...................... .................

مال و دولت سے ہمیں کوئی سروکار نہیں

مال و دولت سے ہمیں کوئی سروکار نہیں
ہم تو درویش محبت ہیں‘ خریدار نہیں
ہم نے ہر کیف میں کھوکر تمہیں محسوس کیا
پھر یہ الزام کہ ہم تیرے پرستار نہیں
ہم نے ہر دور میں چھڑکا ہے صلیبوں پہ لہو
کون کہتا ہے کہ ہم صاحب کردار نہیں
مانی نے ہر شخص کو جینے کی ادائیں بخشیں
پھر بھی یہاں اس کا کوئی وفادار نہیں

جواب لکھیں