...................... .................

مولانا فضل الرحمان اور مریم بی بی سیاسی مراقبے میں جاچکے ہیں

صابر شاکر …..
سینیٹ میں دو تحاریکِ عدم اعتماد ناکام ہوئیں۔ پہلی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اور دوسری ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف۔ چیئرمین سینیٹ کی تحریک میں اپوزیشن کو شکست ہوئی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تحریک میں حکومت کو‘ لیکن طرفہ تماشا دیکھیے کہ میڈیا میں صرف ایک تحریک کے ناکام ہونے اوراپوزیشن کی شکست کا تذکرہ ہو رہا ہے جبکہ اسی سینیٹ کے ہال میں، جن چودہ سینیٹرز کے ہاتھوں اپوزیشن کو شکست ہوئی اسی ہال میں کچھ ہی دیر بعد وہی چودہ سینیٹرز ووٹ دے کر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کوبھی اٹھا کر باہر پھینک سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اپوزیشن جماعتوں میں سے ہی ایک ماسٹرمائنڈ نے انتہائی مہارت سے سب کوبائیکاٹ پرمتفق کیا اورتمام سینیٹرز کوایوان سے باہرلے گیا۔ یوں معاہدے اورطے شدہ مفاہمتی فارمولے کے مطابق صادق سنجرانی اورسلیم مانڈوی والا دونوں جیت گئے اور حکومت اوراپوزیشن کے درمیان میچ ایک ایک سے برابر ہوگیا۔
سیاسی پنڈتوں کی یہ مہارت ہے کہ وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں صرف حکومتی فتح کا تذکرہ کر رہے ہیں اور اپوزیشن کی فتح کہیں بھی زیربحث نہیں۔ جب تجزیہ نگار اور دانشور کسی ایونٹ کو صرف اپنی سوچ کے مطابق دیکھیں تو پھر یہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔ آخر وہ کیا وجوہات ہیں؟ ایسا کیا ہوا؟ کیونکر ہوا؟ کس نے کیا؟ کہ دو گھنٹوں کے مختصر عرصے میں ایک ہی ہال میں موجود سو ارکان خفیہ رائے شماری سے ایک رائے دیتے ہیں‘ لیکن دوسری بار انھیں رائے دینے سے روک دیا جاتا ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا کہ بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف ان چودہ سینیٹرز کو برا بھلا تو کہہ رہے ہیں‘ لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو بچا کر پرانے پولیٹیکل ارینجمنٹ کو بحال رکھا گیا۔
الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بھی صرف ایک تحریک عدم اعتماد کا شوروغوغا رہا اور جس روز اس تحریک پر رائے شماری ہونا تھی‘ اسی دن یہ خبر چلائی گئی کہ صادق سنجرانی مستعفی ہوگئے ہیں‘ جس کی انہوں نے بھرپور تردید کی۔ پھر سوشل میڈیا پر باقاعدہ ایک مہم چلی کہ صادق سنجرانی کے مخالفین اور ان کے سیاسی ہم نوا ٹویٹ اور ری ٹویٹ کرکے سارا دن جشن مناتے رہے۔ یہ جشن صادق سنجرانی کی کامیابی کے اعلان تک جاری رہا۔
پھر سب نے پلٹا کھایا اور صرف صادق سنجرانی کی جیت کا ملبہ ہارس ٹریڈنگ اور بے ضمیری پر ڈالا جاتا رہا۔ ایک شکست اور ایک فتح کے بعد شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور حاصل بزنجو میڈیا کے سامنے نمودار ہوتے ہیں اور نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں لیکن وہ نہیں بتاتے جو سچ ہے۔ یہ کہ نہ تو ہارس ٹریڈنگ ہوئی، نہ پیسہ چلا، نہ ضمیر فروشی ہوئی بلکہ یہ سب شطرنج کی پسِ پردہ چالوں کا اثر ہے کہ پارٹی قیادت کی مرضی و منشا کے عین مطابق پہلے چودہ سینیٹرز نے ایک رائے کا اظہارکیا اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے معاملے میں پارٹی قیادت نے انہیں رائے دینے سے منع کر دیا۔
نہ ہی یہ اندھیر نگری ہے اور نہ ہی آصف زرداری اور شہباز شریف اتنے ناتجربہ کار ہیں کہ انہیں کانوں کان خبر نہ ہو۔ ظہرانے کا انتظام ہوتا ہے۔ چونسٹھ ارکان کھانا کھاتے ہیں اور خوش و خرم ایوان میں پہنچتے ہیں۔ تحریک کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ خفیہ رائے شماری میں رائے تبدیل کر دیتے ہیں۔ بائیکاٹ کرکے واپس اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوتا ہے اور پھر چونسٹھ ارکان جمع ہو کر چودہ ارکان کو تلاش کرتے ہیں اور وہ چودہ ارکان بھی اپنی اپنی پارٹی قیادت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ جناب والا ہم نے تو جو کیا آپ کے اشارے اور حکم پر کیا‘ پھر ہمیں اتنی گالیاں کیوں؟
اس سارے گیم پلان سے ناواقف مولانا فضل الرحمان اور مریم بی بی سیاسی مراقبے میں جاچکے ہیں۔ میاں نواز شریف اور مریم بی بی پر انحصار کرنے والے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار میر حاصل بزنجو نے اپنی جمہوری شکست کا سارا ملبہ ایک ادارے کے سربراہ پر ڈال دیا۔ جب وہ میڈیا کے نمائندوں کے سامنے انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو ان کے ساتھ ساتھ چلنے والی پیپلزپارٹی کی سنیئر راہنما اور زرداری صاحب کی دست راست سینیٹر شیری رحمان انھیں ایسا کرنے سے منع کر رہی تھیں۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کوہٹانے اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوششوں کے متحرک کرداروں پر نظر ڈالیں تو بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ یہ خواہش صرف اورصرف مریم بی بی، مولانا فضل الرحمن، محمودخان اچکزئی اور میرحاصل بزنجو کی تھی۔ شہبازشریف اور ان کے ہم خیال سینیٹرز اس سارے معاملے سے تقریباً غیر متعلق رہے یا پھر صرف نظر رکھنے کی حدتک فعال نظرآئے اور جب تحریک ناکام ہوئی توسب سے زیادہ سخت زبان بلاول بھٹوزرداری اورشہبازشریف نے استعمال کی۔لیکن یقین جانیے کہ دونوں رہنما اپنے کسی رکن کیخلاف نہ توکارروائی کریں گے اورنہ ہی اس بارے میں کوئی تحقیقات کریں گے۔ مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کے تیرہ ارکان نے پارٹی قیادت کی مرضی سے اورجے یوآئی (ف) کے ایک رکن نے اپنی مرضی سے رائے کااظہارکیا۔
میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ سیاست ایک انتہائی بے رحمانہ کھیل ہے جس میں بازی جیتنے کیلئے باپ،بیٹے کواوربیٹا باپ کوچت کردیتاہے۔ بھائی، بھائی کے مقابلے میں اوربیوی شوہر کے مقابلے میں کھڑی ہوجاتی ہے۔ اور سیاسی میراث حاصل کرنے کیلئے ورثا کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی سیاسی میراث کیلئے چچابھتیجی اورکزنز کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ شہبازشریف مسلم لیگ ن کے آئینی صدر ہیں جبکہ عملاً مریم بی بی مسلم لیگ کی ڈی فیکٹوصدرہیں اورپارٹی کواپنی مرضی اوراپنے بیانیے کے مطابق چلانے کیلئے سولو فلائٹ پر ہیں۔موجودہ سیاسی سیٹ اپ کوجڑسے اکھاڑنے کیلئے مریم بی بی کسی بھی حد تک جانے کو تیارہیں۔لیکن وہ ایسا کرنے میں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔
ان کے چچا شہبازشریف اس بات کواچھی طرح سمجھتے ہیں کہ سیاسی اکھاڑے میں اترنے اوراس میں کھیلنے کیلئے ان تمام دائو پیچ کو پاکستان کے پولیٹیکل کلچر کے مطابق ہی استعمال کیا جاسکتاہے جبکہ دوسری جانب وہ کرپشن کے مقدمات اورخاص طورپر منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کی زد میں ہیں اورضمانت پررہا ہیں۔ حمزہ شہباز گرفتارہیں،سلمان شہباز اورعلی عمران مفرورہیں۔ ان حالات میں وہ کسی ایسے عمل کاحصہ نہیں بننا چاہیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان سیاسی طورپرعدم استحکام کاشکار ہو اور اس کی زد میں وہ یا ان کاخاندان بھی آئے۔ شہبازشریف کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے اپنے مفاہمانہ طرزعمل کے نتیجے میں اور مقدمات کو طول دے کر اچھے وقت کاانتظارکریں۔
دوسری جانب زرداری اور بلاول بھٹو کے پاس طویل عرصے کے بعد ایسا موقع آیا ہے کہ وہ شریف خاندان کی طرف سے ان پرکئے گئے حملوں اور نقصانات کابدلہ چکاسکیں۔ زرداری متحدہ اپوزیشن کاحصہ رہیں گے اور مریم نواز کولولی پاپ دیتے رہیں گے لیکن ایسی کوئی فیوریا اقدام ہرگز نہیں کریں گے‘ جس کے نتیجے میں مریم نواز کوایک نئی سیاسی زندگی ملے۔ زرداری اوربلاول بھٹو کے ساتھ محترمہ بے نظیر کے قریبی معاونین فرحت اللہ بابر، رحمان ملک، شیری رحمان، قمرزمان کائرہ، چوہدری منظور، چوہدری اعتزاز احسن جیسے اعلیٰ دماغ موجود ہیں‘ جو سیاست کے دائو پیچ کومریم نوازسے کہیں زیادہ بہترسمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی عمارت کی ایک ایک اینٹ بڑی سوچ سمجھ کے لگائی گئی ہے اور اگر کسی نے اس کی کسی بھی اینٹ کونکالنے کی کوشش کی تو اس کے منفی اثرات سے عمارت کے باقی حصے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، ایم کیوایم،مسلم لیگ ق، جے ڈی اے، بلوچستان عوامی پارٹی اس عمارت کے اہم ستون ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے شہبازشریف بھی اس کا ایک جزو ہیں؛ البتہ نوازشریف، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن، اسفندیارولی، محمودخان اچکزئی کاکردار موجودہ سیٹ اپ میں غیرمتعلقین کاہے۔ اس لئے اس سیاسی عمارت کے تمام مکین یہ رازبہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھیں مل جُل کر رہنا ہے اورریاست پاکستان کو جاری معاشی بحران سے نکالنا ہے۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اوراس میں آنے والے دنوں میں ہونے والے تغیرات میں عالمی طاقتوں کے مفادات اپنی جگہ لیکن پاکستان کوبھی اپنے مفادات کانہ صرف تحفظ کرنا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں آنے والے ثمرات میں سے اپنے حصے کابندوبست بھی کرنا ہے۔ زرداری، شہبازشریف، بلاول زرداری ان تمام امورسے بخوبی واقف ہیں۔
بلاول توواشنگٹن سے ہوآئے ہیں۔ توجناب ریاست پاکستان اس وقت کسی کو سیاسی و غیر سیاسی ایڈونچر یا مس ایڈونچر کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گی‘ نہ ہی کسی کو سرخ لائن عبور کرنے دی جائے گی۔صادق سنجرانی ہوں یا سلیم مانڈوی والا، سندھ کی پی پی پی حکومت ہو یا بلوچستان، پنجاب اور مرکز کی مخلوط حکومتیں تمام کی تمام ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔کسی ایک کو چھیڑنے سے دوسری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی؛ البتہ مولانا فضل الرحمان چاہیں تو بلوچستان حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

جواب لکھیں

%d bloggers like this: