی حقوق کے لئے پاکستان ہر حد تک جائے گا، کشمیر کاز کے لئے پاکستان یک آواز اور متحد ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش بھارتی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی توہین ہے، استصواب رائے کشمیریوں کا جمہوری حق ہے، بھارت کشمیر میں جمہوریت کا قتل کررہا ہے جو عالمی برادری کا امتحان ہے، یہ پاکستان کے قومی مفاد کا معاملہ ہے، اس پر پورا پاکستان ایک ہے، سیاسی وعسکری قیادت کے اجتماعی فیصلوں کا وقت آگیا ہے، کشمیر کاز کے لئے پاکستان یک آواز اور متحد ہے، پارلیمان کا مشترکہ ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے کر جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر بھارت کے مظالم ناقابل برداشت ہیں، انتہا پسند بھارتی حکومت کے عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں، صدر پاکستان فی الفور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لئے حکم جاری کریں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی بھارتی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بی جے پی کے مکروہ عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں، کشمیر کی خود مختارحیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے اس حوالے سے کہا کہ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے باقاعدہ اعلان جنگ کردیا ہے، جس شق کو نہرو ختم نہ کرسکا، اسے مودی نے ختم کرکے بتادیا کہ بھارت اشتعال انگیز ریاست ہے، شرم آرہی ہے کہ ہمارا حکمران بھی مودی کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیتا رہا ہے، عمران خان صاحب! کہاں ہے وہ مودی جس کی جیت کو آپ کشمیر کے مسئلے کے حل سے تعبیر کرتے رہے، ریاست پاکستان کو کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی بنانا ضروری ہے، بھارت سن لے! پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ کشمیریوں کے لیے کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے اہم رہنما قید اور نظربند ہیں، بھارتی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے،بھارت نے اس اقدام سے شملہ معاہدے اور عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کا کشمیر کے حوالے سے فیصلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، کشمیر متنازعہ علاقہ کوئی طاقت کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتی، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ، بین الاقوامی برادری کو کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور: جے یو آئی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرکے حکومتی موقف سنے گی اور بھارت نے جنگ مسلط کی تو جواب دیں گے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے سے مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہا، ہمارا احتجاج ریاست کی تقسیم پر ہے، 35 اے ریاست کے مہاراجہ نے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے بنایا تھا جب کہ ہمیں پاک فوج پر مکمل اعتماد ہے، بھارت کے ساتھ 70 سال کے حساب کتاب چکانے ہیں، آزاد کشمیر کا بچہ بچہ افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔
دوستوں اگر ہم بچ نہ سکیں تو باتوں، دعائوں میں یاد رکھنا
بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بند کرنے سے قبل کشمیریوں نے اپنے پیغامات میں کیا کہا؟ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے تقریباً 70 لاکھ کشمیری عوام اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔علاوہ ازیں بھارتی حکام نے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کے ساتھ لینڈ لائن ٹیلی فونز بھی بند کردیے ہیں جس سے لوگوں میں مزید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔خیال رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے عوام کو اشیائے خورو نوش اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی ہدایات، سیاحوں اور یاتریوں کو فوراً واپس لوٹنے کے انتباہ اور اضافی نفری کے ساتھ سیکیورٹی کے دیگر اقدامات نے متنازع علاقے میں سخت خوف کی فضا پیدا کردی۔موجودہ صورتحال کے حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے وادی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔گرفتاری سے قبل ٹوئٹر پر اپنے آخری پیغام میں عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’دیگر رہنماو¿ں کو بھی نظر بند کرنے کا عمل جاری ہے، حقیقت کے بارے میں معلوم نہیں لیکن اگر ایسا ہے تو پھر ملاقات ہوگی، اللہ ہماری حفاظت کرے‘۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور کور کمانڈر کانفرنس طلب
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا ، اجلاس کل صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہوگا۔خیال رہے شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنماو¿ں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ادھر آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نےکل کورکمانڈرزکانفرنس طلب کرلی ، جس میں بھارت کے غیرآئینی قدم،ایل اوسی صورتحال اور بھارت کے کسی ممکنہ مس ایڈونچر کا بھرپورجواب دینے پرغور کیا جائے گا۔
بھارت کا گھناﺅنانا چہرہ دنیا اور کشمیریوں کے سامنے بے نقاب
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز جماعتوں پر بھی واضح ہو گیا ہے کہ کشمیر پر بھارت کی حیثیت ایک قابض ملک سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کے لیے تشکیل کردہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا جو اقدام اٹھایا ہے اس سے اس کا گھناوﺅنانا چہرہ دنیا اور کشمیریوں کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ ہے جہاں بھارت آٹھ لاکھ فوج کے ساتھ پرامن کشمیریوں کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ دفعہ 370بھارت نے بھارت نواز جماعتوں کی وفاداریاں خریدنے کےلئے بھارتی آئین کا حصہ بنائی تھی لیکن آج مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز جماعتوں پر بھی واضح ہو گیا ہے کہ کشمیر پر بھارت کی حیثیت ایک قابض ملک سے زیادہ کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
بھارتی آئین کا آرٹیکل35کیا ہے؟
1948 میں جب بھارت مقبوضہ کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں لے کرگیا جس نے پاکستان اور بھارت کو پابند کیا کہ وہ یہاں کے عوام کی مرضی و منشا کے مطابق الحاق کا اختیار انہیں دیں۔چنانچہ پاکستان اور بھارت دونوں اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ریاست کی آزادانہ حیثیت کو برقرار رہنے دیں۔ اس کےلیے پاکستانی آئین اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے اس کی حیثیت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق موجود دفعہ 35 اے کے مطابق جموں و کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے یہاں سرمایہ کاری کا اختیار حاصل ہے۔
یہ قوانین مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 سے لے کر 1932 تک نافذ کئے تھے۔ بی جے پی ہر دور میں اس قانون کو ختم کرنے کےلیے کوششیں کرتی رہی ہے لیکن ریاستی حکومت اس کے راستے میں رکاوٹ بنتے رہے۔تاریخی کتب کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد شمالی پنجاب کے لوگوں نے ریاست میں اپنا کاروبار بڑھانے کےلیے یہاں رہائش اختیار کی تھی، جس کے بعد مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس عمل سے ریاست کے پشتینی باشندوں کے کاروبار پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے مہاراجہ سے غیر ریاستی باشندوں کی آبادی روکنے کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد یہ قانون نافذ کیا گیا۔ جموں کے پنڈت اور وادی کے مسلمان سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ آرٹیکل میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے۔

جواب لکھیں