...................... .................

چینی ماڈل: ملکی ترقی کیلئے 450 وزراکو جیلوں میں ڈالنا ہوگا

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے چین کی طرح 450 وزراکو جیلوں میں ڈالنا ہوگا.
ان خیالات کا اظہار انھوں نے نمل انسٹی ٹیوٹ میں اسپتال کی تعمیرکا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارک باد دیتا ہوں، ایسےکاموں سے روح کو خوشی ملتی ہے.
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے لوگ تھے، جنھوں نے بڑا پیسہ بنایا، محلات بنائے اور چلے گئے، ایسے افراد کو آج عوام یاد نہیں کرتے، جنھوں نے اللہ کے لئے کام کیا اور لوگوں کی مدد کی، انھیں عوام یاد کرتے ہیں.
انھوں نے کہا کہ اسپتال کی تعمیر نمل یونیورسٹی کا خواب تھا، ایک زمانے میں لوگوں نے کہا کہ آپ کے پاس فیکلٹی ہی نہیں، آج سب جانتے ہیں، نمل یونیورسٹی کی کیا اہمیت ہے، میانوالی سمیت جنوبی پنجاب کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیں، نمل انسٹیٹیوٹ میں اسپتال انیل مسرت بنوا رہے ہیں.
انھوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں، احتساب تو ہو رہا ہے، لیکن اس کا عوام کو کیا فائدہ ہے، چین کی مثال سامنے ہے۔ چینی صدر نے گزشتہ 5 سال میں 450 سے زائد وزیروں کو جیلوں ڈالا، پھر بھی ریکارڈ ترقی کی.
بیرون ملک اور بھی پاکستانی ہیں جن کے بڑے بڑے کاروبار ہیں، پاکستان میں کرپشن زیادہ تھی اس وجہ سےسرمایہ کار آنا نہیں چاہتے تھے. یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 60 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ہوا اور گزشتہ 10 سال میں قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزارارب ہوجاتا ہے، آخرہم نےاس ملک میں کیا کام ہے؟ کچھ منصوبے ضرور بنائے، مگر وہ بھی نقصان میں گئے. میٹرو منصوبہ بنایاگیا، عثمان بزدارسے پوچھیں 12 ارب ہرسال نقصان ہوگا.
انھوں نے کہا کہ اس موقعے کا 22 سال سے انتظارکررہا تھا، اللہ سے دعا کرتا تھا کہ ایک موقع دے،جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کا احتساب کروں.جب تک ملک لوٹنے والوں کااحتساب نہیں ہوگاپاکستان ترقی نہیں کرے گا، ملک کی ترقی کے لئے چین کی طرح 450 وزراکو جیلوں میں ڈالنا ہوگا.
ہم نے کسی ادارے میں مداخلت نہیں کی، اداروں کو خود مختارکیا، احتساب کاعمل جاری رہے گا، تنی دھمکیاں دینی ہیں دےلیں، ان لوگوں نے بیرون ملک سے بھی مجھے پیغامات بھجوائے، کچھ بھی کرلیں، احتساب کا عمل نہیں رکے گا. طاقت وراور کمزورکے لئے الگ الگ قانون نہیں ہوگا، احتساب یکساں ہوگا. ان لوگوں نےملک کا دیوالیہ نکال دیا اور کہتے ہیں کہ جواب نہیں دیں گے.
انھوں نے کہا، صنعت کاروں، تاجروں سے درخواست ہے، پاکستان کےایک ایک اسپتال کو زیر نگرانی لے لیں، یوں‌ان کے مسائل ختم ہوجائیں گے.

جواب لکھیں

%d bloggers like this: