...................... .................

دہشت گردوں کا ایف سی اہلکاروں پر حملہ، کیپٹن سمیت 4 جوان شہید

بلوچستان کے ضلع تربت میں دہشت گردوں کی جانب سے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں پر حملے میں کیپٹن سمیت 4 اہلکار شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بلوچستان کے علاقے تربت میں ایف سی اہلکار کامبنگ اور سرچ آپریشن میں مصروف تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کامبنگ اور سرچ آپریشن جاری تھا کہ ان کی گاڑی پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کردیا گیا۔
دہشت گردوں کی اس مذموم کارروائی کے دوران ایک کیپٹن شہید جبکہ 3 سپاہی شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے تعلقات عامہ کے مطابق شہیدا میں کیپٹن عاقب، سپاہی نادر، عاطف الطاف اور حفیظ اللہ شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایف سی بلوچستان کا حشاب اور تربت کے علاقے میں سرچ اور کامبنگ آپریشن جاری تھا کہ علاقے میں چھپے ہوئے دہشت گردوں نے ان پر حملہ کردیا۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اہلکاروں کی شہادت کو امن کی راہ میں بڑی قربانی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں امن قائم کیا جاچکا ہے، اب یہاں سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دشمن قوتیں بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔


خیال رہے کہ 6 جون کو صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے حملے میں پیڑولنگ پر مامور 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ رواں برس مئی میں صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل ’پرل کانٹیننٹل‘ پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں نیوی کا ایک اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈز شہید جبکہ 6 افراد زخمی ہوگئے تھے تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
چین، دیگر ممالک سے روابط بڑھانے اور تجارتی مقاصد کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر گوادر کی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے، اس مقصد کے لیے وہ 2015 میں پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے نام سے سامنے آنے والے میگا منصوبے کے تحت پاکستان میں تقریباً 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کررہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت چین کے دور دراز مغربی صوبے سنکیانگ کو بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سے جوڑا جائے گا جبکہ اس میں انفرااسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: