...................... .................

ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر

ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر
ثبت پھیلی ہوئی باہوں پہ حرارت اس کی
وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو
ابھی محسوس کئے جاؤ رفاقت اس کی
وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میں
میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی
بے طلب جینا بھی شہزاد طلب ہے اس کی
زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی

جواب لکھیں