...................... .................

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے
اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے
ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے
انہیں اپنا نہیں سکتا مگر اتنا بھی کیا کم ہے
کہ کچھ مدت حسیں خوابوں میں کھو کر جی لیا میں نے
بس اب تو دامنِ دل چھوڑ دو بے کار امیدو
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے

جواب لکھیں