...................... .................

جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہے

جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہے

دیکھو مرے تن پر مرا سر ہے کہ نہیں ہے

اس شہرِندامت سے جو آئے ہیں پلٹ کر

در پیش نیا ان کو سفر ہے کہ نہیں ہے

یاروں کو بُہت پیار ہے زندانِ وفا سے

لیکن کِسی دیوار میں در ہے کہ نہیں ہے

ملتی ہو ضیا جس کو چراغوں کی لوؤں سے

اس شہر میں ایسا کوئی گھر ہے کہ نہیں ہے

چہرے پہ سجا لایا ہوں میں دل کی صدائیں

دُنیا میں کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں ہے

سورج کی گذرگاہ بنے شاخ نہ جس کی

ایسا کوئی رستے میں شجر ہے کہ نہیں ہے

جذبات کی ٹھنڈک سے ٹھٹھرتے ہوئے لوگو

حالات کے سورج سے مفر ہے کہ نہیں ہے

برسات میں کوئل سی جہاں کوک رہی تھی

آباد وہ خوابوں کا نگر ہے کہ نہیں ہے

ٹوٹی ہوئی مسجد میں کھڑا دیکھ رہا ہوں

محفوظ شوالے کا گجر ہے کہ نہیں ہے

کیوں تیرا گریباں ہے قتیلؔ اب بھی سلامت

کچھ تجھ پہ نئی رُت کا اثر ہے کہ نہیں ہے

جواب لکھیں