...................... .................

قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہم

قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہم
کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہم
اب احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہم
دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہم
ان کی نظر میں، کیا کریں، پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہم
کچھ اپنے دل کی خُو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار اُن کی خُو کا گلا کر چکے ہم

جواب لکھیں