...................... .................

دودھ بچے کی صحت مندی کی بجائے بیماری کا سبب کیوں؟

منصور مہدی ……
بچوں کے بیمار ہونے کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ فی زمانہ ماں کا بچے کو اپنا دودھ نہ پلانا بن رہا ہے۔ بچے کو فیڈر سے پلائے جانے والا اکثر دودھ بچے کے لیے صحت مندی کی بجائے بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان میں صرف 48 فیصد مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں، شہر ہوں یا دیہات یہ شرح تقریباً یکساں ہیں۔ صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ جبکہ پنجاب میں سب سے کم شرح میں مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سے صحت کے عالمی ادارے کی معاونت سے آغا خان یونیورسٹی نے یہ سروے کیا ہے۔ سروے میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، فاٹا، پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر اور گلگت بلتستان میں ایک لاکھ 15 ہزار گھرانوں سے بچوں، ان کی ماو¿ں اور 10 سے 19 سال کے لڑکے لڑکیوں کی نیوٹریشن کا موازنہ کیا گیا۔
ماں کا دودھ نہ پلانے کا رجحان
پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے نتائج کے مطابق پیدائش سے پانچ ماہ تک 48 فیصد مائیں مکمل طور پر بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ اس کے علاوہ 15 فیصد زبردستی، 17 فیصد جزوی طور پر جبکہ 20 فیصد مائیں اپنا دودھ سرے سے پلاتی ہی نہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 45 فیصد خواتین بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر جبکہ 25 فیصد مائیں 24 گھنٹے میں اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے نتائج کے مطابق پیدائش سے پانچ ماہ تک 48 فیصد مائیں مکمل طور پر بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ پیدائش سے ایک سال تک مسلسل بچوں کو دودھ پلانے کا رجحان پاکستان میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ میں ہے جہاں یہ شرح 77 فیصد سے زائد ہے۔ جبکہ سب سے کم شرح پنجاب میں ہے جو 62 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 74 فیصد، بلوچستان میں 69 فیصد، اسلام آباد میں 74 فیصد، سابق فاٹا میں 71 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 65 فیصد اور گلگت بلتستان میں 72 فیصد ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے اس سروے کے سربراہ اور طبعی محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ پانچ میں سے ایک گھرانہ نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ دیتا ہی نہیں ہے۔ یہ رجحان صرف شہری علاقوں میں ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے کمیونٹی کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔’خواتین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پیلوٹی کا دوودھ بچے کے لیے کتنا اہم ہوتا ہے اور نوازئیدہ بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہیں دینا چاہیے۔ اس کی افادیت کا اگر ماں کو علم نہیں ہو گا تو بچہ کیا کرے گا، روئے گا تو ماں کو یہ احساس ہو گا کہ میرا دودھ ٹھیک نہیں یا پورا نہیں اتر رہا تو اسے کچھ اور دے دے گی۔‘
اس قومی سروے میں ماں کا دودھ پلانے کی مناسب عمر میں بچوں کو ٹھوس، نیم ٹھوس اور نرم غذا فراہم کرنے کی بھی نشاندھی کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ رجحان سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں دیکھا گیا ہے، جہاں یہ شرح 45 فیصد ہے اور دودھ پیتے بچوں کو غذا دینے کا سب سے کم رجحان اسلام آباد کی ماو¿ں میں موجود ہے جہاں شرح 21 فیصد ہے۔
جبکہ پنجاب میں یہ شرح 35 فیصد، سندھ میں 43 فیصد، خیبرپختونخوا میں 29 فیصد، بلوچستان میں 22، پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر میں 43 فیصد اور گلگت بلتستان میں 40 فیصد ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کے مطابق دیہاتوں میں ضروری نہیں کہ مائیں بچے کو ڈبے کا دودھ دیتی ہوں لیکن وہ بھینس کا یا گائے کا دودھ دے رہی ہیں۔ چائے اور پانی بھی دیا جا رہا ہے۔ 6 ماہ سے قبل ہی خوراک شروع کر رہے ہیں جس کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے چھ ماہ ماں کا دودہ دینے سے بچہ ہزاروں بیماریوں سے بچ جاتا ہے اس کی نشوونما ٹھیک ہوتی ہے آگے جا کر ماں کو بھی فائدہ ہے بچے کو بھی۔
پاکستان میں لاغر بچوں میں کمی نہیں آئی
قومی نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کے 40 فیصد بچے سٹنٹ یا لاغر ہیں۔ جو اپنی عمر کے اعتبار سے قدرے کم ذہنی و جسمانی نشوونما کا شکار ہیں۔ جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔
صوبائی سطح پر سب سے زیادہ لاغر بچے سابق فاٹا میں ہیں جن کی شرح 48 فیصد ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر بلوچستان ہے جہاں یہ شرح ساڑھے 46 فیصد سے زائد ہے، اس کے بعد گلگت میں 46 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 40 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 39 فیصد، پنجاب اور اسلام آباد میں لاغر بچوں کی شرح سب سے کم ہے۔ جو 36 اور 32 فیصد ہے۔
پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے مطابق 2001 سے لیکر 2018 تک لاغر بچوں کی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے۔ 2011 میں یہ شرح 43 فیصد سے زائد تھی جو اس وقت 40 فیصد سے زائد ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ اسٹنٹنگ میں کمی نہ آنے کی وجہ یہ ہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ’ان بچوں کی صحت کا اور نشوونما کا براہ راست تعلق ان کی ماو¿ں کی صحت سے ہے، جہاں مائیں کمزور ہیں وہاں بچے بھی نحیف اور لاغر ہیں اور ان کی بڑھوتری ٹھیک نہیں۔‘ ڈاکٹر بھٹہ کے مطابق پاکستان کے جنوبی علاقوں بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاوہ فاٹا میں نحیف اور لاغر بچوں کا تناسب زیادہ ہے۔ اس کا کچھ حد تک تعلق غربت سے ہے اور کچھ تعلق شاید جاگیردارانہ نظام سے بھی ہے، جس میں لوگوں کو اتنا شعور اور اختیارات نہیں ہوتے کہ اپنی صحت اور تندرستی کا خود خیال رکھ سکیں۔
موٹاپے کا شکار بچے اور خواتین
پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کے ساڑھے نو فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جن میں لڑکیوں اور لڑکوں کی شرح تقریباً برابر ہے۔ سب سے زیادہ موٹے بچے فاٹا میں اور سب سے کم صوبہ سندھ میں ہیں۔ نیوٹریشن سروے کے مطابق فاٹا میں 18 فیصد، بلوچستان میں 16 فیصد، آزاد جموں و کشمیر میں 13 فیصد، خیبر پختونخوا اور گلگت میں 12 فیصد سے زائد پنجاب میں 9 فیصد اور صوبہ سندھ میں پانچ فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔
سروے کے مطابق 18 سے 49 برس کی عمر کی 13 فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں جن کی اکثریت شہروں میں ہے ان کی شرح 17 فیصد ہے جبکہ دیہات میں بھی خواتین اس سے محفوظ نہیں ان کی شرح 11 فیصد ہے۔ سب سے زیادہ موٹاپے کا شکار سابق فاٹا کی خواتین ہیں جن کی شرح 23 فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر اسلام آباد ہے جہاں یہ شرح 19 فیصد ہے اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 15۔15 فیصد، بلوچستان میں 12 فیصد، سندھ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 10۔10 فیصد اور گلگت بلتستان میں سب سے کم یعنی 6 فیصد سے زائد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر کے جو نحیف اور لاغر بچے ہیں، آگے جا کر ان میں زیادہ وزن یا موٹاپے کی شرح بڑھ جاتی ہے، بلخصوص لڑکیوں اور خواتین میں یہ رجحان ہے کہ دس گیارہ سال کی عمر کے بعد موٹاپا آ جاتا ہے۔ اس کا کچھ تعلق خوراک سے ہے اور زیادہ تعلق ان کی جسمانی نقل و حرکت سے ہے۔ ’ایک دس گیارہ سال کی عمر کی بچی کو ہم نے گھر تک محدود کر دیا ہے اس کی کوئی سرگرمی نہیں کوئی سہولت نہیں۔‘ ڈاکٹر بھٹہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان دوہرا بوجھ لیے چل رہا ایک طرف نحیف اور لاغر بچے ہیں دوسری طرف موٹاپے کا شکار بچے جو پاکستان کے لیے آگے جا کر ایک بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ جو موٹے بچے ہیں ان کے دل اور ذیابطیس کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔
انڈر ویٹ یا کم وزن
پاکستان میں پانچ سال کی عمر میں کم وزن بچوں کی شرح 28 فیصد ہے جن میں سے اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لڑکوں میں یہ شرح 29 فیصد جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 28 فیصد ہے۔
اسی طرح صوبوں میں سب سے کم وزن بچے سندھ میں ہیں جن کی شرح 41 فیصد ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سابق فاٹا ہے جہاں 33 فیصد بچے کم وزن ہیں۔ بلوچستان میں 31 فیصد، پنجاب میں ساڑھے 23 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا میں 23 فیصد بچے کم وزن ہیں۔
پاکستان میں کم وزن خواتین کی شرح 14 فیصد ہے، جن کی اکثریت دیہات سے تعلق رکھتی ہے۔ صوبوں میں سندھ میں کم وزن خواتین کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور سابق فاٹا میں سب سے کم ہے۔ سندھ میں 22 فیصد، بلوچستان میں 14 فیصد، پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تقریباً 12۔12 فیصد گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں 10۔10 فیصد خواتین کم وزن ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ چاہے غریب آبادی ہو، متوسط طبقہ یا صاحب حیثیت لوگ، خون کی کمی کی شرح سب میں تقریباً یکساں ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں خوراک کا معیار بلخصوص حاملہ خواتین کے لیے انتہائی کم ہے۔
’وہ چیزیں جو لوگوں کو کھانی چاہییں وہ نہیں کھاتے اور وہ چیزیں جن سے نقصان ہوتا ہے جن میں بازاری اشیا شامل ہیں وہ مروج ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ غدائی کمی پوری نہیں ہوتی۔ حاملہ خواتین میں سے صرف 50 فیصد خواتین کو ایسی غدا ملتی ہے جس سے غذائی ضروریات پوری ہوتی ہوں بچوں میں یہ شرح 20 فیصد ہے جبکہ 80 فیصد بچوں کو وہ غذا نہیں مل رہی جو قابل قبول ہو۔‘
گھروں میں آلودہ پانی
قومی نیوٹریشن سروے میں گھروں میں زیرِ استعمال پانی کے ذرائع اور پانی کے معیار کا بھی جائزہ لیا گیا، یہ پہلی بار ہوا کہ پورے پاکستان کے تمام اضلاع سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ گھروں سے جو پانی اکٹھا کیا گیا اس میں بیکٹریا چیک کیا گیا تھا اور نتیجہ یہ آیا ہے کہ 50 فیصد میں جراثیم موجود ہیں جو انسانی فضلے سے آتے ہیں۔ ’کوئی بھی ایسا صوبہ نہیں جس کے بارے میں آپ کہہ سکیں کہ یہاں پر 70 فیصد پینے کا صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں پانی کا معیار دیہی علاقوں سے بھی زیادہ خراب ہے۔‘
خشک دودھ بچوں کی سستی وجہ
بچوں کی ہنگامی امداد کے بارے میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے (یونیسف)کی پاکستان میں نمائندہ انجیلا کیرنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں44 فیصد بچے خشک دودھ کے استعمال سے سست نشوونما کا شکار ہیں۔ یونیسف کی نمائندہ نے کہا کہ مارکیٹنگ کی عالمی عدالت نے دو سال سے کم عمر بچوں کے لئے خشک دودھ کی تشہیر ممنوع کررکھی ہے۔ یونیسف بچوں کو ان کی زندگی کے ابتدائی چھ تک ماں کا دودھ پلانے کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس حوالے سے انجیلا کیرنی نے تمام شراکت داروں کی طرف سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خشک دودھ کے بچوں پر اثرات
بچے کی بنیادی اور ضروری غذا ماں کا دودھ سمجھا جاتا ہے۔ ماں کادودھ ایک مکمل غذا اور بیماریوں سے حفاظت اور بحالی کا بہترین ذریعہ اور ہتھیار مانا جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے تمام تر غذائی اجزاء جن کی انسانی جسم کو ضرورت ہوسکتی ہے ماں کے دودھ میں وافر مقدارمیں پائے جاتے ہیں۔ انسانی بدن کے لیے ماں کے دودھ سے اچھی خوراک کو ئی دوسری ہو ہی نہیں سکتی۔ بھینس،گائے اور بکری کے دودھ میں اگرچہ مطلوبہ غذائی اجزاء تو پائے جاتے ہیں لیکن تناسب اور تواز ن کے لحاظ سے ماں کا دودھ ہی بہترین ثا بت ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین کے مطابق ایسے افراد جو بچپن میں شیر خواری کی پوری مدت میں ماں کا دودھ پیتے ہیں ان کے جسم میں بیماریوں کے خلاف قوت ِمدافعت زیادہ کار گر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ نومولود بچے کو ماں اپنا دودھ پلائے۔کم ازکم 6 مہینے متواتر بچے کو لازمی دودھ پلانا چا ہیے یہ بچے کا حق بھی ہے۔
اسی طرح اگر فیڈر سے دودھ پلانا مجبوری ہو تو ہر بار فیڈر کو پانی میں پکا کر دھونے کے بعد بچے کو دودھ پلایا جائے۔ دھیان رہے کہ ماں کے دودھ کے علاوہ بچے کو بکری، گائے یا بھینس کا دودھ ہی پلایا جانا چاہیے۔ خشک اور ڈبوں والا دودھ بھی بچے کے میٹابولزم کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں حقائق سامنے آئے ہیں کہ ماں کے دودھ میں نہ صرف مطلوبہ غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں بلکہ ایسے مفید اینٹی باڈیز بھی پائے جاتے ہیں جو بچے کو بیکٹیریاز، وائرس اور جراثیم سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے تشنج،کالی کھانسی، نمونیہ، خناق، ٹائیفائیڈ، پیچش،فلو،پولیو اور معدہ و آنتوں کی سوزش کے خطرات سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ فی زمانہ مندرجہ بالا امراض کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ماو¿ں کا اپنے بچوں کو دودھ نہ پلانا بھی ہے۔
ماﺅں کا سمارٹ رہنے کا شوق
آج کل کی مائیں سمارٹ نس (smartness) کے چکر میں بچوں کو دودھ پلانے سے انکاری ہوتی ہیں، وہ مامتا کے حقیقی تقاضوں اور ذمے داریوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے اپنے جگرگوشوں کو بیماریوں کے سپرد کررہی ہیں۔ دودھ میں پائے جانے والے غذائی اجزاء میں نشاستہ،چکنائی، پروٹین،کیلشیم،پوٹاشیم، مگنیشیم،جست، فاسفورس، سوڈیم،آیو ڈین، ریبو فلاوین، وٹامن بی12،وٹامن سی اور وٹامن ڈی وغیرہ شامل ہیں، چونکہ نومولود نرم ونازک ہوتے ہیں، ان کا نظام ہضم کمزور ہوتا ہے۔ یوں قدرت نے بچوں کے لیے نرم غذا ہی یعنی دودھ (ماں کا دودھ) کا اہتمام کر کے نسل انسانی کی افزائش اور نشو ونما کا بند وبست بھی فرما دیا۔
دودھ ایک متوازن غذا ہے
بطورِ متوازن غذا ا دودھ کا روزانہ استعمال بچے کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے۔ بچے کو جسم کی نشوونما کے لیے روزانہ کیلشیم کی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اور ماں کا دودھ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ یاد رہے کہ کیلشیم ہڈیوں کی بناوٹ اور مضبوطی میں مدد کرتا ہے۔یہ اعصابی افعال، پٹھوں کی تعمیر اور خون کے انجماد میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اسی طرح نو مولود کے بدن کو آیوڈین کی مقدار بھی درکار ہوتی ہے جسے دودھ فراہم کرتا ہے۔ دودھ کی مصنوعات گلھڑ سے بچانے والے ذرائع خوردنی آیوڈین مہیا کرتی ہیں۔ تاہم م±ختلف مطالعاتی رپورٹس کے مطابق دودھ میں موسم اور علاقے کے لحاظ سے آیوڈین کی مقدار م±ختلف ہوتی ہے۔ایک اوسط درجے کی مقدار 50 ملی گرام تک پائی جاتی ہے۔
وٹامن ڈی کی خاص مقدار بھی انسانی جسم کی روز مرہ ضرورت میں شامل ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی کیلشیم کے ساتھ مل کر ہڈیوں کی ساخت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بدن کی یہ ضرورت دودھ کا استعمال باآسانی پوری کردیتا ہے۔ ریبو فلاوین کی مطلوبہ مقدار بھی ہمیں دودھ سے ہی مہیا ہوسکتی ہے۔ ریبو فلاوین توانائی کشید کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عام جسم کو روز مرہ فاسفورس کی مخصوص مقدار بھی درکار ہوتی ہے۔ یہ ہڈیوں کی مضبوطی اور توانائی مہیا کرنے کے لیے لازمی سمجھی جاتی ہے۔
دودھ کے مناسب استعمال سے فاسفورس کی مطلوبہ مقدار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک تن درست بچے کووٹامن بی بھی چاہیے ہوتی ہے، یہ خون کے س±رخ ذرات کے لیے لازمی عنصر سمجھا جاتا ہے۔ ماں کا دودھ بچے کی اس ضرورت کو پورا کرتا ہے، اسی طرح پروٹین بھی ہمارے انسانی بدن کی ایک لازمی ضرورت ہے۔اس کی خاص مقدار بچے کو روزانہ درکار ہوتی ہے۔ پروٹین جسم کے عضلات اور بافتوں کی بہتری کے لیے ایک ضروری ج±ز ہے لہٰذا دودھ اعلیٰ اور معیاری پروٹین کا سب سے عمدہ ذریعہ ہے جوتمام قسم کے ضروری امینو ایسڈز یا پروٹینی تیزابی مادوں سے لبریز ہوتا ہے۔
پوٹاشیم بھی انسانی جسم کی لازمی ضرورت ہے۔ یہ محلولاتی توازن،بلند فشارالدم اور پٹھوںکی حرکات و تعمیر کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی مطلوبہ مقدار ہم دودھ سے حاصل کر سکتے ہیں۔ خالص دودھ نہ استعمال کرنے سے انسانی جسم کئی ایک امراض کے نرغے میں پھنس سکتا ہے۔دودھ سے حاصل ہونے والے معدنی اجزاءکیلیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، جست، آیوڈین، ریبو فلاوین وغیرہ کی کمی سے ہڈیوں،پٹھوں،آنتوںاورگلھڑ جیسے مضر مسائل پیدا ہوکر بچوں کو ذہنی اور بدنی الجھنوں سے دو چار کر سکتے ہیں۔
دودھ میں معیاری چکنائی کی مقدار 3.5 فیصد تک مانی جاتی ہے لیکن دنیا کے م±ختلف ممالک میںدودھ میں چکنائی کی مقدار م±ختلف استعمال کی جاتی ہے۔ عام طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ایک فیصد یا چکنائی سے بالکل صاف دودھ پینے کا رواج زور پکڑ رہا ہے۔ دودھ میں10 سے زیادہ غذائی اجزاء ،معدنیات،حیاتین، پروٹینز،نشاستہ اور چکنائیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ اجزاء ایک صحت مند جسم کے لیے لازمی خیال کیے جاتے ہیں اور م±ختلف بیماریوں سے ہماری حفاظت کرتے ہیں۔
انسانی اور حیوانی دودھ میں فرق
انسانی اور حیوانی دودھ میں پائے جانے والے فرق کے بارے جاننا بڑا ضروری ہے تاکہ دودھ کی افادیت کے حوالے سے معلومات سے واقفیت ہو سکے۔ انسانی اور حیوانی دودھ میں پائے جانے والے غذائی اجزاءکا فرق کچھ یوں ہے:
مصنوعی اور غیر فطری دودھ نہ جسمانی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے اور نہ ہی امراض سے بچوں کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی صحت دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے،ایک ایسی نعمت جس کا ایک پل بھی کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا لہٰذا اس کی قدر کرتے ہوئے خالص اور ملاوٹ سے پاک دودھ کا استعمال کر کے اپنے بچوں اور اپنی صحت مندی کا لطف اٹھائیں۔ ماوں کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں اور آنے والی نسلوں کی مضبوطی کی بنیاد رکھنے کا سہرا اپنے سر سجائیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: