...................... .................

شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین شالامار باغ لاہور

آپ ان سرکردہ صوفیاء میں سے ہیں جنہوں نے خدا کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر پہنچایا
منصور مہدی…
شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین ایک صوفی اور پنجابی شاعر تھے جو فقیرِ لاھور سے معروف ہیں۔ آپ 1539ءلاھور میں پیدا ھوئے۔آپ کے والد کا نام شیخ عثمان تھا جوکہ کپڑا بننے کا کام کرتے تھے۔ آپ کے دادا ہندو تھے جو فیروز شاہ تعلق کے دور میں دائرہ اسلام میں داخل ھوئے تھے۔
شاہ حسین کاخاندانی نام ڈھاڈھا حسین تھا۔ آپکی پیدائش کے وقت آپ کے والد ٹکسالی دروازے کے باھر راوی کے کنارے آباد ایک محلے میں رھائش پزیر تھے جو تل بگھ کہلاتا تھا۔
شاہ حسین کا زمانہ مغلیہ سلطنت میں احیائے دین کی تحریکوں کا زمانہ تھا۔ جس کا رد عمل قادریہ مسلک کی صورت میں مروجہ صوفیانہ بغاوت کے علمبردار کے حیثیت سے سامنے آیا۔ اسی زمانہ میں چنیوٹ کے قادری صوفی شیخ بہلول نے لاھور میں کم سِن شاہ حسین کو دیکھا تو مبہوت رہ گئے۔ آپ مولانا ابوبکر سے قرآن شریف کا ساتواں پارہ حفظ کر رھے تھے۔ حضرت بہلول جب مکتب میں آئے تو حضرت شاہ حسین کی روشن پیشانی اور ذہین آنکھیں دیکھ کر مولانا ابوبکر سے پوچھا کہ اس لڑکے کا کیا نام ہے اور یہ کیا پڑھتا ھے۔ انہوں نے عرض کی کہ اس کا نام شاہ حسین ہے اور ساتواں پارہ حفظ کر رہا ھے۔ انہوں نے شاہ حسین کو اپنے حلقے میں شامل کر لیا اور خصوصی توجہ سے تربیت کرنے لگے۔ شاہ حسین کے شب و روز عبادتوں اور ریاضتوں میں بسر ھونے لگے۔ حضرت بہلول نے انہیں روحانیت سے نوازا۔ تاھم یہ دل لگی اس جہاں گرد کے قدموں کی زنجیر نہ بن سکی۔ وہ رقص کرتے ‘ وجد میں رھتے ‘ دھمال ڈالتے اور لال رنگ کے کپڑے پہنتے۔ اسی بنا پر لال حسین کے نام سے مشہور ھوگئے اور اپنے حال میں مست رھے۔
جب حضرت بہلول کا فریضہ سرانجام ھوا تو شاہ حسین سے وقت رخصت کہا کہ اے حسین! یہاں لاھور میں جناب حضرت عثمان بن علی ھجویری گنج بخش کا مزار پر انوار ھے۔ جب ھم چلے جائیں تو غم نہ کرنا ھم نے تم کو حضرت عثمان بن علی ھجویری گنج بخش کے سپرد کر دیا ھے۔ اب ھمارے بعد ان کے آستانے پر حاضری دینا ‘ وھی تمہارے رھنما اور راھبر ھونگے اور تمہیں منزل تک پہنچائیں گے۔ شاہ حسین نے عبادت و ریاضت کو زندگی کا اولین مقصد بنا لیا۔ بارہ سال متواتر حضرت عثمان بن علی ھجویری گنج بخش کے مزار پر حاضری دیتے رھے۔ شاہ حسین کو یہ انفرادیت حاصل ھے کہ ان کے مرشد کامل خود چل کر ان کے شہر میں آئے۔ ان کو راہ ھدایت دکھائی۔ اس وقت آپ کی عمر چھتیس برس تھی۔
اس دوران شیخ سعد اللہ نامی ایک درویش لاھور آ نکلے۔ اس نے زمانے کی نرمی گرمی کا ذائقہ چکھا تھا۔ جہاندیدہ تھے ‘ باغی تھے ‘ خودسر ‘ بے نیاز و بے پرواہ تھے۔ شاہ حسین بھی اپنے خاندانی پس منظر ‘ طبقاتی صورت حال اور شیخ بہلول کے اثرات کی بنا پر بغاوت کی جانب مائل تھے۔ بغاوت کو مجسم دیکھا تو گرویدہ ھوگئے۔ حقیقت اعلیٰ کا علم عطا کرنے کی التجا کی۔ شیخ سعد اللہ بھی مردم شناس تھے۔ تفسیر مدارک اٹھائی اور درس دینے لگے۔ ” و ماالحیوٰة الدنیاالالہو ولعب” تک بات پہنچی تو کرامت کا ظہور ھوا اور پتھر ھیرا بن گیا۔ اس لمحے شاہ حسین نے نیا جنم لیا۔
آپ ناچتے کودتے مسجد سے باھر نکلے اور تفسیر مدارک کی کتاب مدرسہ کے باھر واقع کنویں میں پھینک دی۔ آپ کے ساتھی طالب علم بہت ناراض ھوئے اور انہوں نے لعن طعن کی۔ آپ نے فرمایا کہ میں اب اس کتاب سے گزرا ‘ اگر تم لوگوں کو مطلوب ھے تو لو۔ یہ کہتے ھی پانی کی طرف مخاطب ھوکر حکم دیا ”اے پانی ھمارے دوست کتاب کے پھینکنے پر خفا ھوگئے ھیں ‘ ھماری کتاب واپس دے دے۔” قدرتِ الٰہی دیکھئے کہ کتاب کنوئیں سے خود ھی باھر آ گئی اور اس کے اوراق بھی خشک تھے۔ آپ کے ساتھی یہ کرامت دیکھ کر بہت حیران ھوئے اور تمام شہر میں اس کا چرچا ھوا۔
زندگی کے ایک حصے میں شاہ حسین کی مادھو سے ملاقات ھوئی۔ مادھو ایک برھمن زادے تھے۔ برھمن زادے نے ان کی خود اعتمادی ‘ خود پر ستی اور حق شناسی کے آئینے کو ایک ھی نظر میں چور چور کر دیا۔ کئی برس اسی تعلق میں گزار دیے۔ بالآخر مادھو نے اپنا دین ‘ ایمان دوست پر نچھاور کر دیا اور زندگی ان کی دلجوئی کے لئے وقف کر دی۔ ان دو افراد کا تعلق اتنا گہرا ھوگیا کہ عوام شاہ حسین کو مادھو لال حسین کے نام سے جاننے لگے۔ شاہ حسین بدستور اپنے طرز معمولات پر قائم مست الست دن بھر گلیوں اور بازاروں میں پھرتے تھے اور رات پچھلے پہر ھر شب کو ختم قرآن کیا کرتے۔
قاضی محمد زمان خان عباسی نے شاہ حسین اور مادھو کے حوالے سے کچھ مختلف بات کی ھے۔ مادھو شاھدرہ کا ایک برھمن زادہ تھا جو بقول تحقیقات چشتی 982ھ میں پیدا ھوا۔ اس وقت شاہ حسین کی عمر 38 سال تھی۔ بقول مصنف تحقیقات چشتی مادھو کی عمر تین برس کی تھی کہ جب وہ شاہ حسین کے منظور نظر ھوئے۔
لاھور میں مخدوم الملک قاضی ا لقضاة تھے۔ اس نے ارادہ کیا کہ شاہ حسین کو تعزیر کرے۔ ایک دن شاہ حسین نے اس کے گھوڑے کو پکڑ کر کھڑا کر لیا اور کہا کہ قاضی صاحب ارکان اسلام کتنے ھیں؟ اس نے کہا کہ پانچ۔ یعنی توحید ‘ حج ‘ زکوٰة ‘ نماز ‘ روزہ۔ آپ نے فرمایا کہ توحید خدائے تعالیٰ کی وحدانیت ھے ‘ اس میں تو اور ھم دونوں شریک ھیں، دوسرے حج اور زکوٰة سو ان دونوں کو تم نے ترک کیا اور بقیہ جو دو یعنی نماز روزہ تھے ‘ ان کو میں نے ترک کیا۔ پس اس کا کیا باعث ھے کہ دو ارکان اسلام کے ترک میں حسین لائق تعزیر ھو اور آپ محفوظ رھیں۔ یہ سن کر قاضی خاموش ھوئے اور اس کے دل پر کچھ ایسی تاثیر ھوئی کہ اس کے بعد کبھی بھی وہ شاہ حسین کے لیے باعث تکلیف نہ بنا۔
ایک دن اکبر بادشاہ کے حکم کے مطابق دلّا بھٹی کو گرفتار کرکے لاھور لایا گیا۔ حکم شاھی تھا کہ دلّا بھٹی کو بمقام ”نخاس” پھانسی دیویں۔ دلّا بھٹی نے شہنشاہ اکبر کے خلاف بغاوت کی ھوئی تھی۔ ملک علی کوتوال دلّا بھٹی کو پھانسی دینے کے واسطے آیا ھوا تھا۔ شاہ حسین بھی وھاں آ پہنچے اور دلّا بھٹی کو دیکھنے لگے۔ لوگ شاہ حسین کے اردو گرد جمع ھوئے تو شاہ حسین نے لوگوں سے کہا کہ "دلّا بھٹی پنجاب کا غیرت مند بیٹا ھے۔ پنجاب کا کوئی غیرت مند بیٹا کبھی پنجاب کی سر زمین کو فروخت نہیں کرے گا” اور شعر کہا کہ ” کہے حسین فقیر سائیں دا ۔ تخت نہ ملدے منگے۔” لوگوں نے کوتوال کو خبر دی کہ شاہ حسین کیا کہہ رھے ھیں۔ کوتوال ملک علی نے اسی وقت آپ کو گرفتار کیا۔ بحکم ملک علی شاہ حسین کے پاﺅں میں زنجیر ڈالی گئی۔ قدرت الٰہی سے وہ زنجیر اسی وقت ٹوٹ گئی۔ پھر پہنائی پھر ٹوٹ گئی۔ وہ حیران ھوا۔ شاہ حسین نے اس سے کہا کہ مجھ کو چھوڑ دے۔ اس نے کہا کہ تو جادوگر ھے۔ میں تجھے اب ایسی میخ ماروں گا کہ جاں بر نہ ھوگا۔ شاہ حسین نے کہا کہ اس سے پہلے کہ تم مجھے میخ مارو ‘ تم کو میخ لگے گی۔
اسی اثنا میں فرمان اکبر بنام ملک علی پہنچا کہ دلّا بھٹی کو پھانسی جلد تر دے اور دار کھینچے جانے کے وقت دلّا بھٹی جو گفتگو کرے ‘ ھم کو اس کی رپورٹ کرو۔ ملک علی نے اسی وقت دلّا بھٹی کو دار پر چڑھایا اور دلّا بھٹی نے بوقت دار اکبر کو ھزارھا گالیاں دیں۔ پھانسی دینے کے بعد ملک علی کوتوال نے عرضی بحضور اکبر بدیں مضمون لکھی کہ بوقت دار دلابھٹی نے فلاں فلاں گالیاں آپ کو دیں اور تمام حال حضرت شاہ حسین کا بھی لکھا کہ اس طرح اتنی دفعہ زنجیر اس کے پاﺅں سے ٹوٹ گئی تھی۔ جب وہ عرضی اکبر نے سنی تو کہنے لگا اس پاجی ملک علی نے کچھ خیالِ ادب نہ کیا اور تفصیل وار گالیاں درج عریضہ کردیں۔ اسی وقت حکم دیا کہ ملک علی کے سفر میں میخ ٹھونکیں اور اس سے اس کو ماریں۔ الغرض وہ اسی طرح سے مارا گیا اور تمام شہر میں شاہ حسین کی یہ کرامت مشہور ھوئی اور تابہ اکبر پہنچی۔ وہ سن کر حیران ھوا۔”
شاہ حسین پنجاب کے ان سرکردہ صوفیاء میں سے ھیں جنہوں نے پنجاب میں خدا کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ پنجاب کے چند صوفی دانشوروں کی طرح حسینی فکر بھی عقل کی جگہ حس پر زیادہ توجہ دیتی تھی۔ شاہ حسین نے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا اور موسیقی آمیز شاعری کے ذریعے اپنے افکار و نظریہ کو خاص و عام میں فروغ دینے کی کوشش کی۔ شاہ حسین ‘ صاحب حال صوفی تھے ان پر جو کیفیات گزرتیں ‘ سادہ زبان میں بیان کر دیتے۔ قوتِ مشاہدہ کی بدولت ان کی شاعری کے سادہ الفاظ میں گہرے معنی پائے جانے لگے اور ان کی کافیوں میں استعمال کیے گئے عام الفاظ علامتوں کا روپ دھارنے لگے۔ صوفیانہ اظہار کی یہ صورت بعد ازاں پنجاب کی شاعری میں ایک صنف بن گئی اور عشقِ حقیقی میں ڈوبے ایک درویش صفت اور مست الست انسان کی آواز خطہ پنجاب سے نکل کر دیکھتے دیکھتے پاک و ھند میں پھیلنے لگی۔
شاہ حسین کے مطابق طالب اور مطلوب کے درمیان رابطے کے لئے کسی تیسری ذات کی موجودگی اور اس کا فعال تعاون ‘ بے حد ضروری ھے۔ تاریخ دانوں نے لکھا ھے کہ مغلیہ حاکموں کی بہت سی بیگمات اور شہزادیاں شاہ حسین کو اپنا بزرگ مانتی تھیں مگر شاہ حسین شاھی خانوادے کے اِس التفات سے بے نیاز تھے اور اپنے ڈھنگ کی زندگی بسر کرتے تھے۔
یہ ا±س عہد کی داستان ھے جب ایک طرف اکبر زمینوں کا بادشاہ تھا تو دوسری طرف سخن کی سلطنت پر شاہ حسین کی حکمرانی تھی۔ تان سین اکبر کا درباری گویا تھا تو شاہ حسین نے راگ پر کمال حاصل کیا اور اسے دربار سے نکال کے پہلی بار پنجابی کافی کی صورت میں عام لوگوں کی چیز بنا دیا۔ یہی کافیاں وہ لاھور کے گلی کوچوں میں گاتے اور لوگوں کے دلوں میں اللہ کی بڑائی اجاگر کرتے رھے۔
لاھور میں برس ھابرس تک درو یشانہ رقص و سرود کی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش 1599ءمیں اللہ کو پیارا ھوگئے۔ ان کی قبر اور مزار لاھور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ھے۔ ھر سال میلہ چراغاں کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ھے۔

جواب لکھیں