...................... .................

پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار

منصور مہدی ….
پاکستان عالمی منی لانڈرنگ کے نگراں ادارے کی نظر میں جون 2018ءسے ہے جب ملک کے مالی نظام اور سیکیورٹی میکانزم کی تشخیص کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ خدشات کی بنا پر اسے ”گرے لسٹ“ میں ڈالا گیا تھا۔ امریکا، برطانیہ اور پاکستان کے حریف بھارت کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کی صرف ترکی نے مخالفت کی تھی۔ ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کا مشترکہ شریک چیئرمین، بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو پیرس میں مقیم ادارے کی بلیک لسٹ ممالک میں شامل کیا جائے، جو مالیاتی جرائم سے لڑنے میں عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام ممالک کی فہرست ہے۔ تاہم 21 جون 2019ءکو ہونے والے اجلاس میںپاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ کیونکہ 36 ملکوں کے ”ایف اے ٹی ایف چارٹر“ کے مطابق بلیک لسٹ میں نام ڈالنے سے بچنے کے لیے کم از کم 3 رکن ممالک کی حمایت ضروری ہے۔
ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام 1989ءمیں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔ اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک
عرب ممالک میں سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں مستقل رکنیت حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ سعودی عرب کی رکنیت کا اعلان فلوریڈا کے شہر اورلانڈو میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے سالانہ اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سعودی عرب، ایف اے ٹی ایف کا 2015 ءسے مبصر رکن تھا۔ سعودی عرب کا ایف اے ٹی ایف کا رکن بننے کے بعد ٹاسک فورس کے مستقل رکن ممالک کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔ دیگر رکن ممالک میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیم، برازیل، کنیڈا، چین، ڈنمارک، یورپین کمیشن، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، گلف کو آپریشن کونسل، ہانگ کانگ، آئس لینڈ، بھارت ، آئرلینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، لکسمبرگ، ملیشیائ، میکسیکو، نیدر لینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، روس، سنگاپور، جنوبی افریقہ، سپین، سویڈن، سویٹزرلینڈ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں، جب کہ انڈونیشیا بطور مبصر ملک شامل ہے۔
پاکستان سمیت کتنے ممالک گرے لسٹ میں شامل ہیں
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں جون 2018ءمیں شامل کیا گیا تھا، لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل 2008ءاور 2012ء سے 2015ء کے دوران بھی پاکستان اس لسٹ پر رہ چکا ہے۔ پاکستان کے علاوہ جو ممالک اس وقت اس لسٹ میں موجود ہیں ان میں افغانستان، سری لنکا، ایتھوپیا، شام، سربیا، یمن وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ان ممالک کے ناموں پر غور کیا جائے تو پاکستان ہی ان میں ممتاز نظر آتا ہے جو اپنی غیر معمولی آبادی، بڑی معیشت اور طاقتور فوج کے باوجود اس لسٹ کی زد میں بار بار آرہا ہے۔
گرے لسٹ کا پس منظر کیا ہے؟
پاکستان کو گزشتہ برس جون میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں اس وقت شامل کیا گیا تھا جب پاکستان اس عالمی ادارے کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق مطمئن نہ کر سکا تھا۔ اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے گزشتہ سال پیرس میں منعقدہ اجلاس میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔
پاکستان کو آخری وارننگ
ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق اپنی پالیسی، قانون سازی اور اس پر عمل درآمد میں موجود خلا کو ختم کرے۔ لیکن اب بھی ہم نے پچاس فیصد کام نہیں کیا ہے۔ تاہم پاکستان کو اب یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک میں دہشت گردی کے روک تھام کے لیے سنجیدہ ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی تنظیم اور دنیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان تنظیموں سے منسلک ذیلی فلاحی ادارے مثلاً فلاح انسانیت کو فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا انتظامی و مالی کنٹرول تو فوری طور پر لیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ڈھانچے کو مکمل طور پر حکومتی سرپرستی میں فعال کرنے میں وقت لگے گا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف بھی اگرچہ اپنے مطالبات تبدیل کرتی رہی ہے۔
پہلے انھوں نے پاکستان سے کچھ اور مطالبات کیے تھے جن کو پاکستان نے جب پورا کیا تو ان کے نئے مطالبات سامنے آ گئے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو 10 نکاتی ایکشن پلان پر جنوری 2019ءتک عمل درآمد کرنے کو کہا گیا تھا اور پاکستان کی محدود پیش رفت کے باعث انھیں فوری اقدامات اٹھانے کی تلقین کی۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دیے گئے منصوبے پر مکمل عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے اور خصوصی طور پر ان منصوبوں پر جن کی ڈیڈ لائن مئی 2019ءتھی۔ جس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے اثاثے منجمند کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے تمام صوبوں کو ہدایات بھی جاری کی تھیں۔
حکومت کی جانب سے تمام کالعدم تنظیموں کے ہر قسم کے اثاثہ جات اور ان سے منسلک فلاحی ادارے اور ایمبولینسز بھی حکومتی کنٹرول میں لیے گئے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو دیے گئے 10 نکاتی ایکشن پلان کے مطابق اسے یہ واضح کرنا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق اقدامات کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ نہیں۔ اب گروپ کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا باضابطہ اعلان پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر2019ءکو ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
پاکستان نے اپنے بچاو کے لیے کیا اقدامات کیے
عالمی ادارے نے تصدیق کی کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد طے کیے گئے عملی اقدامات کیے ہیں، تاہم اب بھی مزید کام کرنا باقی ہے۔ گزشتہ ماہ چین کے صوبے گوانگزو میں ملاقات کے دوران پاکستان کو ایکشن پلان میں بتائے گئے 27 میں سے 18 انڈیکیٹرز پر غیر مطمئن اقدامات کرنے پر ”مزید کام“ کرنے کا کہا گیا تھا۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایکشن پلان کے تحت کئی بڑے اقدامات کیے ہیں جن میں قومی ٹیکس نمبر کے بغیر غیر ملکی کرنسی کی ٹرانزیکشنز کو روکنا، قومی شناختی کارڈ کی کاپی کے بغیر اوپن کرنسی میں 500 ڈالر سے زائد رقم کو تبدیل کرنے پر پابندی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے متعدد تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر ان کے اثاثے منجمد کیے ہیں جن میں جماعت الدعوة، جیش محمد بھی شامل ہیں۔
ایف اے ٹی ایف لسٹ کے نقصانات
وفاقی سیکریٹری برائے خزانہ عارف احمد خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی تجاویز پر عمل نہ کیا تو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عمل کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی تجاویز کے پیش نظر ملک کو کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی میں تیزی لانا ہو گی۔ عارف احمد خان نے خدشات کا اظہار کیا کہ پاکستان نے اگر ایف اے ٹی ایف کی تجاویز کو نظر انداز کیا اور ان پر عمل در آمد نہیں کیا تو اسے معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایف اے ٹی ایف پر غیر ملکی اثرات
ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل رکھنے کے فیصلے کو جاننے کے لئے ذرا دیگر بین الاقوامی اداروں اور ممالک کے ساتھ تعلقات کو سمجھنا ہو گا، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف، اگرچہ دو مختلف کردار کے حامل ادارے ہیں اور دونوں ہی ادارے کثیر الجہت اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ دونوں آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ ان دونوں اداروں کے فیصلوں پر کبھی جیوپولیٹیکل حالات اور کبھی بڑی طاقتیں اپنے ووٹ کے بل بولتے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ تاہم ان دونوں اداروں کے اہداف و مقاصد ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ آئی ایم ایف، جس کا صدر دفتر امریکہ کے دارلحکومت واشنگٹن میں ہے۔ اس کی حالیہ سربراہ ایک فرانسیسی خاتون کرسٹین لیگارڈ ہیں۔
آئی ایم ایف کی ذمہ داری میں ممبر ممالک کو تکنیکی اور مشاورتی مدد کے علاوہ بڑے معاشی بحران میں قرضہ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس کی انتظامیہ بورڈ آف گورنرز کے تحت چلتی ہے جس میں سب سے زیادہ ووٹنگ کے اختیارات امریکہ کے پاس 16 اعشاریہ 5 فیصد، اس کے بعد جاپان 6 اعشاریہ 15 فیصد، پھر چین کے پاس 6 اعشاریہ 9 فیصد، اس کے بعد جرمنی کے پاس 5 اعشاریہ 32 فیصد جبکہ فرانس اور برطانیہ کے پاس مساوی ووٹنگ اختیارات 4 اعشاریہ 3 فیصد ہیں۔ آئی ایم ایف میں جرمنی، برطانیہ اور فرانس عام طور پر امریکہ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
اس کے برعکس اتفاقیہ طور پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا صدر دفتر فرانس کے دارلحکومت پیرس میں واقع ہے۔ اس ادارے کے موجودہ سربراہ کا نام مارشل بلنگسلیا ہے اور ان کا تعلق امریکہ سے ہے۔ مسٹر بلنگسلیا اس سے پہلے امریکی محکمہ خزانہ میں ٹیررسٹ فنانسنگ اینڈ فنانشل کرائمز آفس کے اسسٹنٹ سیکرٹری کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی موجودہ ذمہ داریوں میں ادارے کی پالیسی ترتیب دینا اور اینٹی منی لانڈرنگ / کاو¿نٹڑنگ فنانسنگ آف ٹیرر ازم پرعالمی ممالک کو اعتماد میں لینا شامل ہے۔ انہیں اس ادارے کی صدارت گزشہ سال جون میں سونپی گئی تھی جب پاکستان کو اپنی تزویراتی ذمہ داریوں میں کوتاہی کی پاداش میں ”گرے لسٹ“ یا ”زیر نگرانی لسٹ“ میں شامل کیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف کے بعض شراکت داروں کے مطابق اس فیصلے میں ان کا کردار بہت اہم تھا۔
یہ امر باعث حیرت نہیں ہے کہ بعض ماہرین یہ مانتے ہیں کہ اس خطے میں امریکی جیو پولیٹیکل مفادات کا زیادہ تعلق پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرض اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجودگی سے جڑا ہے، اسے پاکستان کے مالی بحران یا اینٹی منی لانڈرنگ / کاو¿نٹڑنگ فنانسنگ آف ٹیررازم کے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔
سفارت کاری کی کامیابی
وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکی سمیت دیگر دوست ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان کی مدد سے پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالا جا سکے۔ پاکستان کو اس سے قبل 2011ءمیں ایسی ہی صورت حال کا سامنا تھا جب اسے گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا تاہم 2015ءمیں پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل درآمد کے بعد اسے فہرست سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ پاکستان کو نگراں ادارے کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 36 میں سے 15 ووٹ درکار ہوں گے جس کی وجہ سے تقریباً 10 ارب ڈالر سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی پچھلے دنوں لندن میں دعویٰ کیا تھا کہ انگلینڈ نے بھی پاکستان کی حمایت پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
سابق سفیر علی سرور نقوی کا کہنا ہے کہ ”یہ اچھی خبر ہے مگر خطرات اب بھی منڈلا رہے ہیں، یہ صرف وقتی ریلیف ہے جس سے ہمیں مزید حمایت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے تاکہ ہم اس خطرے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کو اب بھی گرے لسٹ سے باہر آنے اور بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی چند اہم شرائط پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ علی سرور نقوی جنہوں نے اردن، بیلجیئم اور آسٹریا میں 1970ءسے 2006ءتک پاکستانی سفیر کے طور پر اپنی خدمات دی ہیں، کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کی مدد سے اور مو¿ثر سفارت کاری کے ذریعے پاکستان پر سے ایف اے ٹی ایف کی توجہ ہٹے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ”جہاں تک مجھے معلوم ہے، وزارت خارجہ ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ سمیت دیگر دوست ممالک سے رابطے میں ہے اور انہیں دہشت گردوں کی مالی معاونت سے لڑنے اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے اپنے حالیہ اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی جا رہی ہے“۔ ایف اے ٹی ایف میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی مخالفت پر ان کا کہنا تھا کہ ”پاکستان، امریکا کو اپنی حمایت میں لانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا، حقیقت یہ ہے کہ امریکی مخالفت ایف اے ٹی ایف کے چارٹر پر نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ہے، بالخصوص افغانستان میں مفادات کا تصادم، پاکستان کا چین سے بڑھتا ہوا رابطہ شامل ہے“۔
پاکستان میں منی لانڈرنگ
پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے لئے حال ہی میں پاکستانی حکام نے منی لانڈرنگ کی انسداد کے لئے متعدد اقدامات لئے جن میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس بنانے کے فیصلے کے علاوہ ایف آئی اے ایکٹ 1974ءاور اسٹیٹ بینک ایکٹ 1947ءمیں بھی ترامیم کا فیصلہ قابل ذکر ہے۔ گزشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2015ء سے اب تک دہشت گردوں سے مالی معاونت کے سلسلے میں رقم کی4643 مشتبہ منتقلیوں کی نشاندہی ہوئی جو کہ بعد ازاں بلاک کر دی گئیں۔ 2018ءکے دوران مجموعی طور پر1167 ٹرانزیکشنز پکڑی گئیں جس میں 975 مشتبہ ٹرانزیشکن رپورٹس کی صورت میں جب کہ210 خفیہ مالیاتی رپورٹس کی صورت میں سامنے آئیں۔
ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ریئل اسٹیٹ بزنس سب سے زیادہ منی لانڈرنگ کا سبب بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسی رپورٹ میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے دو انتہائی اہم راستوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن میں پاک ایران اور پاک افغان سرحد شامل ہے جبکہ طویل ساحلی پٹی کے علاوہ اسمگلنگ، قدرتی وسائل، منشیات، این جی اوز، اور بین الاقوامی تنظیمیں شرپسند تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے متنوع ذرائع میں سر فہر ست ہیں۔ علاوہ ازیں، افغانستان جانے والا تجارتی سامان بھی اس غیر اندراج شدہ مالی منتقلیوں کی وجہ ہے۔ مزید براں، ایف بی آر کی جانب سے 2015ءسے اب تک1185 ٹرانزیکشنز، ایس ای بی پی نے 1149 جبکہ ایف آئی نے 1295 ٹرانزیکشنز کا سراغ لگایا۔ پھر بھی اچنبھے کی بات یہ ہے کہ پاکستان بد قسمتی سے ان83 ممالک میں شامل ہے جہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی معاونت بہم پہنچانے کی جڑیں زیادہ شدت سے پیوست ہیں۔
کالعدم تنظیمیں اور ریاستی پالیسی
ایف اے ٹی ایف کے دباو کے بعد بلآخر پاکستان نے کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں جو نیک شگون ہے، سرکار کی جانب سے کالعدم جماعتوں کے مدارس، مساجد، زیراستعمال جائیدادیں، ڈسپنسریاں اور ایمبولنسز کو اپنی تحویل میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری سطح پر آنے والے بیانات سے لگ رہا ہے کہ اس بار کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے، مگر ماضی کے تلخ تجربات کے باعث لوگوں کو اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے؟
پشاور میں آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان میں کالعدم جاعتوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا قوم سے وعدہ کیا گیا تھا مگر اس پر بھی اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہو سکا۔ یوں بعد میں ان تنظیموں کو مین اسٹریم یعنی قومی دھارے میں لانے کے اقدامات شروع ہو گئے جس سے بداعتمادی کی فضا میں اضافہ ہوا۔ البتہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد سے کیے جانے والے اقدامات سے دہشت گردی اور فرقہ وارنہ واقعات میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اس حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ریاست اب مسلح جہادیوں کے جتھوں کو مزید براشت نہیں کرے گی، برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے واضح کیا تھا کہ نئے پاکستان میں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ نہیں اور پاکستان کا جیش محمد نامی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔ ریاست اب کسی تنظیم کو اسلحہ اٹھانے نہیں دے گی، نہ ہی اس کی اجازت دے گی۔ ماضی کی غلطیوں کے ازالے کے لیے سب ریاستی ادارے سنجیدہ ہیں۔
دہشتگردی کیخلاف اقدامات
اب بات کی جائے انسداد دہشت گردی ایکٹ یعنی ’اے ٹی اے‘ کی جو پاکستان کے تمام تر انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر حکمران گردانا جاتا ہے۔ اس قانون کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کو بڑھانا، دہشت گردی سے متعلق معاملات کی تفتیش کرنا، اور عسکریت پسندی میں ملوث ملزمان کے مقدمات کی سماعت کو تیز کرنے کے لئے خصوصی عدالتوں کی تشکیل شامل ہے۔
اس قانون کے حوالے سے آئی ایس ایس آئی( انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز اسلام آباد) کی گزشتہ سال اگست میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نہایت اہم ہے کہ جس میں کہا گیا کہ اے ٹی اے یعنی اینٹی ٹیررسٹ ایکٹ 1997 ءمیں ایک خامی تو یہ تھی کہ اس کی دفعات میں دہشت گردی کی تعریف بہت مبہم اور ضرورت سے زائد وسیع ہے۔ اس سے ایسے جرائم جن کا عسکریت پسندی یا دہشت گردی کے کالعدم نیٹ ورک سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا پر بھی ان دفعات کو لاگو کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس قانون کے تحت جن مجرموں کے خلاف مقدمات چلائے جاتے ہیں ان میں سے ایک بڑی تعداد عسکریت پسندی یا متشدد انتہا پسندی میں ملوث نہیں ہوتی اور نتیجتاً انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں رش لگ جاتا ہے۔
نیز انسانی حقوق اور قانون کی دو تنظیموں جسٹس پراجیکٹ پاکستان (لاہور) اور ریپرائیو (لندن) کی 2014ءکی تحقیق کے مطابق اے ٹی اے کے تحت دہشت گردی سے متعلقہ جرائم میں سزا پانے والوں میں سے تقریباً 80 فیصد ایسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں جن کا دہشت گردی سے دور دور تاک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اے ٹی اے میں بھی ضروری ترمیم درکار ہے۔
الغرض! پاکستان اپنی سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ وہ فی الفور اس لسٹ سے باہر آسکے۔ اور اپنی اسی خواہش کے پیش نظر پاکستان اپنی ساحلی پٹی کو محفوظ بنانے کے لئے کوسٹ گارڈز کی خدمات لے رہا ہے اور پاک افغان بارڈر پر باڑ لگوا رہا ہے تا کہ اسمگلنگ کی مکمل روک تھام ممکن ہو سکے۔ پاکستان نے دہشت گردی میں مالی اعانت کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے 36 نکاتی عملی منصوبہ تیار کیا ہے جو جون 2018ءسے ستمبر 2019ء تک کے 15 ماہ کے عرصے پر محیط ہے۔ اس کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کوششوں کا ازسر نو جائزہ لے گا اور فیصلہ لے گا کہ پاکستان گرے لسٹ پر مزید رہے گا یا نہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: