...................... .................

عید قربان اور معیشت پر اثرات، گذشتہ برس 400ارب کا کاروبار ہوا

منصور مہدی …..
بڑی عید کی آمد آمد ہے۔ جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔اس طرح عید الضحیٰ پر قربانی کے جانوروں سے حاصل ہونے والی کھال ملک میں لیدر کی صنعت کے لیے خام مال کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔
پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2018میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔اسی طرح 2017میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔
عیدِ قربان مذہبی تہوار کیساتھ معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن
عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ماضی میں قربانی میں اضافے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کا اندازہ ہے کہ اس سال عید الاضحٰی پر تقریباً 30 لاکھ سے زائد بڑے اور اتنے ہی چھوٹے جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔ توقع ہے کہ سال2019 میں گائیں کی کھالوں کی تعداد 23 لاکھ کو عبور کرسکتی ہے۔ بھینس کی قربانی ممکنہ طور پر کم ہوگی اور گزشتہ سال کی طرح 3 لاکھ بھینس کی کھالیں اکٹھا ہونے کی امید ہے جبکہ اونٹ کی 5 ہزار کھالیں جمع ہوسکتی ہیں۔ پاکستان میں چھوٹے چوپائے میں بکرے پسند اور قربان کیے جاتے ہیں اور اس سال 30 لاکھ سے زائد بکرے ذبیحہ کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ دنبے 3 لاکھ تک قربان کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کا اندازہ ہے کہ اس سال عید الاضحٰی پر تقریباً 30 لاکھ سے زائدبڑے اور اتنے ہی چھوٹے جانوروں کی قربانی کی جائے گی
عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی منڈی میں کساد بازاری، چین اور امریکا کی تجارتی لڑائی، اٹلی اور روس میں معاشی سست روی نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس کئی کئی سال کے اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعثگزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔ گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 16 سے 18 سو روپے میں خریدی گئی۔ جبکہ اس بار 14 سو سے 15 سو روپے میں خریدی جائے گی۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال 150 سے 200 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس بار یہ کھال 150 روپے یا اس بھی کم میں خریدی جائے گی۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی جائے گی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی جائے گی۔ اسی طرح گزشتہ سال بھینس کی کھال کی قیمت 700 روپے تھی۔ اس بار بھی 650 سے 700 روپے تک میں خریدی جائے گی۔
کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ چند ہفتے قبل ترکی کی کرنسی 20 فیصد ڈی ویلیو ہوئی ہے اور ایکسپورٹ مہنگی کر دی گئی ہے۔ یورپ میں اٹلی نمبر ون تھا، سارے یورپ کی طرح اس کی اکانومی بھی خراب ہو چکی ہے۔ اٹلی کی کرنسی بھی 30 فیصد ڈی ویلیو ہوچکی ہے۔ اٹلی جوتے بنا کر روس کو بھیجتا ہے، پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔
کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی ب±ری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔
خام چمڑے کی برآمدی صنعت
دنیا بھر میں خام چمڑے کی برآمدی صنعت میں اٹلی اور بھارت سرِفہرست ہیں اس کے علاوہ ہانگ کانگ، اسپین، فرانس، چین، تائیوان، ایتھوپیا اور سنگاپور بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ پاکستان چمڑے کی برآمدی صنعت میں 5ویں نمبر پر ہے اور مجموعی برآمدات کا 5.1 فیصد پاکستان کے پاس ہے۔ اسی طرح خام چمڑے کے بڑے خریداروں میں چین، ہانگ کانگ، اٹلی، ویت نام، فرانس، جنوبی کوریا، اسپین، پرتگال، سنگا پور اور جرمنی شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سے چمڑے کی برآمدات ایک ارب ڈالر رہیں، جس میں سے خام چمڑے کی برآمدات 35 کروڑ ڈالر جبکہ چمڑے سے بنی مصنوعات کی مالیت 73 کروڑ ڈالر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ 2014 اور 2015 میں پاکستان کی لیدر انڈسٹری (چمڑہ صنعت) کے لیے سنہرا سال تھا۔جس سال پاکستان سے خام چمڑے اور اس سے بنی مصنوعات کی برآمدات 1 ارب 23 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر رہیں۔ اس سال خام چمڑے کی برآمدات 53 کروڑ ڈالر سے زائد رہیں جبکہ ویلیو ایڈڈ سیکٹر میں برآمدات 70 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔ پاکستان میں جوتا سازی کی صنعت دنیا کی 8ویں بڑی صنعت ہے اور پاکستان کی برآمدات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔مذکورہ اعداد و شمار سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ پاکستان سے چمڑے کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی ہے مگر اس کمی میں ایک تبدیل ہوتا رجحان بھی نظر آرہا ہے۔ اب پاکستان سے خام چمڑے کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد کا تناسب بڑھ گیا ہے۔
چمڑے کی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار امریکا
اس وقت عالمی سطح پر چمڑے کی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار امریکا ہے۔ جہاں ایک شخص سالانہ اوسطاً جوتے کے 10 جوڑے خریدتا ہے جبکہ یورپ میں یہ شرح 7 جوڑے ہوگئی ہے۔ اس لحاظ سے اگر چین اور امریکا کے درمیان ہونے والی تجارتی جنگ کی وجہ سے چینی لیدر انڈسٹری مسائل کا شکار ہے اور وہاں سے چمڑے کی بنی ویلیو ایڈڈ مصنوعات امریکا برآمد نہیں ہورہی ہیں تو اس کا فائدہ پاکستان کے ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو اٹھانا ہوگا۔پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفکچر اور ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سال سے عالمی سطح پر لیدر کی صنعت بحران کا شکار تھی مگر اب معمولی بہتری نظر آرہی ہے۔ پاکستان سے چمڑے سے بنی مصنوعات میں ایک فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور امید ہے کہ بتدریج یہ صورتحال پاکستان کے حق میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پاکستان کو اقدامات کرنا ہوں گے۔
وسری طرف لیدر کی مصنوعات کو اس وقت چین میں بنے مصنوعی چمڑے سے مسابقت کا سامنا ہے۔ لیدر جیکٹ کی کم سے کم قیمت اگر 100 یورو ہے تو اس کے مقابلے میں مصنوعی لیدر کی جیکٹ 35 ڈالر میں دستیاب ہے۔ ابھی صارفین مصنوعی اور اصل چمڑے میں فرق نہیں کر پارہے ہیں تاہم یہ صورتحال بتدریج بہتر ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ چمڑے سے بنی جیکٹس، پینٹس اور اوور کوٹس کی طلب میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور چمڑے سے بنی فیشن ایکسی سیریز (جس میں جوتے، پرس، ہینڈ بیگز اور دیگر اشیاء شامل ہیں) کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستان میں امن و امان کے مسائل، ویزہ پالیسی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، یوٹیلٹیز (بجلی، گیس، پانی) کی قلت کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں گراوٹ بھی ویلیو ایڈڈ لیدر انڈسٹری کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خریدار پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ بھارت میں امن و امان اور پاکستان سے سستی مصنوعات ہیں۔ اگر قیمت کو بھارت کے مساوی بھی کرلیں تو بھی خریدار بھارت جانے کو ترجیح دیتا ہے۔
لیدر کی ویلیو ایڈڈ انڈسٹری
لیدر کی ویلیو ایڈڈ انڈسٹری چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں شمار کی جاتی ہے اور صنعت کار بہت کم سرمائے کے ساتھ اس شعبے میں کام کررہے ہیں۔ تاہم گزشتہ 3 سال سے حکومت نے تقریباً 20 ارب واپس نہیں کیے جس کی وجہ سے لیدر صنعت مالی بحران کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے برآمدی پیکج کی ادائیگیاں بھی نہیں ہورہی ہیں۔پاکستان میں چمڑے کی صنعت میں بحران کی بڑی وجہ صنعت کو جدید خطوط پر استوار نہ کرنا اور تبدیل ہوتے رجحانات کو اپنانے سے گریز کرنا بھی ہے۔ دنیا بھر میں چمڑے کی مصنوعات کے حوالے سے معیارات کو طے کرنے کے لئے لیدر ورکنگ گروپ تشکیل پاچکا ہے۔ اس گروپ میں کیمیکل کمپنیاں، ریٹیلرز، مینو فکچررز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ اس گروپ کا مقصد لیدر انڈسٹری کے معیارات کو مرتب کرنا اور ماحولیات پر اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔ اس گروپ میں بھارت کی 88، چین کی 76 جبکہ پاکستان کی صرف 3 کمپنیاں ممبر ہیں۔اس ممبر شپ کی وجہ سے بھارت خطے میں لیدر صنعت میں سب سے آگے ہے۔ بھارت سے چمڑے کی بنی مصنوعات کی برآمدات 74 فیصد اور خام چمڑے کی برآمدات 56 فیصد ہے جبکہ پاکستان خام چمڑے کی برآمد میں 27 فیصد اور ویلیو ایڈڈ میں 18 فیصد کی سطح پر کھڑا ہے۔
قربانی کی کھال کے لئے حفاظتی تدابیر
پاکستان کی چمڑے کی صنعت پوری دنیا میں ایک مقام رکھتی ہے۔ سیالکوٹ، قصور، لاہور اور کراچی میں چمڑے کی صنعت بہت عام ہے۔ تاہم ہمارے ہاں لوگوں میں کھالوں کی حفاظت کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک کے گردونواح سے جب لاکھوں، کروڑوں کھالیں جمع ہوتی ہیں تو فقط بے احتیاطی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وطن عزیز کی اس نمایاں صنعت کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔
بڑی عید کے موقع پر حاصل ہونے والی جانوروں کی کھالیں چمڑے کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ہر خاص وعام کو کھالوں کے عمومی نقائص کی بابت مکمل معلومات ہونی چاہیں تا کہ اس صنعت سے وابستہ لوگ اور معیشت اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اکثر صاحبان قربانی کے جانور کی کھال کے حوالے سے بے اعتنائی سے کام لیتے ہیں اور گوشت کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے بے تحاشا خوردبینی جاندار مثلاً بیکٹیریا وغیرہ کھال کی ہئیت کونقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی کھال بھی ہماری چمڑی کی طرح نازک اور حساس ہوتی ہے اور گھنے بالوں کے باوجود کیمیکلز، غلاظت، خون، مٹی میں موجود زہریلے مادوں، بیکٹیریا اور فنجائی سے خراب ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے بڑوں کو چاہیے کہ ایک دو بندوں کے ذمے کھال کی حفاظت لگا دی جائے۔
کھال جانور کے ذبح ہونے سے لے کر چمڑا بننے تک مسلسل نقصان پہنچنے اور گردونواح کے ماحول سے متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار رہتی ہے۔ سب سے پہلے قصائی کو چاہیے کہ کھال اتارتے وقت اس بات کا خصوصی دھیان رکھے کہ چربی اور گوشت کے چھیچھڑے کم سے کم اتریں۔ قربانی کرنے والوں کو چاہیے کہ کھال کے حوالے سے تین تدابیر ضرور اپنائیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ کھال کو کسی بھی تھیلے یا بوری میں بند نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے کھال کے گلنے سڑنے اور خورد بینی جانداروں کو بھرپور کارروائی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کھال کو کبھی روشنی یا پانی والی جگہ پر نہ رکھیں اور نہ ہی اسے صاف کرنے کے خیال سے دھوئیں بلکہ اسے ٹھنڈی، سایہ دار اور خشک جگہ پر پھیلا دیں۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ جب آپ قربانی کے جانور خریدیں توساتھ ہی ان کی کھالوں پر لگانے کے لئے نمک بھی خرید لیں۔ چھوٹی قربانی کے لئے ایک کلو جبکہ بڑی قربانی کے لئے چار سے پانچ کلو نمک خرید لیں اور جب کھال اتر جائے تو اندر گوشت والی سائیڈ پر اس طرح نمک لگا کر رکھ دیں کہ کوئی جگہ خالی نہ رہ جائے۔
اس طرح آپ اپنی قومی صنعت کے لئے ایک اہم ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ نیز کھالیں صدقہ کرنے کی صورت میں بھی صدقہ لینے والوں کے لئے تبھی سود مند ہیں اگر آپ نے کھال کے لیے مناسب حفاظتی تدابیر اپنائی ہوں وگرنہ قیمت کم لگنے یا کھال کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔
22سے 25فیصد کھالیںضائع ہو جاتی ہیں
پاکستان کی اہم صنعت جسے چمڑے کی صنعت بھی کہا جاتا ہے اس کا بہت بڑا دارومدار پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی کھالوں پر بھی ہے۔ قربانی کے موقع پر عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانور قربان کیے جاتے ہیں اس لیے ان کی کھالوں کو محفوظ بنا کر ٹینریز تک پہنچانا بھی ایک اہم عمل ہوتا ہے۔ایک حساس اندازے کے مطابق ہر سال بائیس سے پچیس فیصد کھالیں فقط اس لیے ضائع ہو گئیں کہ انہیں بروقت نمک نہیں لگایا گیا تھا۔ گزشتہ دس سالوں میں کھالوں کے اس طرح ضائع ہونے سے چمڑے کی صنعت کو دس ارب روپوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پاکستان کی چمڑے کی صنعت جو کہ پوری دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے، تنزلی کا شکار ہے جبکہ چین اور بھارت پاکستان کو اس شعبے میں پیچھے چھوڑنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ گزشتہ دس سالوں میں ہونے والے اس نقصان سے پاکستان کی پچاس فیصد کپڑے کی صنعت اور بیس فیصد چمڑا رنگنے کے کارخانے بند ہو چکے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ عیدِ ایثار کے اس موقع پر قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور وطنِ عزیز کی اس صنعت کو نقصان پہنچنے سے بچائیں اور کھال اترتے ہی مناسب حفاظتی تدابیر اپنا کر اپنے حصے کا کام کر دیں۔ پہلی دفعہ نمک لگانے سے کھالیں اگلے چوبیس سے اٹھائیس گھنٹوں کے لیے ہر طرح کے نقصان سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔ صدقے کے طور پر کھالیں جمع کرنے والی تنظیمیں بعد ازاں نمک لگانے کی سرگرمی دہراتی رہتی ہیں مگر اگر ابتدائی طور پر خیال نہ کیا جائے تو کھال ضائع ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: