...................... .................

یاد کی چڑیاں بولتی ہيں

یاد کی چڑیاں بولتی ہيں
ہم ہيں چُپ خاموش اُداس
تن من دھن سب ہار دیا
ہاری ناہیں تیری آس
ہم جانیں ہیں دنیا کو
ہم نے کا ٹا ہے بَن باس
جِند نمانی سوکھی ڈال!
پیار تھا تیرا بیل آکاس
بستی میں کیوں آن بسا
بَن بیلے کا خوف ہراس
ہم نہيں آئے تُو آئے
من پاگل میں سو وسواس
ایک حویلی کے باسی !
غالب ،ملٹن، کالی داس
فہمی ،اپنا جیون کیا؟
برف کے نیچے سوکھی گھاس

جواب لکھیں