...................... .................

اک درد بھری شب کا انجام بھی کیا نکلا

اک درد بھری شب کا انجام بھی کیا نکلا
یہ دن بھی اگر نکلا‘ سورج سے جدا نکلا
بے مہر تغافل میں رست تری چاہت کا
کس سمت کا جوتا تھا‘ کس سمت کو آنکلا
دل عشق کے پیچوں نے اس طور سے الجھایا
جب ڈور کو دیکھا تو کوئی نہ سرا نکلا
کیا رنگ وفاداری‘ اس میرے ستمگر کا
ہر رنگ جدا ٹھہرا‘ ہر طور جدا نکلا

جواب لکھیں