...................... .................

تم مرے پیار کے آخری موڑ پر،ناگہاں کیوں شریکِ سفر ہوگئے

تم مرے پیار کے آخری موڑ پر،ناگہاں کیوں شریکِ سفر ہوگئے
ٹھوکریں کھا کے آتا ہے مجھ کو مزا، تم مرے ساتھ کیوں دربدر ہوگئے

میں تو پہلے ہی منزل سے محروم تھا، راستے ہیں کٹھن،مجھ کو معلوم تھا
غم تو اس بات کا ہے کہ میرے لیے، تم بھی حالات سے بے خبر ہو گئے

آج کی قربتیں کل کی ہیں دوریاں،ساتھ انساں کے ہیں لاکھ مجبوریاں
میں تو شکوہ بھی تم سے نہ کر پاؤں گا، مجھ سے مل کر جدا تم اگر ہو گئے

تلخ لفظوں میں شیرینیاں گھول کر،دل دکھانا مرا تم بھی سچ بول کر
میں تو کروں گا تسلیم اُن کا بھی حق، جو ہوس کار اہل نظر ہو گئے

عمر چاہے ملے مجھ کو سو سال کی،وہ تو ہوگی سزا میرے اعمال کی
حاصلِ زندگی ان کو سمجھوں گا میں،دن تری یاد میں جو بسر ہو گئے

ہنس رہی ہے جلا کر جوانی مِری، خود فریبی کی عادت پُرانی مری
کیا بتاؤں قتیلؔ آج اک بار پھر، جو مسیحا تھے بیدار گر ہو گئے

بند ہے زندگی جبر کے خول میں،کیا جیئں ہم قتیلؔ ایسے ماحول میں
جس قدر چور تھے ان کو دولت ملی،جتنے کم ظرف تھے معتبر ہو گئے

جواب لکھیں