...................... .................

رانا ثنا نے منشیات کے کاروبارکا اعتراف کرلیا

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ رانا ثنا ء اللّہ نے تفتیشی افسر کو دیئے گئے بیان میں منشیات کا کاروبار کرنے کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ سیاست میں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے وہ اس کاروبار سے جڑے۔
عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں اے این ایف کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ رانا ثناء اللّہ نےکہا وہ فیصل آباد میں مقامی افغانیوں سے نارکوٹکس لے کر دوسرے ڈرگ کا کاروبار کرنے والوں کو اسمگل کرتےتھے، پھر یہ ڈرگ بیرون ملک اسمگل کی جاتی تھی۔
رانا ثناء کے وکیل جاوید اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔
رانا ثناء اللّہ کے اہل خانہ نے اُن پر لگائے گئے تمام الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ساری کہانی جھوٹی ہے اور رانا ثناء کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ یکم جولائی کو یوں تو مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کو منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم اس گرفتاری کے بعد وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری نے معاملہ منشیات برآمدگی سے بھی سنگین بنا دیا۔ ان کا دعوی ہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف کالعدم تنظیموں تک پیسے پہنچانے کے ثبوت ہیں۔
ابھی وزیر اطلاعات پنجاب کے بیان کی بازگشت تھمی نہ تھی کہ مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی صاحب زادی نے واشگاف الفاظ میں رانا ثناء اللہ کو اپنے والد کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا اور ساتھ ہی پنجاب پولیس کے سابق اہلکار فرخ وحید کا ویڈیو بیان بھی منظر عام پر آ گیا۔ پنجاب پولیس کے سابق ایس ایح او نے اپنے ویڈیو بیان میں دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس رانا ثناء اللہ کے خلاف قتل کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
جبکہ اسی حوالے سےوزیر مملکت سرحدی امور و اینٹی نارکوٹکس شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللہ کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں، کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: