...................... .................

پاکستان کی تاریخ کی سب سے کامیاب ایمنسٹی سکیم

منصور مہدی …..
ٹیکس ایمنسٹی ا سکیم کوئی انوکھی چیز نہیں۔ مختلف ممالک میں ایسی سکیمیں رائج ہیں۔ البتہ پاکستان میں جن پر کشش شرائط پر اس ا سکیم کو متعارف کیا گیا۔ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت زیادہ تر ملکوں میں ٹیکس کی شرح یا اس سے بھی زیادہ ٹیکس کی وصولی کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ٹیکس چوروں کو سزا یا جرمانہ کے بجائے الٹا ٹیکس میں رعایت دی جاتی ہے۔ نئی ٹیکس ایمنسٹی ا سکیم کے تحت اندرون ملک اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے والے صرف پانچ فیصد ٹیکس دے کے تمام دولت کو قانونی بنا سکتے ہیں۔ یہ شرح ٹیکس کی موجودہ شرح سے 86 فیصد تک کم ہے جبکہ اس وقت، ٹیکس کی موجودہ شرح 7 سے 35 فیصد تک ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی باضابطہ منظوری دی تھی اور اس کا نفاذ صدارتی آرڈینینس کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ اس سکیم کا مقصد محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ بے نامی جائیدادوں کو قانون کے دائرے میں لے کر آنا ہے۔ تاہم اس سکیم سے وہ افراد استفادہ حاصل نہیں کر سکتے جو عوامی عہدے رکھنے والوں کے زیر کفالت ہیں۔ اس کے علاوہ ان افراد پر یہ بھی شرط عائد ہوگی کہ وہ اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں رکھوائے۔ اور اگر وہ شخص اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں نہیں رکھوانا چاہتا اور اسے بیرون ملک ہی رکھنا چاہتا ہے تو اسے دو فیصد مزید ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔
ایک لاکھ 37 ہزار لوگوں نے فائدہ اٹھایا
چیئرمین ایف بی آر، وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ایمنسٹی سکیم کے آخری دن ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ایمنسٹی سکیم سے ایک لاکھ 50 ہزار لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور اپنے آپ کو رجسٹر کروایا۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ کامیاب سکیم ثابت ہوئی ہے۔‘ مشیر خزانہ کے مطابق اس سکیم کے تحت دیے جانے والے ٹیکس لگ بھگ 70 ارب روپے ہے جبکہ تقریباً 3000 ارب روپے مالیت کے اثاثے ڈکلیئر کیے گئے ہیں جبکہ ان ایک لاکھ 50 ہزار میں سے بڑی تعداد نئے ٹیکس دینے والوں کی ہے جو پہلے نان فائلر تھے جو ٹیکس کے نظام میں تھے ہی نہیں۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا ’اب ہماری کوشش ہو گی کہ ایف بی آر کے نظام کو بہتر کیا جائے تاکہ 5500 ارب روپے کی ٹیکس اکٹھا کرنے کی کوشش کو پورا کیا جا سکے۔‘ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق صرف 25 دن کی سکیم سے ہماری امیدوں سے بہتر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ایمنسٹی کیا ہے؟
یونانی اصطلاح ’ایمنیڑیا‘ کا مطلب ہے بھول جانا۔ ’ایمنیڑیا‘ سے نکلی ’ایمنسٹی‘، جو 16ویں صدی سے انگریزی اصطلاحات کا حصہ بن گئی۔ عام طور پر ایمنسٹی (مشروط عام معافی) اور پارڈن (معافی) کے تحت ملنے والی معافی کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایمنسٹی کا استعمال سزا سے پہلے ہوتا ہے اور پارڈن سزا سنائے جانے کے بعد مل سکتی ہے۔ پارڈن کا اختیار عام طور سے بادشاہ یا سربراہِ مملکت کو حاصل ہوتا ہے۔ پارڈن کا اختیار دستوری ہے مگر ایمنسٹی ایک محدود وقت میں مخصوص حالات سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی قانون سازی یا آرڈیننس کے ذریعے دی جاتی ہے۔
پاکستان کی ایمنسٹی سکیمیں
پاکستان میں ایوب خان سے عمران خان تک 11 بار ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان ہو چکا ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ یعنی پانچ ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں مسلم لیگ نواز حکومت نے متعارف کروائیں۔ ایک 1997 میں اور چار 2014 سے 2018 کے تیسرے دورِ حکومت میں۔ ان تمام سکیموں سے پچھلے 61 برس کے دوران 250 سے 275 ارب روپے کے درمیان ٹیکس ہی جمع ہو پایا۔ اس اعتبار سے دو سکیمیں سب سے کامیاب رہیں۔ 2000 میں مشرف حکومت کی ٹیکس ایمنٹسی سکیم کے نتیجے میں تقریباً 115 ارب روپے اور اپریل 2018 میں خاقان عباسی دور کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے 124 ارب روپے حاصل ہوئے۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ 1958میں جو ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کی گئی تھی اس سے حکومت کو صرف1.12 کر وڑروپے وصول ہوئے جبکہ 1968میں 92کروڑ ، 1976میں 1.5ارب، 2000میں 10ارب روپے، 2008میں 3.16ارب روپے اور 2018 میں تقریبا 120ارب روپے وصول ہوئے۔
دیگر ممالک کی ایمنسٹی سکیمیں
کالے دھن کو رعائتی ٹیکس کے ذریعے سفید کرنے اور اس کے بعد ٹیکس گوشوارے باقاعدگی سے داخل کرنے کے عہد کے عوض ٹیکس ایمنسٹی کا معاملہ ہے تو دنیا کے متعدد ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک ٹیکس ایمنسٹی کو بطور ترغیب استعمال کرتے آئے ہیں۔
مثلاً انڈونیشیا میں 1964 سے 2017 تک چار بار ٹیکس ایمنسٹی دی جا چکی ہے۔ اٹلی 2001 اور 2009 میں ، جنوبی افریقہ 2003 میں، بیلجئیم اور جرمنی 2004، پرتگال 2005 اور 2010، روس 2007، امریکہ 2007 اور 2009، یونان 2010، سپین 2012 اور ملیشیا 2019 میں ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کر چکا ہے۔ انڈونیشیا نے 2016میں جو ٹیکس ایمنسٹی ا سکیم جاری کی تھی اس سے تقریبا 745000 لوگ ٹیکس نیٹ میں آئے تھے جبکہ حکومت کو 330ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے ظاہر کئے گئے تھے۔ بھارت نے 2016 میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا لیکن سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والوں سے 45 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس سے بھارتی حکومت کو 294 ارب روپے کی وصولیاں ہوئیں۔
ایمنسٹی کا اطلاق
ایمنسٹی کا اطلاق عام طور پر ہتھیار بند بغاوت، سول نافرمانی کے مرتکب افراد، غیرقانونی تارکینِ وطن، ٹیکس چور اور کالا دھن پوشیدہ رکھنے والوں پر ہوتا ہے۔ انھیں ایک مخصوص وقت میں اس شرط پر تائب ہونے کا قانونی موقع دیا جاتا ہے کہ آئندہ وہ ریاستی قوانین کے تابع رہیں گے۔ مثلاً امریکہ میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد وفاق پرست صدر اینڈریو جانسن نے شکست خوردہ جنوبی ریاستوں کے بیشتر مسلح افراد کو 1865 میں عام معافی دے کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے وفاداری کا حلف اٹھانے کا موقع دیا۔
متعدد امریکی حکومتوں نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو عام معافی دی تاکہ وہ خود کو باقاعدہ شہری بنا سکیں۔اس تناظر میں سب سے بڑی ایمنسٹی امیگریشن کنٹرول ایکٹ 1986 کے تحت دی گئی۔ اس ایکٹ کا فائدہ تین ملین سے زیادہ تارکینِ وطن کو پہنچا۔
ویتنامِ کی جنگ کے دوران امریکی فوج میں لازمی بھرتی سے انکار کرنے والے شہریوں کو 1970 کی دہائی میں کارٹر حکومت نے ایمنسٹی دی اور جبری بھرتی کا قانون ختم کر دیا۔ مشہور باکسر محمد علی بھی ان شہریوں میں سے ایک تھے۔ امریکہ میں جارج واشنگٹن سے ڈونلڈ ٹرمپ تک کل ملا کے اب تک مختلف مدوں میں 346 بار ایمنسٹی قوانین کا استعمال ہو چکا ہے۔
بے نامی جائیداد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی
حکومت کی طرف سے دی گئی ایمنسٹی سکیم ختم ہوتے ہی فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے بے نامی جائیداد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایف بی آر نے سابق صدر آصف زرداری اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نواز کے سینیٹر چوہدری تنویر سمیت متعدد عوامی عہدے داروں کے بے نامی اثاثوں کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں عوامی عہدیداروں کے خلاف ’کریک ڈاو¿ن‘ کا آغاز کیا گیا ہے کیونکہ ان کا ایمنسٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ’اب یہ شخصیات نہ تو اپنے بے نامی اثاثے فروخت کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہ کسی اور کے نام منتقل۔‘
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایمنسٹی ختم ہونے کے بعد بھی بے نامی جائیدادیں رکھنے والے معمول کا ٹیکس دے کر دو اگست تک اپنے اثاثے ظاہر کر سکتے ہیں اور یہ کہ ان پر کسی قسم کا جرمانہ عائد ہو گا اور نہ ہی کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
شبر زیدی کے مطابق ’یہ بہت بڑی سہولت دے دی ہے۔۔۔ ہم دو اگست تک کوئی ایکشن نہیں لیں گے۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد مستقبل میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھانا ہے اور معیشت کو ڈاکیومنٹ کرنا ہے۔‘ ’ایمنسٹی سکیم کے تحت لگ بھگ 80 ہزار ایسے افراد ٹیکس نیٹ میں آئے ہیں جو پہلے نان فائلر تھے‘
چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے مطابق پچھلی سکیم میں زیادہ افراد فائلر تھے یعنی وہ پہلے سے ہی ٹیکس دے رہے تھے۔ ان کے اثاثے باہر تھے، وہ بڑے لوگ تھے انھوں نے پیسے دیے لیکن اب حکومت نے اس سکیم میں کیش وائٹ کرنے کی اجازت ہی نہیں دی ہے۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ اس سکیم میں جو 80 ہزار تک ایسے افراد سامنے آئے ہیں وہ پہلے ٹیکس ہی نہیں دیتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’اب پاکستان میں ٹیکس کا نظام آرہا ہے، عمران خان کی حکومت ٹیکس کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ یہ ٹرینڈ خوشگوار ہے۔‘ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مکمل ڈیٹا ہے۔ اس وقت 345000 انڈسٹریل کنزیومر ہیں جبکہ 31 لاکھ کمرشل کنزیومر ایسے ہیں جن کو کہا جائے گا کہ ریٹرن فائل کریں۔ ’سب سے پہلے ہم انڈسٹریل کنزیومر سے شروع کریں گے۔‘
بے نامی اثاثوں کی قرقی کیسے ہو گی؟
ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ بے نامی جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کے مختلف مراحل ہیں۔
پہلا مرحلہ وہ ہوتا جس میں کوئی شخص بے نامی جائیداد کی ملکیت سے بے خبر ہوتا ہے اور وہ ایف بی آر کو بینیفیشل آنرز (حقیقی مالک) کا نام بتا دیتا ہے۔ ’ایسی صورت میں جائیداد کو 90 دن تک ہولڈ کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران ایف بی آر کی تفتیش جاری رہتی ہے اور اگر مزید وقت درکار ہو تو ایف بی آر متعلقہ محکموں سے مزید وقت کی بھی درخواست کر سکتا ہے۔‘
آصف زرادری اور سینیٹر تنویر کا معاملہ بھی پہلے مرحلے سے تعلق رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اگر بے نامی جائیداد کا شک ہو اور جس کے نام پر وہ جائیداد رکھی گئی ہو وہ خود ملکیت تسلیم کرتا ہو تو پھر ایسے شخص کے تمام اثاثوں کی چھان بین کی جاتی ہے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ جائیداد کا مالک ہو بھی سکتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے زیادہ وقت اور تفتیش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترجمان کے مطابق عوامی عہدیداروں کے خلاف کام پہلے سے جاری تھا کیونکہ وہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ترجمان کے مطابق فوج کے افسران بھی اس سکیم سے مستفید نہیں ہو سکتے تھے۔
ایمنسٹی سکیم پر حکومتی موقف
وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی جانے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں لائی جانے والی ایمنسٹی سکیم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس سکیم میں کالا دھن سفید کرنے والوں کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا گیا تھا جبکہ موجودہ سکیم میں یہ لازمی ہوگا کہ وہ ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سکیم میں ایسے افراد سے، جنھوں نے اپنی دولت ڈیکلئیر کی مگر کسی ملکی بینک میں جمع نہیں کروائی، کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی جبکہ موجودہ حکومت کی سکیم میں اس شخص پر لازم ہوگا کہ اس نے جو رقم ڈیکلئیر کی ہے اس کو کسی بینک میں جمع کروائے اور اس پر ٹیکس بھی دے۔ اس سکیم کے تحت مستفید ہونے والے افراد کے کوائف کو سامنے نہیں لایا جائے گا اور اگر کوئی سرکاری اہلکار ان کوائف کو سامنے لانے میں ملوث پایا گیا تو اسے ایک سال قید کے ساتھ ساتھ دس لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
ایمنسٹی کے بارے میں غلط فہمیاں
ایمنسٹی کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اس سے کالا دھن سفید ہوتا ہے۔ ایسا ضرور ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسکا حصہ کم ہوتا جارہا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ اپنی جان چھڑانے یا بچانے کیلئے اپنے اثاثے ڈکلیئر کر رہے ہیں جن کی کمائی حق حلال کی ہے (باہر کی کمائی، کیش کاروبار کی کمائی، فیملی تنازعات اور انکے حل کے باعث اثاثوں کی غیر رسمی تقسیم، اپنی جائیداد مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے عزیزوں کے نام رکھنا وغیرہ وغیرہ) لیکن انہوں نے اسکا ریکارڈ نہیں رکھا۔ کاروباری لوگوں کے سوا بہت کم لوگ ریکارڈ رکھتے ہیں، انکا سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اپنے اخراجات پورے کر لیں اور اگر کچھ بچ جائے تو چھت بنا لیں۔ لیکن اب لوگوں کو ڈر ہے کہ حکومت ان سے ریکارڈ مانگے گی اور نہ ہونے پر وہ انہیں چور بنا کر بہت زیادہ شرح پر ٹیکس لگا دے گی۔ موجودہ حکومت نے ایسے لوگوں کو خوب ڈرا کر ان سے ٹیکس وصول کر لیا ہے۔ اسی طرح چھوٹے کاروباری لوگوں کا پیسہ اگرچہ ظاہر نہیں یا کم ظاہر ہے لیکن وہ چوری اور ڈاکے کا پیسہ نہیں ہے وہ انکی حق حلال کی کمائی ہے۔ ایسے بہت سے لوگ اس ایمنسٹی میں کم شرح پر ٹیکس دے کر ٹیکس نیٹ میں آئے ہیں۔
اب حکومت کو کیا کرنا ہوگا
اہم بات یہ ہے کہ پے در پے ایمنسٹی اسکیموں کے باوجود ابھی بھی کروڑوں لوگ اس نیٹ سے باہر ہیں جس میں زیادہ ترغریب عوام جن کے تھوڑے بہت اثاثے ہیں اور چھوٹے کاروباری لوگ ہیں۔ اسکی کئی وجوہات ہیں۔ اول، ایسے لوگ غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور مہنگائی اور بالواسطہ طریقے سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹیوں کے بوجھ تلے اس قدر دب چکے ہیں کہ انکے پاس ایمنسٹی میں بھی دینے کو کچھ نہیں۔ دوم، ان میں زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں یا انہیں اپنے اثاثے ڈاکیومنٹ کرنے کے بارے میں شعور اور ادراک نہیں ہے۔ سوم، ایسے لوگ حکومتی اداروں سے بجا طور پر خوفزدہ ہیں۔ انہیں واپڈا اور گیس، ریونیو اور کبھی کبھار تھانے کچہری سے واسطہ پڑتا ہے اور انکا جو تجربہ ہے اسکی وجہ سے وہ ان اداروں میں ایف بی آر کا اضافہ نہیں کرنا چاہتے جو ہر وقت ان سے حساب مانگتا رہے۔ پھر عام آدمی کیلئے موجودہ نظام اس قدر پیچیدہ ہے کہ وہ نہ تو اسکو خود سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی اسکی استطاعت ہے کہ وہ کسی ماہر کی خدمات لے سکے، جبکہ یہ کام اتنا حساس نوعیت کا ہے کہ ایک صفر کا غلط اضافہ اسکو ”چور“ بنا کر اسکے سارے اثاثوں سے محروم کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے کروڑوں غریب اور متوسط عوام کے خدشات اور مسائل کے مدنظر انکو ڈاکیومنٹیشن کے دائرے میں لانے کیلئے علیحدہ سے آسان اسکیمیں نکالے۔ ان طبقوں کو ڈاکومنٹیشن میں لانے کیلئے خوف نہیں بلکہ پیار، مدد اور شعور کی ضرورت ہے۔
پاکستانی معیشت کیلئے خوشخبری
ایمنسٹی سکیم، آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری پاکستان میں معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں ہیں، معاشی منزل کے لئے دروازہ کھل گیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ ہو گیا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے 3 سال کے لئے 6 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے، اب پوری دنیا پاکستان کو اس نظر سے دیکھے گی کہ پاکستان کی معیشت کا انتظام بڑے مضبوط انداز سے کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت کو جانچنے کے لئے دنیا کے سرمایہ کاروں کے لئے بہت بڑا پیرامیٹر ہوگا۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے دیگر ممالک کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ایک بہت بڑی ضرورت تھی جو اب پوری ہو گئی ہے اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑی اچھی خبر ہے ایمنسٹی سکیم میں تاریخی کامیابی ہوئی ہے۔ اس سکیم کی کامیابی توقعات سے بڑھ کر ہے، بہت بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دستاویزی معیشت کا حصہ بنیں گے اور یہ دستاویزی معیشت میں بہت بڑی چھلانگ ہے۔ پاکستان کے لئے یہ دونوں خبریں سنہری خبریں ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی بحالی کے آثار بازار سونگھ لیتا ہے۔
اس کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اچھی خبریں آنے والی ہیں۔ معیشت کے برے دن ختم ہونے والے ہیں اور پاکستان ایک بہتری کے دور میں داخل ہونے والا ہے، اب پاکستان کو جو معاشی کینسر لاحق تھا، اب اس کا علاج ہوگا، اسی لئے مارکیٹ میں بہت بہتری کے آثار ہیں، پچھلے 3 دن میں روپے کی قدر 4 فیصد تک بڑھ چکی ہے، انٹربینک میں ڈالر 164 روپے سے کم ہو کر اب 157 رپے 61 پیسے کا ہو گیا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ سالوں میں یہ سب سے بڑی بہتری ہے۔ پچھلے 3 دن کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں 3 فیصد تیزی آچکی ہے جبکہ شیئرز کی مالیت میں 128 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں جو کروٹ آ رہی ہے اس میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کلیدی کردار ہے۔
لوگوں کو اعتماد ہے عمران خان کی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ ہے، پاکستان میں ایک ماحول پیدا کیا گیا ہے اور لوگ ٹیکس کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔ ایمنسٹی سکیم میں نان فائلرز کی بڑی تعداد پہلی بار اس میں شامل ہوئی ہے مارکیٹ میں بھی یہ بات عام ہے کہ پاکستان میں اب ٹیکس کا نظام آرہا ہے اور لوگوں کو ٹیکس سسٹم میں آنا ہوگا، یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: