...................... .................

بے خبری کا فائدہ

سعادت حسن منٹو

لبلبی دبی ۔۔۔۔ پستول سے جھنجھلا کر گولی باہر نکلی۔

کھڑی میں سے باہر جھانکنے والا آدمی اسی جگہ دوہرا ہو گیا۔

لبلبی تھوڑی دیر کے بعد پھر دبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری گولی بھنبھناتی ہوئی باہر نکلی۔

سڑک پر ماشکی کی مشک پھٹی۔ اوندھے منہ گرا اور اس کا لہو مشک کے پانی میں حل ہو کر بہنے لگا۔

لبلبی تیسری بار دبی ۔۔۔۔۔۔۔ نشانہ چوک گیا۔ گولی ایک گیلی دیوار میں جذب ہو گئی۔

چوتھی گولی ایک بوڑھی عورت کی پیٹھ میں لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چیخ بھی نہ سکی اور وہیں ڈھیر ہو گئی۔

پانچویں اور چھٹی گولی بیکار گئی۔ کوئی ہلاک ہوا نہ زخمی۔

گولیاں چلانے والا بھنا گیا۔ دفعتہً سڑک پر ایک چھوٹا سا بچہ دوڑتا دکھائی دیا۔ گولیاں چلانے والے نے پستول کا منہ اس طرف موڑا۔

اس کے ساتھی نے کہا۔ “یہ کیا کرتے ہو؟”

گولیاں چلانے والے نے پوچھا۔ “کیوں؟”

“گولیاں تو ختم ہو چکی ہیں۔”

“تم خاموش رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے سے بچے کو کیا معلوم۔”

جواب لکھیں