...................... .................

ویانا اجلاس جوہری ڈیل برقرار رکھنے کا آخری موقع

ایران نے کہا ہے کہ جوہری توانائی کے عالمی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے آج ویانا میں ہونے والا اجلاس آخری موقع ہے جس کے بعد ایران اپنا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے ویانا میں امریکا کی معاہدے سے علیحدگی کے بعد باقی رہ جانے والے ممالک کے اجلاس کو جوہری ڈیل کو برقرار رکھنے کا آخری موقع قرار دیا اور امریکی پابندیوں کے تناظر میں کسی بھی مصنوعی حل کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
گزشتہ برس امریکا کی کی جانب سے یک طرفہ طور پر عالمی جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران نے بھی یورینیئم افزودگی کی دھمکی دے دی، اس کشیدہ صورت حال میں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے ویانا میں اجلاس طلب کیا ہے۔
ایران نے عالمی جوہری معاہدے کے حامل دیگر ممالک روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو مطلع کیا ہے کہ امریکی اقتصادی پابندیوں کا سدباب نہ کیا گیا تو ایران ڈیل میں طے شدہ اجازت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یورینیئم کی افزودگی شروع کر دے گا اور کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔
ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کے اسٹریٹیجک صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یورپ نے ایٹمی معاہدے کے تحت کیے گیے اپنے وعدے تاحال پورے نہیں کیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اب ایٹمی معاہدے پر یک طرفہ طور پر عمل نہیں کرے گا۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی کے بارے میں یورپی ملکوں اور ایٹمی معاہدے کے باقی ماندہ ممالک کے سیاسی موقف کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن سیاسی موقف کو عملی اقدامات کی شکل میں سامنے آنا چاہیے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران کو امید ہے کہ جمعے کے روز ویانا میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں، ایٹمی معاہدے کے باقی ماندہ ممالک اور خاص طور سے یورپی ملکوں کی جانب سے دکھائی دینے والے علمی اقدامات کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں مزید کمی کے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنائے گا جو مکمل طور سے قانونی ہے اور ایٹمی معاہدے میں بھی تہران کے اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس جمعے کی شام ویانا کے کوبرگ ہوٹل میں منعقد ہو گا جس میں ایران اور چار جمع ایک گروپ کے رکن ملکوں کے نائب وزرائے خارجہ اور دوسرے متعلقہ عہدیدار شرکت کریں گے۔
ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران نے اس معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی کا ایک سال پورے ہونے پر، آٹھ مئی دو ہزار انیس کو، اعلی قومی سلامتی کونسل کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایٹمی معاہدے کے بعض حصوں پر عملدرآمد روک دیا تھا اور معاہدے کے باقی ماندہ ممالک کو اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے ساٹھ روز کی مہلت دی تھی۔
امریکہ کے نکلنے کے بعد یورپی یونین اور یورپی ٹرائیکا نے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے اور ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی لین دین کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے خصوصی میکینزم کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔
فرانس برطانیہ اور جرمنی نے اکتیس جنوری کو ایران کے ساتھ یورپ کے خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس کے قیام کا باضابطہ طور پر اعلان بھی کیا تھا لیکن یہ مالیاتی سسٹم بھی اب تک عمل میں اپنا کام شروع نہیں کر سکا ہے۔
واضح رہے کہ 2015 میں ایران کے ساتھ 6 عالمی قوتوں امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا عالمی جوہری توانائی طے پایا تھا جس کے تحت ایران کو یورینیئم افزودگی کے عمل کو محدود کرنا تھا جس کے بدلے میں عالمی قوتوں نے ایران پر پابندیوں کو نرم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: