...................... .................

رومی کی تلاش

‘جب میں مر جاؤں، تو میرا مزار زمین پر نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں ڈھونڈنا۔’

یہ مولانا جلال الدین رومی (1273-1207) کی قبر کے کتبے پر لکھی ہوئی عبارت ہے؛ ایک ایسی پیشنگوئی، جو 13 ویں صدی سے اب تک درست ثابت ہوتی رہی ہے۔

مولانا رومی کی شاعری ان کی وفات کے سات صدیوں بعد بھی مختلف ممالک اور ثقافتوں کے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہی ہے۔ ایک مسلمان عالم دین جو کہ بعد میں تصوف کی طرف راغب ہوئے، انہیں آج تک کا سب سے بہترین فارسی شاعر مانا جاتا ہے اور انہیں تصوف میں بھی بہت بڑا مقام حاصل ہے۔

مولانا رومی افغانستان کے علاقے بلخ میں پیدا ہوئے، اور اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ ترکی کے شہر قونیہ میں گزارا، اور یہیں پر دفن ہوئے۔ 17 دسمبر 2014 کو ان کا 741 واں عرس تھا۔ دو ترک دوستوں کی مہربانی کی وجہ سے میں اس دن قونیہ جانے اور مولانا رومی کی یاد تازہ کرنے کے قابل ہوا۔

استنبول سے قونیہ تک کی ہماری مختصر فلائٹ نے جب لینڈ کیا تو درجہ حرارت صفر کے آس پاس تھا۔ لیکن ٹھنڈ کے باوجود مولانا میوزیم گرم تھا، اور سکیورٹی اور رکھ رکھاؤ کے عام طور پر پائے جانے والے پریشر بھی موجود نہیں تھے۔ ترکی میں مولانا رومی کو عام طور پر مولانا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی، جبکہ کئی نے رنگ برنگے اسکارف پہن رکھے تھے۔

سب ہی لوگوں کے لیے توجہ کا پہلا مرکز مزار تھا۔ قطار وہاں سے آہستہ آہستہ گزرتی رہی اور کیمرا کلک ہوتے رہے۔

یہ بہت ہی روح پرور تجربہ تھا۔ اور ہونا بھی چاہیے تھا۔ مولانا رومی خود اپنے چاہنے والوں کے لیے ہی اب تک ایک معمہ ہیں، جو انہیں صرف فارسی سے ترجمہ کیے گئے ان کے مشہور اشعار کی بدولت ہی جانتے ہیں۔

1

ان کے میوزیم جانا، ان کا مزار اور ان سے منسوب ان کی ذاتی استعمال کی اشیاء دیکھنا مولانا رومی کی زندگی سے پردہ اٹھاتا ہے۔

جو کوئی بھی رومی کو جانتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ ان کا راستہ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔ خدا سے تعلق کی چاہ اور عاجزی اس محبت کا لازمی جزو ہیں۔

دستک دو، وہ دروازہ کھولے گا

گم ہوجاؤ، وہ تمہیں سورج کی طرح چمکائے گا

گر جاؤ، وہ تمہیں آسمان تک بلند کر دے گا

فنا ہو جاؤ، وہ تمہیں لافانی کر دے گا

مولانا رومی کا زیادہ تر کام فارسی میں ہے اور 700 سال قدیم ہے، لیکن عالمی سطح پر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کل ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر مولانا رومی کے اشعار پھیلائے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ٹوئٹر پر ، تو آپ کو مستقل اکاؤنٹس ملیں گے جو روزانہ ان کے اشعار ٹویٹ کرتے ہیں۔

مجھے یہ جان کر بھی بہت حیرانی ہوئی تھی کہ مولانا رومی کی شاعری امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کاموں میں سے ہے۔ رومی کی شاعری پر امریکی شاعر کولمین بارکس کی کتابیں بھی اتنی ہی شہرت کی حامل ہیں۔

مولانا رومی کے بارے میں ایک اچھی دستاویزی فلم  سن 1998 میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ بھی ایک امریکی پراجیکٹ تھا اور اس میں کولمین بارکس بھی شامل ہیں۔ میں نے پایا کہ امریکہ میں ان کے چاہنے والوں کے A Gift of Love نامی ایک اور پراجیکٹ، جو مولانا کی شاعری اور موسیقی پر مبنی ہے، کو یوٹیوب پر دس لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

مولانا میوزیم سے باہر آتے ہوئے میں ان کے پیغامِ محبت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ میری نظر اخبارات کی ہیڈ لائنز پر پڑی جن میں پشاور حملے کی شہہ سرخیاں اور ہلاک ہونے والوں کی تصاویر موجود تھیں۔ 16 دسمبر کو طالبان نے اسکول پر حملہ کر کے 100 سے اوپر بچوں کو قتل کر دیا تھا۔

ان شہہ سرخیوں کو دیکھنا بہت ہی تکلیف دہ تھا۔ پشاور حملے کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے میں حیرت میں پڑ گیا کہ آخر کیسے طالبان اور رومی ایک ہی مذہب کے ماننے والے ہیں اور کس قدر متضاد ہیں۔

مولانا رومی کا اثر برِصغیر میں کافی موجود ہے۔ ان کو پسند کرنے والے بڑے ناموں میں سے علامہ اقبال بھی ہیں۔

علامہ اقبال رومی سے جیسے متاثر ہوئے، اس کا عکس ان کی نظم ‘پیر و مرید’ (بالِ جبریل، 1935) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ علامہ اقبال اور مولانا رومی کے درمیان اردو اور فارسی میں لکھا گیا ایک تخیلاتی مکالمہ ہے، اور ایک شعر میں اقبال (مرید) رومی (پیر) کو کہتے ہیں:

‘آپ خدا کے چاہنے والوں کے سردار ہیں؛ مجھے آپ کے الفاظ یاد ہیں۔’

صوفی روایات اور رومی کی شاعری پاکستانی موسیقی کا حصہ بنتی رہی ہے۔ اگر آپ نے نصرت فتح علی خان کی مشہور قوالی ‘اللہ ہو’ سنی ہے، تو آپ کو یاد ہو گا کہ اس کا آغاز بھی شمس تبریز کے ذکر سے شروع ہوتا ہے، ایک درویش جنہوں نے رومی کو تصوف کے راستے پر ڈالا۔

کوک اسٹوڈیو پاکستان اور ہندوستان میں بنائے گئے کئی گانے صوفی روایات پر قائم ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجابی صوفی شاعر بلھے شاہ (1757-1680) کی نظم ‘بلھا کی جانا میں کون’، جسے ربی شیرگل نے گا کر مشہور کیا، بھی رومی کی فارسی شاعری سے متاثر معلوم ہوتی ہیں۔

رومی اور گھومتے درویشوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب مولانا رومی شاعری کرتے اور دہراتے، تو ایسے ہی گھوما کرتے تھے، اور اسی دوران ان کے طلبا ان کے اشعار لکھ لیا کرتے تھے۔ مولانا کلچرل سینٹر میں محفلِ سماع اور گھومتے درویشوں کی پرفارمنس دیکھنا بھی ایک اور روح پرور تجربہ تھا۔

کلچرل سینٹر کا ماحول بھی ویسا ہی سکون بخش تھا جیسا کہ مولانا میوزیم کا، اور یہاں پر بھی خواتین مردوں سے کافی زیادہ تعداد میں تھیں۔ جب سفید کپڑوں میں ملبوس درویش ہال میں داخل ہوئے، تو تمام لوگ احترام میں خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک منفرد اور دلفریب پرفارمنس کا آغاز ہوا۔

یونیسکو نے سماع کی تقریب کو انسانی میراث کے گرانقدر نمونوں میں شمار کیا ہے۔ شرکاء کو منتظمین کی جانب سے ایک کتابچہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق درویشوں کا گھومنا درحقیقت انسان کا سچ کی جانب سفر ہے، جس کے دوران انہیں اپنے ذہنوں کو محبت سے بھرنا اور انا سے خالی کرنا ہوتا ہے۔ در حقیقیت درویشوں کی لمبی ٹوپی ان کی انا کے مزار کی علامت ہوتی ہے۔

میں نے قونیہ میں اس پرفارمنس کو اپنے موبائل میں ریکارڈ بھی کیا۔

ایک تصور شہرت پا جائے، تو اس کے کافی امکانات ہوتے ہیں کہ اس کا استعمال دیگر مقاصد کے لیے بھی کیا جائے۔ مولانا رومی کی شاعری اور ان کا طریقہ بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا۔ طریقہ رومی جس کی بنیاد ان کے بعد ان کے بیٹوں اور مریدوں نے ڈالی تھی، اکثر اوقات سیاسی محاذ آرائیوں میں الجھ چکا ہے، اور 1925 میں اس پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ روایتی سماع میں سے بھی مذہبی مواد نکال کر سیاحوں کی طبیعت کے موافق کر دیا گیا ہے۔

سماع کا کمرشل استعمال بھی بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ روحانیت کے پیغام کے بجائے صرف ایک تفریح بنتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ رومی کی صدیوں پرانی فارسی شاعری کو جدید انگلش زبان کے الفاظ جیسے Love وغیرہ کی مدد سے سمجھنا پڑھنے والوں کی روحانی آبیاری کے بجائے انہیں گمراہ کرتا ہے۔

صاف الفاظ میں کہا جائے تو اسلام میں صوفی ازم بغیر تنقید کے نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک تنقید مشہور عالمِ دین جاوید احمد غامدی نے بھی کی، لیکن اپنے مخصوص دھیمے انداز میں۔

صوفی ازم کے جذبات سے بھرپور پیغام اور اس پر ہونی والی تنقید کو دیکھتے ہوئے دونوں میں ہم آہنگی لانا مشکل ہے لیکن مولانا رومی کے کچھ ہی چاہنے والے ان بحثوں سے واقف ہوں گے۔ جو چیز وہ جانتے ہوں گے، وہ یہ کہ ان کا طریقہ صرف اور صرف خدا کی محبت ہے، نہ ہی فقہ اور نہ ہی سیاست۔ اور محبت جیسا کہ ہم جانتے ہیں روایتی طور طریقوں سے آزاد ہوتی ہے۔

جیسا کہ رومی دیوانِ شمس تبریز میں ‘چرواہے کی دعا’ میں کہتے ہیں:

‘محبت کا مذہب تمام مذاہب سے الگ ہے۔ خدا کے چاہنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، سوائے خدا کے۔’

جواب لکھیں