...................... .................

تہہ میں جو رہ گئے ، وہ صدف بھی نکالئے

تہہ میں جو رہ گئے ، وہ صدف بھی نکالئے
طغیانیوں کا ہاتھ سمندر میں ڈالئے

اپنی حدّوں میں رہیے کہ رہ جائے آبرو
اوپر جو دیکھنا ہے تو پگڑی سنبھالئے

خوشبو تو مدتوں کی زمیں دوز ہو چکی
اب صرف پتیوں کو ہوا میں اُچھالیے

صدیوں کا فرق پڑتا ہے لمحوں کے پھیر میں
جو غم ہے آج کا،اُسے کل پر نہ ٹالئے

آیا ہی تھا ابھی مرے لب پر وفا کا نام
کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اُٹھالیے

کہہ دو صلیبِ شب سے کہ اپنی منائے خیر
ہم نے تو پھر چراغ سروں کے جلا لئے

دنیا کی نفرتیں مجھے قلاش کر گئیں
اِک پیار کی نظر مرے کاسے میں ڈالئے

رسوائیوں کا آپ کو آیا ہے اب خیال؟
ہم نے تو اپنے دوست بھی دشمن بنا لئے

ساحل کے انتظار میں چکرا گیا ہوں میں
مجھ کو مری وفا کے بھنور سے نکالئے

محسوس ہو رہا ہے کچھ ایسا مجھے قتیلؔ
نیندوں نے جیسے آج کی شب پر لگالئے

جواب لکھیں