...................... .................

جائز استعمال …… سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو ……

دس راؤنڈ چلانے اور تین آدمیوں کو زخمی کرنے کے بعد پٹھان آخر سرخ رو ہو ہی گیا۔

ایک افراتفری مچی تھی۔ لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے، چھینا جھپٹی ہو رہی تھی، مار دھاڑ بھی جاری تھی۔ پٹھان اپنی بندوق لئے گھسا اور تقریباً ایک گھنٹہ کشتی لڑنے کے بعد تھرموس بوتل پر ہاتھ صاف کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

پولیس پہنچی تو سب بھاگے ۔۔۔۔۔ پٹھان بھی۔

ایک گولی اس کے داہنے کان کو چاٹتی ہوئی نکل گئی، پٹھان نے اس کی بالکل پروا نہ کی اور سرخ رنگ کی تھرموس بوتل کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے رکھا۔

اپنے دوستوں کے پاس پہنچ کر اس نے سب کو بڑے فخریہ انداز میں تھرموس بوتل دکھائی۔ ایک نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ “خان صاحب آپ یہ کیا اٹھا لائے ہیں۔”

خان صاحب نے پسندیدہ نظروں سے بوتل کے چمکتے ہوئے ڈھکنے کو دیکھا اور پوچھا۔ “کیوں؟”

“یہ تو ٹھنڈی چیزیں ٹھنڈی اور گرم چیزیں گرم رکھنے والی بوتل ہے۔”

خان صاحب نے بوتل اپنی جیب میں رکھ لی۔ “خو ام اس میں نسوار ڈالے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ گرمیوں میں گرم رہے گی، سردیوں میں سرد۔”

جواب لکھیں