...................... .................

تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی: اندرونی کہانی، صابر شاکر کی زبانی

صابر شاکر
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی اجتماعی کوششیں ناکام ہو گئیں اور
اپوزیشن جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی ایف، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور دیگر اکثریت رکھنے کے باوجود تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں کروا سکیں۔ سینیٹ کا خصوصی اجلاس ہوتا ہے۔ سینیٹر بیرسٹر سیف اجلاس میں پریزائیڈنگ افسر مقررہوتے ہیں۔ ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔
تحریک پیش کرنے کے حق میں چونسٹھ ارکان نشستوں پرکھڑے ہوکر رائے کااظہارکرتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے چہرے خوشی سے سرخ انگاروں کی طرح روشن ہیں۔ مولانا عطاالرحمان ٹی وی پرآکرکہتے ہیں کہ صادق سنجرانی ایک گھنٹے کے بعد چیئرمین نہیں رہیں گے۔ ارکان سینیٹ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹ دینے کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ چونسٹھ ارکان عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے حق میں اپنی رائے کااظہارکرچکے ہیں جبکہ حکومتی ارکان کی تعداد صرف چھتیس ہے۔
صادق سنجرانی کوچیئرمین سینیٹ بنانے کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے ایک لمبا سفرطے کیا تھا۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ ثنااللہ زہری کوفارغ کیاگیا اور وزارت اعلیٰ بلوچستان ق لیگ کے حصے میں آئی۔ پھرمارچ دوہزاراٹھارہ میں سینیٹ کے انتخابات ہوئے اورمسلم لیگ ن کوبلوچستان میں وہ حصہ نہ مل سکا جس کی اسے امید تھی۔ زرداری اورنوازشریف کی دوستی ختم ہوچکی تھی۔ سینیٹ کے چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی اورپاکستان تحریک انصاف کاایک خاموش اتحاد ہوتاہے اورعمران خان اور زرداری انجانے میں باہم مل جاتے ہیں۔
واقفان حال جانتے ہیں کہ عمران خان اورآصف علی زرداری کوقریب لانے میں چند معتبر لوگوں نے کردار ادا کیا تھا اور زرداری صاحب برضاورغبت فیض یاب ہوئے تھے۔ یہ فیض عام چلتارہا‘ لیکن عام انتخابات کے بعد پھر دراڑیں پڑگئیں۔احتساب کا عمل شروع ہوتا ہے توآصف زرداری اوربلاول بھٹو زرداری ناراض ہوجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوستوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ گلے شکوے بڑھتے گئے۔ دوسری جانب دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے سولہویں کھلاڑی مولانا فضل الرحمن متحرک ہوتے ہیں اوراپنے ساتھ تیرہویں اورچودھویں کھلاڑیوں کوملا کراپوزیشن کا اتحاد بنانے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ جیل میں قید نوازشریف اور ضمانت پررہا مریم بی بی مولانا کو مضبوط یقین دہانی کرواتے ہیں کہ فکر نہ کرنا اور زرداری صاحب کو رام کرنے کی ذمہ داری بھی مولانا کو سونپتے ہیں۔
مریم بی بی کے ماسٹرمائنڈ نوازشریف ہیں اوربلاول کے ماسٹرمائنڈ آصف علی زرداری۔ دونوں ایک دوسرے کے کندھے استعمال کرنے کیلئے اپنے اپنے سیاسی پنڈتوں سے ہدایات لے کر باہم سیاسی راہ و رسم بڑھاتے ہیں۔ بلاول بھٹو نواز شریف سے جیل میں ملاقات کرتے ہیں اور مریم بی بی بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی میں شریک ہوتی ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے سے مخلص ہرگز نہیں ہیں اورہونا بھی نہیں چاہئے کہ اسی کانام سیاسی عصبیت ہے کیونکہ زرداری یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ جعلی بینک اکائونٹس کے نئے مقدمات نوازشریف کی طرف سے ان کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہیں۔ جبکہ نوازشریف اپنی جگہ سچے ہیں کہ انہیں جیل میں پہنچانے کے حوالے سے زرداری نے اپنا سیاسی وزن ان کے پلڑے میں نہیں ڈالا اور میثاق جمہوریت کوسبوتاژکیا۔
نواز شریف نااہل ہوکر جیل میں جاچکے ہیں اور سزائے قید کاٹ رہے ہیں۔ مریم نواز کو سزا ہو چکی ہے۔ وہ بھی نااہل ہیں اور ضمانت پر رہا ہیں۔ مریم بی بی ہر صورت میں سیاسی میدان میں واپسی کیلئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں اور کسی بھی حد تک جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ مولانااپوزیشن جماعتوں کااجلاس بلاتے ہیں‘ لیکن شہبازشریف اوربلاول بھٹو اس اجلاس میں مولانا اور مریم بی بی کا ساتھ نہیں دیتے۔ مریم بی بی اجلاس ادھورا چھوڑ چلی جاتی ہیں یہ کہہ کر کہ اگر کوئی سخت فیصلے ہی نہیں کرنے تو پھر اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مولانا فضل الرحمن مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ بادل نخواستہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کوہٹانے کی بات کی جاتی ہے اورایک ڈھیلا ڈھالا سافیصلہ کیا جاتاہے کہ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائیگی۔ زرداری سے جب آئندہ چیئرمین سینیٹ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ خود چیئرمین سینیٹ بنیں گے۔ سلیم مانڈوی والا سے اس بارے میں زرداری بات بھی کرتے ہیں‘ لیکن نوازشریف حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کیلئے نامزدکرتے ہیں اور مریم بی بی اور حاصل بزنجو کو کہتے ہیں کہ وہ نوازشریف کے نامزدکردہ ہیں اور نوازشریف ہی پاکستان کی سیاست کے گُرو ہیں۔ وہ جسے چاہیں گے چیئرمین سینیٹ وہی ہوگا۔
اس دوران شریف فیملی کی منی لانڈرنگ کے نئے مقدمات سامنے آتے ہیں جس میں نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سب کے خلاف نیب کے پاس ناقابل تردید شواہد آ چکے ہیں۔ یوسف عباسی سارا ریکارڈ نیب کو دے چکے ہیں اور تسلیم کرچکے ہیں کہ چار کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی صرف ایک ترسیل مریم بی بی کے حوالے کی گئی۔ یہ مقدمات حدیبیہ پیپر سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے جس میں دل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس منظرنامے میں جب زرداری کو معلوم ہوتا ہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں اب بچ نکلنے کی کوئی امید باقی نہیں بچی اور ان کے تمام دوست اور فرنٹ مین گرفتار ہو چکے ہیں اور نیب کے سامنے بہت کچھ تسلیم کر چکے ہیں تو ایک بار پھر ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہیں۔
خود گرفتار ہوتے ہیں اور فریال تالپور بھی اپنے آپ کوگرفتاری کیلئے پیش کرتی ہیں۔ شاہد اسی لئے انھیں ابھی تک ان کی رہائش گاہ پرہی قیدرکھا گیاہے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ زرداری پلی بارگین کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ایک مناسب وقت پر وہ ان مقدمات سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے کیونکہ شریک ملزمان پلی بارگین کے ذریعے ادائیگیاں کرکے ریلیف حاصل کررہے ہیں۔
اگریہ اطلاعات درست ہیں تو پھر بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ کے طور پر مستقبل میں سیاست کریں گے۔ اس طرح پی پی پی کی سیاسی قوت محفوظ رہے گی۔ پی پی پی اور خاص طورپر زرداری کی سیاست کو سمجھنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ عمران خان کا سایہ جب تک پی ٹی آئی پر قائم ہے تب تک یہ حمایت وجود رکھے گی اور عمران خان‘ جو کہ زیادہ سے زیادہ دس سال مزید قیادت رکھ سکتے ہیں‘ کے بعد یہ حمایت تتربتر ہو جائے گی۔ اور اگر مریم بی بی نے مزاحمت کی سیاست اسی طرح جاری رکھی تو ان کا سیاسی سفر بھی کچھ زیادہ طویل نہیں ہو گا۔ باپ بیٹی دونوں نااہل ہو چکے ہیں جبکہ شریف خاندان کے دیگر ارکان بھی نااہلی کیلئے ایک قطار میں کھڑے ہیں۔ ایسے میں پیپلز پارٹی اور زرداری شریف فیملی اور وہ بھی مریم بی بی کو‘ جو اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں‘ کو ایک نئی لائف لائن دیں گے۔یہی سوچ ایک بار پھر زرداری کو واپس وہیں پرلے کر جا چکی ہے جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا یعنی بلوچستان سے مسلم لیگ ن کی حکومت ختم کرکے ایک نئی حکومت کی تشکیل کی گئی اور سینیٹ کے انتخابات جیت کر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنایا گیا اور سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنایا گیا۔
انتخابات میں سندھ کی حکومت حاصل کرنے میں کامیابی کے بعد آصف زرداری ایک بات بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ شریف خاندان سے کبھی بھی انہیں فیض حاصل نہیں ہو گا کیونکہ 1979 ء سے اب تک یہی وہ واحد خاندان ہے جس نے بھٹو خاندان اور پی پی پی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ لہٰذا آصف زرداری کبھی نہیں چاہیں گے کہ نوازشریف اور مریم نواز کنگ میکر کے طور پر جانی جائیں۔ ان حالات میں آصف زرداری سے خاموش مفاہمت کا عمل ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے۔ 14 ارکان نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے رائے تبدیل کرکے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ گزشتہ رات زرداری صاحب سے ان کے دوست نے ایک ملاقات کی‘ جو بظاہر خیریت دریافت کرنے کیلئے تھی‘ لیکن درحقیقت وہ ملاقات طویل دورانیے کی مفاہمانہ پالیسی کی بنیاد رکھنے کیلئے تھی‘ جس کے نتائج ہم نے سینیٹ کے اجلاس میں دیکھے۔
پانچ ووٹ ضائع ہوئے‘ نو ووٹ صادق سنجرانی کے حق میں ڈالے گئے اور یوں تین ووٹوں سے تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈری والا کو پھر سے برقرار رکھنے کیلئے اپوزیشن یعنی کہ پی پی پی نے باقی جماعتوں کو بائیکاٹ پر ابھارا اور یوں ‘ایک زرداری سب پر بھاری‘ اپنے دونوں امیدواروں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں بلاول بھٹو کے چیمبر میں آصف زرداری سے صادق سنجرانی کی ہونے والی ملاقات کی کامیابی کا اختتام تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر ہوا‘ اور یوں کنگ میکر کا اعزاز آصف زرداری نے اپنے پاس ہی رکھا اور مولانا فضل الرحمان، نواز شریف اور مریم نواز کے حصے میں کچھ نہ آیا۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

جواب لکھیں

%d bloggers like this: