...................... .................

یوں سجا چاند کہ چھلکا ترے انداز کا رنگ

یوں سجا چاند کہ چھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرا ہمراز کا رنگ
سایہءچشم میں حیراں رُخِ روشن کا جمال
سرخیءلب میں پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پئے ہوں گے اگر لطف کرو آخرِ شب
شیشہءمے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
چنگ و نَے رنگ پہ تھے، اپنے لہو کے دَم سے
دل نے لَے بدلی تو مدھم ہُوا ہر ساز کا رنگ
اِک سخن اور کہ پھر رنگِ تکلم تیرا
حرفِ سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ

جواب لکھیں