...................... .................

تو نے یہ پھول جو زلفوں میں سجا رکھا ہے

تو نے یہ پھول جو زلفوں میں سجا رکھا ہے
ایک دیا  ہے جو اندھیروں میں جلا رکھا ہے

جیت لے جاے مجھے کوئی نصیبوں والا
زندگی نے مجھے داؤ پہ لگا رکھا ہے

جانے کب دل میں کوئی جھانکنے والا آ جاے
اس لیے میں نے گریبان کھلا رکھا ہے

امتحان اور میرے ضبط کا تم کیا لو گے ؟
میں نے دھڑکن کو بھی سینے میں چھپا رکھا ہے

دل تھا اک شعلہ مگر بیت گئے دن وہ قتیل

اب کریدو نہ اسےراکھ میں رکھا کیا ہے

جواب لکھیں