...................... .................

طلسم ہوش ربا …….. نوشاد عادل

خوف اس کے جسم کے ریشے ریشے میں سرایت کر گیا۔ اس مرتبہ اس نے بالکل واضح کسی کے گہرے گہرے سانوں کی آوازیں سنی تھیں۔ اس جنگل میں اس کے علاوہ بھلا اور کون تھا۔ آسیبی ہوا درختوں، جھاڑیوں سے اُلجھ کر خوف ناک آوازیں نکال رہی تھیں۔ اندھیرے میں درختوں کے ہیولے بڑے بڑے بھتنوں کی طرح لگ رہے تھے۔ وہ دہشت زدہ ہو کر گھوم گھوم کر چاروں جانب دیکھنے لگا، لیکن وہاں اس کے علاوہ اور کوئی ذی روح نہ تھا۔

یک لخت کوئی پرندہ کسی درخت سے اڑا اور کٹیلی آواز نکالتا ہوا کسی سمت چلا گیا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آپھنسا۔ پرندے کی یہ اضطراری حرکت خارج از علت نہ تھی۔ ضرور اس کے پیچھے کوئی بات تھی۔ کیا بات تھی۔۔۔ وہ جان نہ سکا۔ وہ آدمی تیزی سے ایک جانب قدم بڑھانے لگا۔ وہ جلد از جلد اس جگہ سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔ گرتا پڑتا، جھاڑیوں اور درختوں کی گری ہوئی سوکھی شاخوں سے اُلجھتا ہوا وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ سانسیں تھیں کہ قابو میں نہیں آ رہی تھیں۔ اسے اب بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ بار بار وہ پلٹ کر اپنے عقب میں دیکھ رہا تھا، لیکن عقب میں صرف اندھیرے ہی متعاقب تھے۔ اچانک اندھیرے میں وہ کسی درخت کے مضبوط تنے سے ٹکرا گیا اس کے منہ سے سسکی سی نکل گئی۔ اب جو وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر درخت کے تنے کو دیکھتا ہے تو اس کا دم ہی نکلنے لگا۔

وہ درخت کا تنا نہیں تھا، کیوں کہ درخت کا تنا حرکت کر سکتا ہے اور نہ وہ گہری گہری سانسیں لے سکتا ہے۔ وہ کچھ اور ہی شے تھی۔ زندہ شے۔ جو سانسیں لے رہی تھی اور اپنی لال شعلے برساتی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔ معاً اس نے اپنے درخت کی موٹی شاخوں جیسے بازو بڑھائے اور خوف سے بے حس و حرکت کھڑے آدمی کو دبوچ لیا۔ اس آدمی کے منہ سے دہشت میں بھیگی ہوئی ایک دل دوز چیخ نکلی۔ اس عفریت نے اس سے کہیں زیادہ بھیانک دھاڑ ماری اور اس آدمی کے دونوں کندھوں کو مخالف سمتوں میں کھینچ ڈالا۔ کیا منظر تھا۔ وہ آدمی اپنی زندگی کی آخری موت گرفتہ چیخوں کے ساتھ کسی کپڑے کی طرح درمیان میں سے پھٹتا چلا گیا۔ خون کے آبشار کے ساتھ اس کا دل، آنتیں اور گردے پھیپھڑے وغیرہ باہر نکل کر جھولنے لگے۔ پیٹا نکل کر بھد سے کچی زمین پر گر گیا تھا۔
اس بلا نے آدمی کے مرتے ہی فاتحانہ انداز میں دھاڑ ماری تھی، جو جنگل کے آخری سرے تک گئی۔ مرنے والے کے دونوں ٹکڑے بلا کے ہاتھوں میں جھول رہے تھے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: