...................... .................

ریکوڈک کیس: عالمی عدالت میں پاکستان مقدمہ کیسے ہارا؟

منصور مہدی …..
ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کو تقریباً 6 ارب ڈالر جرمانے کا فیصلہ سنایا ہے جس پر پاکستان میں حسبِ روایت ایک کمیشن بنا دیا گیا ہے۔ یہ کمیشن ناکامی کی وجوہات اور ذمے داروں کے تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی چھان بین بھی کرے گا کہ کس وجہ سے ملک کو اتنا بڑا نقصان ہوا۔
بلوچستان کے ضلع دالبندین میں چاغی کے قریب ایک بے آباد اور صحرائی علاقے کا نام ریکوڈک ہے۔ بلوچی زبان میں ریکوڈک کا مطلب ریت کی پہاڑی ہے۔ یہ علاقہ ٹیتھیان میگمیٹک آرک کا حصہ ہے، جو ماہرینِ ارضیات کے مطابق افریقی، عرب، انڈین اور یوریشین ارضیاتی پلیٹوں کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔ یہ میگمیٹک آرک رومانیہ سے ترکی، ایران، پاکستان اور افغانستان سے ہوتی ہوئی پاپوا نیو گنی تک پھیلی ہوئی ہے۔
یہاں اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں اور گرمی انتہا کی ہوتی ہے۔ یہاں د±ور د±ور تک آبادی ہے اور نہ پینے کا پانی۔ میگمیٹک آرک کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں معدنیات کی موجودگی کا یقین تھا۔
نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو معین قریشی کو بیرونِ ملک سے بلا کر وزیرِاعظم بنایا گیا اور نصیر مینگل بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ مقرر ہوئے۔ اس نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ ایک آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کو دے دیا۔
بلوچستان حکومت نے بی ایچ پی کے ساتھ اشتراک کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ریکوڈک سے ملنے والی معدنیات میں 75 فیصد بی ایچ پی کا حصہ طے پایا، جبکہ 25 فیصد حصہ بلوچستان حکومت کو ملنا تھا اور اسے اس منصوبے میں کچھ بھی سرمایہ کاری نہیں کرنا تھی۔
اس منصوبے کو اس وقت کے نگرانوں نے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کا شاہکار قرار دیا اور ان نگرانوں کو مسلط کرنے والے بھی اس منصوبے پر معترض نہ ہوئے۔
اگلے 10 برسوں میں اس منصوبے کی ملکیت بدلتی چلی گئی۔ 2000ء میں بی ایچ پی نے ایک اور فرم مائن کور کو اس منصوبے میں شامل کرلیا۔ جس کے بعد اس منصوبے کو آسٹریلیا میں ہی بنائی گئی ایک اور کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی ٹی سی) کو منتقل کردیا گیا۔ بعد میں ٹی ٹی سی پاکستان میں رجسٹرڈ کروائی گئی۔ 2006ء میں کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگستا نے ٹیتھیان خرید لی۔ ریکوڈک میں ایک سائٹ ای ایل فائیو میں تلاش کا لائسنس 2002ء میں 3 سال کے لیے دیا گیا اور 2011ء تک 2 بار اس میں توسیع کروائی گئی۔
نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہونے کے بعد نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی کو دے دیا۔
2006ء میں بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگسٹا نے چارج لیا تو تلاش کے کچھ ہی عرصے بعد زیرِ زمین اربوں روپے کے ذخائر کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ 2009ء میں بلوچستان میں نئی صوبائی حکومت بنی۔ اگست 2010ءمیں ٹی ٹی سی پاکستان نے فزیبیلٹی اسٹڈی جمع کروائی اور فروری 2011ء میں کان کنی کی درخواست دی گئی۔ بس اس کے ساتھ ہی اس منصوبے میں کرپشن کی کہانیوں اور معدنی ذخائر کی لوٹ مار کے اسکینڈلز نے سر اٹھانا شروع کردیے۔ پہلے سے دائر درخواستوں کے علاوہ بلوچستان کے معدنی ذخائر کی حفاظت کے نئے دعویدار بھی عدالتوں میں پہنچے۔
مئی 2011ء میں سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ ٹی ٹی سی پاکستان کی جانب سے دی گئی کان کنی کی درخواست پر ‘منصفانہ اور شفاف’ کارروائی جلد از جلد کی جائے۔ عدالتی مداخلت کے بعد ڈری ہوئی صوبائی حکومت نے جہاں ٹی ٹی سی کا لائسنس منسوخ کردیا وہیں ٹی ٹی سی کو دی گئی سائٹس کے گرد و نواح میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے 11 نئے لائسنس جاری کردیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 11 لائسنس میں سے 5 لائسنس پاکستان اور چین میں بننے والی نئی نئی کمپنیوں کو دے دیے گئے جن کا اس سے پہلے سونے اور تانبے کی تلاش کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ یہ کمپنیاں سپریم کورٹ کے مئی میں دیے گے فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر قائم ہوئیں اور لائسنس لینے میں کامیاب رہیں۔
سپریم کورٹ میں درخواستیں دینے والے اور ان کے وکیل بڑے فخر کے ساتھ کہتے رہے کہ ہم معدنیات کا 75 فیصد ان غیر ملکیوں کو کیسے لے جانے دیں۔ اربوں ڈالر کے ذخائر میں کم از کم 50 فیصد تو ملک کو ملنا چاہئے۔
ذخائر کی تلاش کا کام مکمل ہوتے ہی غیر ملکی کمپنیوں کو بھگانے کا کام پ±راسرار طریقے سے انجام پایا اور چین کی ناتجربہ کار کمپنیوں کو میدان میں اتار دیا گیا۔ ان درخواستوں میں ایک درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا دعویٰ ہے کہ 1993ء میں ہونے والا معاہدہ کرپشن سے لتھڑا ہوا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے افسر کا نام لیتے ہوئے وکیل موصوف نے دعویٰ کیا کہ اس افسر کو آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر 7 سال سزا بھی ہوئی۔
وکیل موصوف کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن اس افسر کو ریکوڈک کیس سے جڑے کسی الزام میں سزا نہیں ہوئی تھی۔ اگر وکیل موصوف کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو اس کرپشن کی بنیاد معین قریشی اینڈ کمپنی نے رکھی اور انہیں مسلط کرنے والے بھی برابر کے شریک تسلیم کیے جانے چاہئیں۔
ریکوڈک منصوبے کو متنازع بنانے میں قوم پرست بھی برابر کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے وسائل لٹنے کا شور مچایا اور کچھ قوتوں کو اس شور شرابے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ ریکوڈک کو ایک اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دیا جانے لگا اور منتخب حکومتوں کو اس منصوبے میں صرف انگوٹھا لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اسٹریٹیجک اثاثہ قرار پانے کے بعد ریکوڈک کو اسٹرٹیجک اتحادی چین کے حوالے کیے جانے کی تیاری ہوئی اور 5 کمپنیاں آگے بڑھائی گئیں۔ چین تانبے کا سب سے بڑا صارف ہے اور وہ ترقی پذیر ملکوں میں کان کنی کے بدلے انہیں انفرااسٹرکچر منصوبے دیتا ہے۔ چینی حکومت کی ملکیتی کمپنی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کور (ایم سی سی) پہلے ہی سینڈک منصوبے پر کام کر رہی تھی اور دسمبر 2010ء میں اس وقت کے چین کے وزیرِاعظم وین جیا باو¿ کے دورہ اسلام آباد کے دوران ریکوڈک منصوبے پر کام کی پیشکش بھی ہوئی۔
ایم سی سی کی پیشکش ٹی سی سی سے ملتی جلتی تھی لیکن اس میں صرف میٹھی گولی یہ تھی کہ رائلٹی 2 فیصد سے زیادہ دی جائے گی۔ایم سی سی اس وقت سامنے آئی جب ٹی سی سی ابتدائی کام مکمل کرکے فزیبلٹی رپورٹ جمع کرا چکی تھی اور تلاش کے کام پر ٹی سی سی 220 ملین ڈالر خرچ کرچکی تھی۔
ٹی سی سی ریکوڈک منصوبے پر 3.3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے والی تھی جو پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری کا ایک ریکارڈ بن سکتا تھا۔ ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس نہ دیے جانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ انہیں بالکل سمجھ نہیں آئی کہ درخواست مسترد کرنے کی وجہ آخر کیا بنی۔ بلوچستان مائننگ ریگولیشن میں کئی ایشوز کا احاطہ ہی نہیں کیا گیا۔
بلوچستان کی معدنیات پر ڈاکہ ڈالنے کا شور مچانے والے کہتے ہیں کہ صرف 25 فیصد حکومت کو ملنا تھا، لیکن یہ مکمل درست نہیں، کیونکہ بلوچستان اور مرکزی حکومت نے اس منصوبے پر ٹیکسز کی کوئی چھوٹ نہیں دی تھی اور اس کے علاوہ 2 فیصد رائلٹی بھی دی جانی تھی۔ اس اعتبار سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو تقریباً نصف حصہ ملنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ٹی سی سی نے ذخائر کی مالیت کم بتائی۔ اس حوالے سے ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ ذخائر کی مالیت اس وقت سونے کی قیمت کے اعتبار سے بتائی گئی جو 60 ارب ڈالر تھی۔ ذخائر کی مالیت کا اندزاہ اس طرح ہی لگایا جاتا ہے۔
ریکوڈک منصوبے پر آئی سی ایس آئی ڈی کے فیصلے سے پہلے ہی پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مثالی نہیں رہا۔ سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں بدامنی، پاکستان کے قوانین میں ابہام اور عدالتی تنازعات کا ڈر ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرمایہ کار کمپنیوں کے تحفظات مزید بڑھیں گے۔
وزیرِاعظم عمران خان کا قائم کردہ کمیشن ہماری ملکی تاریخ میں بنائے گئے دیگر کمیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کو روک کر فائدہ اٹھانے والے کاریگر کبھی سامنے نہیں آسکیں گے کیونکہ اس قسم کے منصوبوں پر اثر انداز ہونے والے طاقتور ہاتھوں کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا۔ اگر معین قریشی اور نصیر مینگل کی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو ان کے سرپرستوں پر بھی انگلی اٹھے گی۔
سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں بدامنی، پاکستان کے قوانین میں ابہام اور عدالتی تنازعات کا ڈر ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرمایہ کار کمپنیوں کے تحفظات مزید بڑھیں گے۔
معین قریشی اور نصیر مینگل کو ذمہ دار ٹھہرانے اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے کردار بھی کسی نہ کسی کے کارندے تھے۔ عدالتی فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر کمپنیاں بنا کر لائسنس لینے اور دینے والے بھی اس جگ ہنسائی کے ذمہ دار ہیں۔ جگ ہنسائی سے بھی بڑھ کر ملک کا اعتماد ختم اور ساکھ مجروح ہوئی ہے، جسے بحال کرنے میں برسوں لگیں گے۔ پہلے سے زخم کھائی معیشت اس نقصان کی متحمل نہیں۔
ذمہ داران کے تعین کے لیے تحقیقاتی کمیشن
عالمی بینک کے ثالثی فورم پر ریکوڈک فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً آئی ایم ایف سے ملنے والے چھ ارب ڈالرز کے قرض جتنے جرمانے کی خبر سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اس نقصان کے ذمہ داران کے تعین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے۔ اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا ہے کہ یہ ملک کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور وزیر اعظم نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ’وزیر اعظم کے حکم پر جلد کمیشن کی تشکیل ہو جائے گی جو 1993 سے لے کر آج تک پاکستان کو اتنے بھاری نقصان کا سبب بنے والے مقدمے کے تمام ملوث افراد سے پوچھ گچھ کرے گا‘۔انھوں نے کہا کہ کمیشن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی شامل تفتیش کرے گا۔ واضح رہے کہ ریکوڈک کیس کا فیصلہ سنانے والا بینچ تین ججوں پر مشتمل تھا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اب ریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید اس وقت حاضر سروس ججز ہیں۔ جسٹس گلزار احمد دسمبر میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس بن جائیں گے۔ انور منصور نے کہا کہ کمیشن وجوہات کے تعین کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کرے گا۔
فیصلے کے بعد پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
اٹارنی جنرل انور منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اس فیصلے خلاف نظرثانی کے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرے گا۔
ان کے مطابق کچھ پہلووں پر نظرثانی کے لیے تین ماہ تو کچھ میں تین سال تک کا عرصہ ہے تاہم انور منصور کے مطابق اس فیصلے کے خلاف اپیل کا آپشن موجود نہیں ہے۔
انور منصور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیتھان کمپنی کی جانب سے مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے اور ہم مذاکرت پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جتنے بڑے نقصان کا سامنا ہے اس کو کم کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑا وہ کریں گے جبکہ مذاکرات تو تنازعات کا حل ہوا کرتے ہیں۔
یہ مذاکرات کب اور کیسے ہونگے اس حوالے سے فریقین آپس میں رابطہ قائم رکھیں گے۔ اس وقت اٹارنی جنرل آفس میں عالمی معاہدات کے تنازعات کے حل سے متعلق ایک سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو اس معاملے پر کام کرے گا۔
اس مقدمے کے دوران پاکستان کے وکلا کی ٹیم چار بار تبدیل ہوئی۔ باہرممالک کے وکلا نے فیس تو وصول کرلی لیکن مقدمے کو منطقی انجام سے پہنچانے سے پہلے ہی اس سے علیحدگی اختیار کرتے رہے۔
انور منصور کے مطابق اس مقدمے میں بھاری فیسیں ادا کی گئی ہیں اور اب ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ آئندہ ہمارے پاکستانی وکیل ایسے مقدمات میں پیش ہوا کریں گے۔
عدالتی فیصلوں کی وجہ سے پہلے ہی پاکستان کو کارکے سمیت متعدد مقدمات میں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان سٹیل ملز اور موبائل فون کمپنیوں سے متعلق عدالتی فیصلوں کی وجہ سے بھی ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘
ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا شوکیس کہتے ہیں
ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔ ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔
بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔ چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کرکے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔ منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی)کو فروخت کیے۔ نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اورچِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔
ٹی سی سی اور حکومت بلوچستان کے درمیان تنازع کب پیدا ہوا؟
ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا۔ بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کی لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔ اس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔ حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔
ریکوڈک معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا۔ سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔ کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلزحکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔
ریکوڈک کا معاملہ بین الاقوامی ثالثی کے کن کن فورمز پر زیر غور رہا؟
2011 میں مائننگ کے لیے لائسنس مسترد ہونے کے بعد ٹی سی سی نے پاکستان میں کسی فورم میں جانے کے بجائے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا۔ ان میں سے ایک ایکسڈ جبکہ دوسرا آئی سی سی کا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق ٹی سی سی کی جانب سے 16 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان فورمز پر پاکستان کی جانب سے جن ماہرینِ قانون کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ان میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ ان فورمز پر حکومت پاکستان کی جانب سے جو موقف اختیار کیا گیا تھا ان میں یہ بھی شامل تھا کہ ٹی سی سی نے بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے افسروں کو رشوت دے کر ابتدائی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید علاقے اپنے لیزمیں شامل کرائے تھے۔ تاہم ایکسڈ نے حکومت پاکستان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ چند ہفتے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک نشست کے دوران یہ کہا تھا کہ حکومت پاکستان ایکسڈ میں کیس ہار گیا ہے اور اب ثالثی فورم نے جرمانے کی رقم کا تعین کرنا ہے۔
جرمانے کی رقم کون ادا کرے گا؟
اگرچہ ریکوڈک پر غیر ملکی کمپنیوں نے ایکسپلوریشن کا آغاز 1993 میں کیا تھا لیکن 2011 میں کمپنی کی مائننگ کی لائسنس کے لیے درخواست کی منسوخی تک چند درجن ملازمتوں کے سوا معاشی لحاظ سے بلوچستان کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں ملا تھا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ہرجانے کی جو رقم ہوگی اس کی ادائیگی حکومت بلوچستان کو کرنی ہوگی۔
ثالثی فورم کی جانب سے بطور ہرجانہ جس رقم کا تعین کیا گیا ہے ماہرین کے مطابق اگر بلوچستان کے گزشتہ تین چار سال کے دوران بجٹ کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ تقریباً بلوچستان کے تین سال کے بجٹ کے برابر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بطور ملک ہمیں کہیں سے دو تین ارب ڈالر ملیں تو ہم بہت خوش ہوتے ہیں لیکن ہرجانے کی رقم بہت زیادہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اتنی بڑی خطیر رقم کی ادائیگی کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن اس کی ادائیگی کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر نقصان ہوگا اور ملک کے لیے کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کیس کی فیس بھی ہم دے رہے ہیں اوراب تک حکومت بلوچستان نے فیس کی مد میں ڈھائی سے تین ارب روپے کی ادائیگی کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات کے اچھے قواعد و ضوابط ہیں اگر جلد بازی میں کمپنی کے ساتھ معاہدے کو مسترد کرنے کی بجائے اس کو مختلف خلاف ورزیوں پر مرحلہ وار نوٹس جاری کر کے معاہدے کو منسوخ کیا جاتا تو شاید آج بلوچستان کو اتنا نقصان نہ پہنچتا۔
ریکوڈک کیس
واضح رہے کہ حکومت پاکستان اور اٹلی کی کمپنی ٹی سی سی کے درمیان یہ کیس عالمی ثالثی ادارے میں 7 سال تک جاری رہا۔ ٹی سی سی نے 12 جنوری 2012 کو مقدمہ دائر کیا تھا جبکہ آئی سی ایس آئی ڈی نے اس کی سماعت کے لیے ٹریبیونل 12 جولائی 2012 کو تشکیل دیا تھا۔ جرمنی کے کلوز ساکس نے ٹریبیونل کی سربراہی کی جہاں بلغاریہ کے اسٹانیمیر اے الیگزینڈوو نے ٹی سی سی کی نمائندگی کی اور برطانیہ کے لیونارڈ ہوف مین نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ ریکو ڈک جس کا مطلب بلوچی زبان میں ‘ریت کا ٹیلہ’ ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاو¿ں ہے جو ایران اور افغانستان سے منسلک سرحد کے قریب واقع ہے۔ ریکو ڈک میں کم درجے کے تانبے کے کل ذخائرایک اندازے کے مطابق 5.9 ارب ٹن ہیں جبکہ درمیانے درجے کا تانبا اس کا 0.41 فیصد ہے اور سونے کے درجے کے ذخائر 0.22 گرام فی ٹن موجود ہیں۔ اس ذخیرے میں کان کنی کرنے کے لائق حصے کا تخمینہ 2.2 ارب ٹن لگایا گیا ہے جہاں درمیانے درجے کا تانبہ 0.53 فیصد اور سونا 0.30 گرام فی ٹن ہے جس کی سالانہ پیداوار 2 لاکھ ٹن تانبہ اور 2.5 لاکھ اونس سونا ہے۔ ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
ریکوڈک گولڈ مائنز معاہدے کو کالعدم قرار دینا
سپریم کورٹ 2011میں نے 23 جولائی انیس سو ترانوے میں ہونے والے اس معاہدے کو ملکی قوانین سے متصادم قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کا سولہ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان کے علاقے ریکوڈک میں سونے اور دیگر معدنیا کے ذخائر کی تلاش کے معاہدے کو کالعدم قرار دیدیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے منرل رولز اور ملکیت کی منتقلی کے قوانین کے خلاف ہے۔ فیصلے کے مطابق معاہدے میں کی گئی تمام ترامیم بھی غیرقانونی اور معاہدے کے منافی تھیں۔23 جولائی انیس سو ترانوے کو غیرملکی کمپنی سے ہونے والے اس معاہدے کیخلاف پانچ سال تک کیس عدالت میں زیرسماعت رہا۔ خیال رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس گلزار اور جسٹس اجمل سعید شیخ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس کیس کا فیصلہ سولہ دسمبر کو محفوظ کیا تھا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے غیرملکی کمپنی ٹی سی سی کے خلاف درخواستیں بھی سماعت کیلئے منظور کرلی ہیں۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے سے متعلق ٹیتھیان کمپنی کا اب کوئی حق باقی نہیں رہا۔
ٹیتھیان کمپنی کی مذاکرات کی پیشکش
عالمی ثالثی فورم کی جانب سے ریکوڈک کیس کا فیصلہ حق میں آنے کے باوجود ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے 6 ارب ڈالر ہرجانے پر پاکستان کے ساتھ تصفیہ طلب مذاکرات کے ذریعے ممکنہ حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت کی خواہش کا اظہار کردیا۔واضح رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی دنیا کی بڑی کان کن کمپنیوں میں سے ایک بیرک گولڈ کارپوریشن اور اینٹوفیگیسٹا کا مشترکہ منصوبہ ہے۔اس نقصان میں کان کنی کی لیز منسوخ کیے جانے کے وقت ریکوڈک منصوبے کی فیئر مارکیٹ ویلیو کا معاوضہ 4 ارب 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور ایک ارب 75 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود شامل ہے۔ ٹریبیونل نے حکومت پاکستان کو کیس کے دوران ٹی سی سی کے ہونے والے اخراجات کی مد میں 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم بھی ادا کرنے کا حکم دیا جو ہرجانے میں شامل ہے۔ ایک بیان جاری کرتے ہوئے اینٹوفیگیسٹا کے چیف ایگزیکٹو افسر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں 7 سال سے زائد عرصے کے بعد ہمیں اس سنگِ میل تک پہنچنے پر خوشی محسوس ہورہی ہے‘۔ دوسری جانب ٹی سی سی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے پر رضا مند ہیں اور تنازع کے حتمی نتیجے تک اپنے کمرشل اور قانونی حقوق کا تحفظ جاری رکھیں گے‘۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: